Book Name:Aaqa Ka Pyara Kon?

صبر کرو اور خوش ہوجاؤ

          امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ مدینے میں چیزوں کے نِرْخ (یعنی بھاؤ)بڑھ گئے اور حالات سخت ہوگئے توسَروَرِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :

  ’’ صَبْر کرواور خوش ہوجاؤ کہ میں نے تمہارے صاع اور مُد کو بابَرَکت کردیا اور اکٹھّے ہو کر کھایا کرو کیونکہ ایک کا کھانا دو کواور دو کا کھانا چار کو اور چار کا کھانا پانچ اور چھ کو کفایت کرتاہے اور بیشک برکت جماعت میں ہے تو جس نے مدینے کی تنگدستی اور سختی پر صَبْر کیا میں قِیامت کے دن اُس کی شَفاعت کروں گا یا اُس کے حق میں گواہی دوں گا اور جو اس کے حالات سے منہ پھیر کر مدینے سے نکلا اُس سے بہتر لوگوں کو اس میں بسادے گا اور جس نے اہلِ مدینے بُرائی کرنے کا ارادہ کیا اسے اس طرح پگھلادے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔‘‘ ( البحر الزخار، ومما روی عمرو بن دینار۔۔۔الخ، ۱/ ۲۴۰، حدیث : ۱۲۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

    (۱۵) یتیم بچوں کی پرورش کرنے والی ماں

          رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ تقرب نشان ہے : اَ یُّمَا اِمْرَأَۃٍ قَعَدَتْ عَلٰی بَیْتِ اَوْلَادِھَا فَھِیَ مَعِیَ فِی الْجَنَّۃِ یعنی جو عورت اپنی اولاد کے گھر بیٹھی رہے  اُسے جنت میں میرا قرب ملے گا۔(جامع الصغیر، ص۱۸۰، حدیث : ۳۰۰۲)

          حضرت ِعلامہ عبدالرَّء ُوف مناویعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویحدیث پاک کے اس حصے ’’اپنی اولاد کے گھر بیٹھی رہے ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں : ظاہر ہے کہ اپنی اولاد کے گھر بیٹھنے سے مراد عورت کا اپنی یتیم اولادکی وجہ سے شادی نہ کرنا اور اپنی اولاد کی خاطر خرچ میں زیادتی سے اپنے آپ کو روکے رکھنا ہے ۔    

            حضرت ِعلامہ عبدالرؤوف مناوی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویحدیث پاک کے اس حصے ’’اُسے جنت میں میرا قرب ملے گا‘‘ کے تحت لکھتے ہیں : جنت میں بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی معیت (ساتھ)سے مرادیہ ہے کہ جنت میں پہلے جانے والوں میں جو حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ ہوں گے ان میں یہ عورت بھی ہو گی ، جیسا کہ ایک حدیث پاک میں ہے :  میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گا مگر ایک عورت کو دیکھوں گا کہ مجھ سے آگے جلدی کرے گی تو اس سے پوچھوں گا :  ’’ توکون ہے؟ ‘‘تو وہ کہے گی :  ’’میں وہ عورت ہوں جس نے خود کو اپنے یتیم بچوں کی پرورش کے لئے وقف کردیا تھا ۔ ‘‘رہی بات مصطفی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ    وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے درجے کی تو اس درجے میں کوئی بھی حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ نہ ہو گا۔ (فیض القدیر، ۳/   ۲۰۳، تحت الحدیث : ۳۰۰۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۶) تم جنت میں میرے ساتھ ہو گے

          سرکارِمدینۂ منورہ، سردارِمکّۂ مکرّمہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے حضرت ِ سیدناابو ذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   کو مخاطَب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :

یَا اَباذَر اَقِلَّ مِنَ الطَّعَامِ وَالْکَلَامِ تَکُنْ مَعِیَ فِی الْجَنَّۃِ

                           یعنی اے  ابو ذر  !کھانا اور گفتگو کم کرو، تم جنت میں میرے ساتھ ہو گے۔(الفردوس بمأثور الخطاب، ۵/ ۳۴۰، حدیث : ۸۳۶۹)

زیادہ کھانے سے آدمی بیمار ہوتا ہے 

          رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمان ہے  : اے لوگو! زیادہ کھانے سے بچو! کیونکہ یہ نماز میں سستی، بدن کو خراب کرنے اور بیماری کا سبب بنتا ہے۔(موسوعۃ لابن ابی الدنیا ، کتاب اصلاح المال، باب القصد فی المطعم، ۷/ ۴۸۱، حدیث : ۳۵۲)

(حکایت : 13)

کھانا ہضم کرنے والی دوا کا تحفہ

             حضرت سیِّدُنا عبدُاللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے آزادکردہ غلام حضرت سیِّدُناعُبَیدُاللّٰہ بن عَدِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِیعراق سے آپ کی خدمت میں

    حاضر ہوئے ، سلام کیا ، پھر عرض کی :  ’’ میں آپ کے لئے ایک تحفہ لایا ہوں ۔ ‘‘ حضرت سیِّدُناعبدُاللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے دریافت فرمایا :  ’’تم کیا تحفہ لائے ہو ؟ ‘‘ عرض کی :  ’’جوارش ۔ ‘‘ فرمایا :  ’’جوارش کیا ہے ؟ ‘‘ عرض کی :  ’’کھانا ہضم کرنے والی ایک دوا ہے ۔ ‘‘ فرمایا :  ’’میں نے 40 سال سے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایاتو میں اسے کیا کروں گا ۔ ‘‘(حلیۃ الاولیاء ، رقم : ۴۴، عبد اللّٰہ بن عمر، ۱/  ۳۷۲ ، رقم :  ۱۰۳۵)

(حکایت : 14)

وہ دوا جس کے سبب کوئی مرض نہ ہو

 



Total Pages: 19

Go To