Book Name:Aaqa Ka Pyara Kon?

بھائی اور اسلامی بہنیں گناہوں سے تائب ہوکر جنت میں لے جانے والے اعمال کرنے کے لئے کوشاں ہیں ، بطورِ ترغیب وتحریص ایک مَدَنی بہار ملاحظہ کیجئے : چنانچہ

میں نشے کے انجکشن لگاتا تھا

   لودھراں (پنجاب ، پاکستان) کے مضافاتی علاقے ’’جلال پور موڑ ‘‘کے اسلامی بھائی (عمر تقریباً22سال )  کا بیان کچھ یوں ہے کہ میں بُری صحبت کی نحوست کی وجہ سے نشے کا ایسا عادی تھا کہ شاید ہی ایسا کوئی نشہ ہو جو میں نہ کرتا ہوں ، بالخصوص نشے کے انجکشن (Injection)کی مجھے ایسی عادت پڑی ہوئی تھی کہ روزانہ ڈیڑھ دوسو  کے انجکشن لگواتا بلکہ اگر کوئی نہ ملتا تو خود ہی اپنے آپ کو انجکشن لگا لیا کرتا تھا ۔والد صاحب نے مجھے کاروبار کروا کر دیامگر وہ بھی بُری عادتوں اور نشے کے چکر میں ختم ہوگیا۔ گھر والے میری وجہ سے بے حد پریشان تھے ، والد صاحب نے تنگ آکر کئی مرتبہ مجھے زنجیر سے باندھ دیا تاکہ میں نشے کا انجکشن نہ لگاسکوں مگر میں باز نہیں آتا تھا۔ میں اپنے علاقے میں ’’لشکارا‘‘کے نام سے مشہور تھا ، افسوس کہ میں اور میرا دوست مل کر رکشہ والوں سے فی کس دس روپے بھتا لیا کرتے اور دکانوں سے سامان مفت اٹھالیا کرتے۔ آہ!پانچ وقت کی نماز تو دور کی بات ہے مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے اس زمانے میں کبھی عید کی نماز بھی پڑھی ہو۔ایک دن خداعزوجل نے مجھے سنبھلنے کے اسباب مہیا کردئیے، ہوا یوں کہ ایک دن میں گھر سے نکلا تو سبز عمامے والے عاشقانِ رسول میرے سامنے آگئے اور مجھ سے کہنے لگے : ایک مدنی قافلہ نیکی کی دعوت دینے کے لئے آپ کے محلے کی مسجد میں آیا ہوا ہے ، برائے کرم !مغرب کی نماز مسجد میں پڑھئے اور سنتوں بھرا بیان سنئے ۔عاشقانِ رسول کے عاجزانہ لہجے سے میں بہت متاثر ہوا اور مغرب کی نماز پڑھنے مسجد میں چلا گیا ۔نماز کے بعد جب بیان سنا تو میرے دل پر اتنی گہری چوٹ لگی کہ جب انہوں نے بیان کے بعد تین دن کے مدنی قافلے میں سفر کی دعوت دی تو میں ہاتھوں ہاتھ تیار ہوگیا اور سفر پر روانہ بھی ہوگیا ۔ مدنی قافلے میں عاشقانِ رسول کی صحبت اور انفرادی کوشش کی برکت سے میرے دل میں ایسا مدنی انقلاب برپا ہوا کہ بعدِ توبہ سر پر سبز عمامہ ، مدنی لباس اور فرائض و   واجبات کے ساتھ ساتھ مدنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی سنتوں پر عمل کی بھی پکی نیت کرلی ۔اس نیت پر عمل کی برکتیں ظاہر ہونا شروع ہوئیں تو گھر والوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا اور محلے والوں کو بھی خوشگوار حیرت ہوئی۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ وَجَلَّ  اپنے محلے کی مسجد میں روزانہ تین درس دینے کی سعادت حاصل ہوئی ، نیزدعوتِ اسلامی کے مبلغ کی حیثیت سے مسجد بھرو تحریک کے لئے کوشاں ہوں ۔

اللّٰہ! کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں

اے دعوتِ اسلامی تِری دھوم مچی ہو

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۲)  حَرَمین طیبین میں فوت ہونے کی فضیلت

    سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ ، قرارِ قلب وسینہ ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جو شخص دوحرموں(یعنی مکہ معظمہ یامدینہ منورہ)میں سے کسی ایک میں مرے گا قیامت کے دن امن والوں میں اٹھایاجائے گا اور جوثواب کی نیت سے مدینہ میں میری زیارت کرنے آئے گا وہ قیامت کے دن میرے پڑوس میں ہوگا۔

(شعب الایمان، باب فی مناسک، فضل الحج والعمرۃ، ۳/  ۴۹۰، حدیث : ۴۱۵۸)

          مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان   فرماتے ہیں :  یعنی مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں مرنے والا قیامت کی بڑی گھبراہٹ جسے

     فَزَعِ اَکْبر کہتے ہیں، اس سے محفوظ رہے گا مگر یہ فوائد مسلمانوں کے لئے ہیں لہٰذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ ابوجہل وغیرہ کفار بھی وہاں ہی مرے۔(مراٰۃ المناجیح، ۴/ ۲۲۵)

مَنْ زَارَ تُرْبَتِیْ وَجَبَتْ لَہٗ شَفَاعَتِیْ

ان پر درود جن سے نوید ان بُشَر کی ہے  (حدائق بخشش، ص۲۰۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۳) جو مدینہ میں مرے گا میں اس کی شفاعت کروں گا

          سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ شفاعت نشان ہے : جس سے ہو سکے وہ مدینے میں مرے کیونکہ جو مدینے میں مرے گا میں اس کی شفاعت کروں گا۔(ترمذی، کتاب المناقب، باب فضل المدینہ، ۵/ ۴۸۳، حدیث :  ۳۹۴۳)

زمیں تھوڑی سی دیدے بہرِ مدفن اپنے کوچے میں

     لگادے میرے پیارے میری مِٹّی بھی ٹھکانے سے  (ذوق نعت)

          مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان   اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ظاہر یہ ہے کہ یہ بشارت اور ہدایت سارے مسلمانوں کو ہے نہ کہ صرف مہاجرین کو یعنی جس مسلمان کی نیت مدینہ پاک میں مرنے کی ہو وہ کوشش بھی وہاں ہی مرنے کی کرے کہ خدا نصیب کرے تو وہاں ہی قیام کرے، خصوصًا



Total Pages: 19

Go To