Book Name:Aaqa Ka Pyara Kon?

            منقول ہے کہ ہارون رشید نے چاراَطِبّاکوجمع کیا ، ان میں ایک ہندوستانی ، دوسرا رومی ، تیسرا عراقی اورچوتھا سَوادی (عراق کے اطراف میں رہنے والا) تھا ، ان سے کہا :  ہر ایک ایسی دوا بیان کرے جسے استعمال کرنے کے سبب کوئی مرض نہ ہو ۔ ہندوستانی حکیم نے کہا :  میری نظر میں وہ سیاہ ہَڑہے ۔ عراقی حکیم نے کہا :  وہ سفید ہالوں (ایک قسم کی بوٹی) ہے ۔ رومی حکیم نے کہا :  میرے نزدیک وہ دوا گرم پانی ہے ۔ اور سَوادی جو کہ اُن میں سب سے زیادہ عِلْمِ طِب میں مہارت رکھتا تھا اس نے کہا :  ہَڑ معدہ میں قبض کر دیتی ہے اور یہ ایک بیماری ہے ، ہالوں معدہ میں چکناہٹ پیدا کرتی ہے اور یہ بھی ایک بیماری ہے ، اور گرم پا نی معدہ کو ڈھیلا کر دیتا ہے اور یہ بھی بیماری ہے۔ ہارون رشید نے کہا :  تمہارے نزدیک وہ کو ن سی دواہے ؟ سَوادی نے کہا :  وہ دوا میرے نزدیک یہ ہے کہ آپ کھانا اُس وقت تک نہ کھا ئیں جب تک آپ کو خواہش نہ ہو اور خواہش ابھی باقی ہو کہ آپ کھانے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیں ۔ ہارون رشید نے کہا :  تم نے  سچ کہا ۔ (احیاء علوم الدین، کتاب کسر الشھوتین، بیان فوائد الجوع، ۳/ ۱۰۸)

 کہیں میں بھوکوں کو بھول نہ جاؤں!

          حضرت ِسیدنا یوسفعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام جب زمین کے تمام خزانوں کے مالک ہوئے تو کبھی بھوکے رہتے اور کبھی جَو کی روٹی تناول فرمالیتے۔ آپعَلَیْہِ السَّلام کی خدمت میں عرض کیا گیا : کیا بات ہے کہ زمین کے خزانوں کے مالک ہونے کے باوجود آپ بھوکے رہتے ہیں؟ارشاد فرمایا :  مجھے اس بات کا خوف ہے کہ پیٹ بھر کر کھانے سے کہیں میں بھوکوں کو بھول نہ جاؤں۔(المستطرف، الباب الحادی والعشرون، ۱/ ۱۹۵)

زیادہ گفتگو باعث ِ ہلاکت ہے

امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا علی بن ابو طالب کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اپنے بیٹے حضرت ِسیدناامام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   سے فرمایا : اپنی زبان کو قابو میں رکھو کیونکہ آدمی کی ہلاکت زیادہ گفتگو کرنے میں  ہے ۔(بحرالدموع، الفصل الثامن والعشرون، فضل الصمت، ص۱۷۵)

ہرلفظ کا کس طرح حساب آہ!میں دوں گا

اللّٰہ  زباں  کا  ہو  عطا  قفلِ  مدینہ       (وسائل بخشش، ص۹۳)

لوہے کا دروازہ ہو

            عَشَرَۂ مُبَشَّرَہ میں شامل صحابی حضرتِ سیِّدُنا سعْد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی    عَنْہُ   فرماتے ہیں :  میں چاہتا ہوں کہ میرے اور لوگوں کے درمیان ایک لوہے کا دروازہ ہو ، نہ مجھ سے کوئی کلام کرے نہ میں کسی سے کلام کروں یہاں تک کہ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ    کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤں ۔ (مختصر منہاج القاصدین، باب العزلۃ، ص۱۱۰)

(حکایت : 15)

کیا تم نے کوئی بات بھی کی ہے؟

          ایک شخص کاتبِ وحی حضرتِ سیِّدُنا امیرِ مُعاوِیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ    کے پاس بیٹھا اِدھر اُدھر کی فضول باتیں کیے جارہا تھا ، جب کافی دیر تک بول چکا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ    سے پوچھنے لگا :  کیا اب میں خاموش ہوجاؤں ؟ یہ سن کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ    نے فرمایا :  کیا تم نے کوئی ’’بات‘‘ بھی کی ہے؟   (عیون الاخبار، کتاب العلم والبیان، جزء۲، ۱/ ۱۹۰)

اپنی زبان پر قابورکھو

    امیرالمؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے ایک دن لوگو ں سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : تمہارا ربعَزَّوَجَلَّ فرماتاہے : اے ابن آدم !تم لوگو ں کو تونیک کام کرنے کی ترغیب دیتے ہو لیکن اپنے آپ کو چھوڑ دیتے ہو، اے ابن آدم!تم لوگو ں کو تو نصیحت کرتے ہو جبکہ اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، اے ابن آدم!تم مجھے پکارتے ہو پھر بھی مجھ سے دور بھا گتے ہو اگر ایسا ہی ہے جیسا تم کہہ رہے ہو تو اپنی زبان کو قابو میں رکھو اور اپنے گناہوں کویاد رکھو اور اپنے گھر میں بیٹھے رہو۔

(بحرالدموع، الفصل الثامن والعشرون، فضل الصمت، ص۱۷۵)

    تو نے کوئی فضول گفتگو کی ہے

     حضرتِ سَیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں : اگر تو اپنے دل میں سختی یااپنے بدن میں سستی یا اپنے رزق میں محرومی دیکھے تو یقین کرلے تو نے کوئی فضول گفتگو کی ہے ۔(بحرالدموع، الفصل الثامن والعشرون، فضل الصمت، ص۱۷۵)

رفتار کا گُفتار کا کردار کا دیدے

ہر عُضو کا دے مجھ کو خدا قفلِ مدینہ

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۷)  اس پر میری شفاعت لازم ہے

 



Total Pages: 19

Go To