Book Name:Aaqa Ka Pyara Kon?

          حضرتِ سیِّدُناعبداﷲابن عمروبن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ    سے مروی ہے خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا :  جب تم مؤذن کوسنو تو تم بھی اسی طرح کہوجو وہ کہہ رہا ہے ، پھرمجھ پر درودبھیجوکیونکہ جومجھ پرایک درودبھیجتاہے اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے، پھراللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  سے میرے لئے وسیلہ مانگو، وہ جنت میں ایک جگہ ہے جو اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے بندوں میں سے ایک ہی کے لائق ہے مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں تو جو میرے لئے وسیلہ مانگے اس پرمیری شفاعت لازم ہے۔(مسلم، کتاب الصلاۃ ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن۔۔۔۔الخ، ص۲۰۳، حدیث : ۳۸۴)

             مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان   اِس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں : اس سے معلوم ہوا کہ کلمات اذان سارے دہرائے ’’حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ‘‘بھی’’حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ‘‘بھی اور’’اَلصَّلوٰۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم‘‘ بھی۔ اگلی حدیث میں آرہا ہے کہ ’’حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ‘‘اور’’حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ‘‘پر لَا حَوْلَ  پڑھے۔چاہئے کہ دونوں ہی کہہ لیا کرے تاکہ دونوں حدیثوں پرعمل ہوجائے۔

            مفتی صاحبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   حدیث پاک کے اس حصے ’’اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : اس سے معلوم ہوا کہ اذان کے بعددرودشریف پڑھناسنت ہے ، بعض مؤذن اذان سے پہلے ہی درود شریف پڑھ لیتے ہیں اس میں بھی حرج نہیں، ان کا ماخذ یہ ہی حدیث ہے۔ (علامہ ابن عابدین) شامی نے فرمایا کہ اقامت کے وقت درود شریف پڑھناسنت ہے۔خیال رہے کہ اذان سے پہلے یا بعد بلند آواز سے درود پڑھنا بھی جائز بلکہ ثواب ہے، بلاوجہ اسے منع نہیں کہہ سکتے۔

             مفتی صاحبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   حدیث پاک کے اس حصے ’’پھراللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے میرے لئے وسیلہ مانگو ‘‘  کے تحت فرماتے ہیں : خیال رہے کہ وسیلہ سبب اورتوسل کو کہتے ہیں، چونکہ اس جگہ پہنچنا رب سے قربِ خصوصی کا سبب ہے، اس لئے وسیلہ فرمایا گیا۔حضورصلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم کا فرمانا کہ ’’امیدکرتا ہوں‘‘تواضع اورانکساری کے لئے ہے ورنہ وہ جگہ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  )کے لئے نامزدہوچکی ہے۔

     (مرقاۃ و اشعہ)ہمارا حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ) کے لیے وسیلہ کی دعاکرنا ایسا ہی ہے جیسے فقیرامیرکے دروازے پرصدا لگاتے وقت اس کی جان ومال کی دعائیں دیتاہے تاکہ بھیک ملے، ہم بھکاری ہیں، حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ) داتا، انہیں دعائیں دینا، مانگنے، کھانے کا ڈھنگ ہے۔

             مفتی صاحبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   حدیث پاک کے اس حصے’’جو میرے لئے وسیلہ مانگے اس پرمیری شفاعت لازم ہے ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : یعنی میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس کی شفاعت ضرورکروں گا۔یہاں شفاعت سے خاص شفاعت مراد ہے، ورنہ حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ) ہر مؤمن کے شفیع ہیں۔حضورصلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ  کی شفاعت بہت قسم کی ہے۔شفاعت کی پوری بحث اور اس کی قسمیں ہماری کتاب ’’تفسیرنعیمی‘‘جلدسوم میں دیکھو۔(مراٰۃ المناجیح، ۱/ ۴۱۱)

(حکایت : 16)

 اذان کا جواب دینے والا جنّتی ہوگیا

          حضرت سیِّدُناابوہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   فرماتے ہیں کہ ایک صاحِب جن کا بظاہِرکوئی بہت بڑا نیک عمل نہ تھا ، وہ فوت ہوگئے تو رسولُ اللّٰہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے صَحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضوَانکی موجودَگی میں(غیب کی خبر دیتے ہوئے ارشاد) فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللّٰہ تعالٰینے اسے جنّت میں داخِل کردیا ہے۔اس پرلوگ مُتَعَجِّب ہوئے کیونکہ بظاہران کا کوئی بڑاعمل نہ تھا۔ چُنانچِہ ایک صَحابی  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ    اُن کے گھرگئے اوران کی بیوہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ    اسے پوچھا کہ اُن کا کوئی     خاص عمل ہمیں بتائیے ، تواُنہوں نے جواب دیا :  اورتوکوئی خاص بڑاعمل مجھے معلوم نہیں ، صِرف اتنا جانتی ہوں کہ دن ہویا رات ، جب بھی وہ اذان سنتے توجواب ضَرور دیتے تھے ۔   (تاریخ دِمشق لابن عَساکِر ج۴۰ص ۴۱۲، ۴۱۳ مُلَخّصاً)

اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اُن پررَحمت ہو اور اُن کے صَدْ قے ہماری مغفرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

گُنَہِ گدا کا حساب کیا وہ اگرچہ لاکھوں  سے ہیں سِوا

مگر اے عَفُوّ تِرے عَفْو کا تو حِساب ہے نہ شُمار ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

ماٰخذ و مراجع

 

نام کتاب

مصنف/مؤلف

مطبوعہ

ترجمۂ کنز الایمان

اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان، متوفی ۱۳۴۰ھ

مکتبۃ المدینہ، باب المدینہ کراچی

تفسیر خازن

علاء الدین علی بن محمد بغدادی، متوفی ۷۴۱ھ

المطبعۃ المیمنیۃ، مصر۱۳۱۷ھ

 



Total Pages: 19

Go To