Book Name:Aaqa Ka Pyara Kon?

بڑھاپے میں اور بلا ضرورت مدینہ پاک سے باہر نہ جائے کہ موت و دفن وہاں کا ہی نصیب ہو۔حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ دعا کرتے تھے کہ مولٰی مجھے اپنے محبوب کے شہر میں شہادت کی موت دے، آپ کی دعا ایسی قبول ہوئی کہسُبْحٰنَ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  ! فجر کی نماز، مسجدِ نبوی ، محراب النبی، مصلّٰے نبی اور وہاں شہادت۔ میں نے بعض لوگوں کو دیکھا کہ تیس چالیس سال سے مدینہ منورہ میں ہیں، حدودِ مدینہ بلکہ شہرِ مدینہ سے بھی باہر نہیں جاتے اسی خطرہ سے کہ موت باہر نہ آجائے، حضرت ِامام ِمالک (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  )  کا بھی یہ ہی دستور رہا، یہاں شفاعت سے مرادخصوصی شفاعت ہے، گنہگاروں کے سارے گناہ بخشوانے کی شفاعت اور نیک کاروں کے بہت درجے بلند کرنے کی شفاعت، ورنہ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اپنی ساری ہی امت کی شفاعت فرمائیں گے۔خیال رہے کہ مدینہ پاک میں رہنا بھی افضل وہاں مرنا بھی اعلیٰ اور وہاں دفن ہونا بھی بہتر!(مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں : ) اس سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص مدینہ پاک میں مرنے، دفن ہونے کی کوشش کرے وہ عَزَّوَجَلَّ  ایمان پر مرے گا کیونکہ اس کے لئے شفاعتِ خاص کا وعدہ ہے اور شفاعت صرف مؤمن کی ہوسکتی ہے۔(ازمرقات)

           در کو تکتے تکتے ہوجاؤں ہلاک

واں کی خاکِ پاک سے مل جائے خاک  (مراٰۃ المناجیح، ۴/ ۲۲۲)

    مدینہ منورہ میں شہادت کی دعا

           مُتَمِّمُ  الْاَرْبَعِیْن، جانشینِ صادق وامین ، امیر المؤمنین ، حضرتِ سیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   یہ دعا مانگا کرتے تھے :  اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنِیْ شَہَادَۃً فِیْ سَبِیْلِکَ وَاجْعَلْ مَوْتِیْ فِیْ بَلَدِ رَسُوْلِکَ ترجمہ : اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!مجھے اپنے راستے میں شہادت نصیب فرما اور اپنے رسول کے شہر میں موت عطا فرما۔

(بخاری، کتاب فضائل المدینہ، باب۱۳، ۱/ ۶۲۲، حدیث : ۱۸۹۰)

(حکایت : 12)

 اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ شہادت نصیب ہوگی

            شارحِ بخاری حضرت ِعلامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی اِس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : اِس دعا کا باعث یہ ہواکہ حضرتِ عوف بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے خواب دیکھاکہ حضرت عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   شہید ہیں، شہید کئے جائیں گے ، یہ خواب حضرت ِعمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   سے بیان کیا تو فرمایا : میرے لئے شہادت کہاں میں جزیرۃ العرب کے بیچ میں ہوں ، جہاد کرتا نہیں میرے ارگرد ہر وقت لوگ رہتے ہیں پھر فرمایا :  نصیب ہو گی _  ، جس وقت حضرت ِعمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے فرمایا تھا اس سے مستبعد(بعید) کوئی اور بات نہیں ہو سکتی تھی، مگر جو فرمایا وہی ہوااور ان کی یہ دعا قبول ہوئی اور بلدِ رسول میں شہادت نصیب ہوئی اور حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے پہلو میں دفن ہونا نصیب ہوا ۔(نزہۃ القاری ، ۳/ ۲۷۸)

    طیبہ میں مر کے ٹھنڈے چلے جاؤ آنکھیں بند

سیدھی سڑک یہ شہر شفاعت نگر کی ہے   (حدائق بخشش، ص۲۲۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۴)مدینہ طیبہ کی سختی وتنگی پر صبر کا انعام

          مدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً میں فوت ہونے کی فضیلت اپنی جگہ ، جو مدینے کی سختی وتنگی پر صبر کرے اس کے بھی وارے نیارے ہوجاتے ہیں ، چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا  ابوہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ    سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جو میری امت میں سے مدینہ میں تنگدستی اور سختی پر صبر کریگا میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا یا اس کے لئے گواہی دوں گا۔(مسلم، کتاب الحج، باب الترغیب فی سکنی المدینہ۔۔۔الخ، ص۷۱۶، حدیث : ۱۳۷۸)

پھول کیا دیکھوں میری آنکھوں میں

دشتِ طیبہ کے خار پھرتے ہیں   (حدائقِ بخشش، ص۹۹)

مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان   اِس حدیث پاک کے تَحت لکھتےہیں : (یعنی ) شَفاعتِ خُصُوصی۔ حق یہ ہے کہ یہ وعدہ ساری اُمّت کے لیے ہے کہ مدینے میں مرنے والے حُضُور ِانور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کی اِس شَفاعت کے مستحق ہیں۔ (مراٰ ۃ المناجیح ، ۴ /۲۱۰)  

     مدینہ اس لیے عطارؔ جان و دل سے ہے پیارا

                                  کہ رہتے ہیں مِرے آقا مرے سرور مدینے میں              (وسائلِ بخشش ، ص ۲۸۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 19

Go To