Book Name:Aaqa Ka Pyara Kon?

(۱۱) خوش اخلاق کی خوش نصیبی

          رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  اِنَّ مِنْ اَحَبِّکُمْ اِلَیَّ وَاَقْرَبِکُمْ مِنِّیْ مَجْلِساً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَحَاسِنَکُمْ اَخْلَاقاًیعنی :  میرے نزدیک تم میں سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن میرے سب سے قریب بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو سب سے زیادہ خوش اخلاق ہیں ۔

(ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی معالی الاخلاق، ۳/ ۴۰۹، حدیث : ۲۰۲۵)

حُسنِ اخلاق سے کیا مراد ہے؟

ایک شخص نے حضور نبی پاک ، صاحب ِلولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے حُسنِ اخلاق کے متعلق سوال کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ آیت ِمبارکہ تلاوت فرمائی :

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹) ) پ۹، الاعراف : ۱۹۹)

ترجمہ کنز الایمان : اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو او  بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔

            پھر اِرشاد فرمایا : حُسنِ خُلق یہ ہے کہ تم قطع تعلق کرنے والے سے صلہ رحمی کرو، جو تمہیں محروم کرے اُسے عطاکرواور جو تم پر ظلم کرے اُسے معاف کر دو۔

(احیاء العلوم، کتاب ریاضۃ النفس ۔۔۔الخ، بیان فضیلۃ حسن الخلق۔۔۔الخ، ۳/ ۶۱)

          مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان  فرماتے ہیں : اچھے اخلاق سے مراد ہے خَلق و خالق کے حقوق اداکرنا، نرم وگرم حالات میں شاکر و صابر رہنا۔

    مفتی صاحبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   ایک اور مقام پر فرماتے ہیں : اچھی عادت سے عبادات اور معاملات دونوں درست ہوتے ہیں، اگر کسی کے معاملات تو ٹھیک مگر عبادات درست نہ ہوں یا اس کے اُلٹ ہو تو وہ اچھے اخلاق والا نہیں۔خوش خلقی بہت جامع صفت ہے کہ جس سے خالق اور مخلوق سب راضی رہیں وہ خوش خلقی ہے۔

 (مراٰۃ المناجیح، ۶/ ۴۸۲۔۶۵۲)

حُسن اخلاق کسے کہتے ہیں؟

        حضرتِ سیدنا عبداللّٰہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   فرماتے ہیں :  خندہ پیشانی سے ملاقات کرنے ، خوب بھلائی کرنے اور کسی کو تکلیف نہ دینے کا نام حسن اخلاق ہے ۔

(ترمذی ، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی حسن الخلق، ۳/ ۴۰۴، حدیث : ۲۰۱۲)

بداخلاقی کی دو علامتیں

          حضرت سیِّدُناابو حازم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   فرماتے ہیں :  آدمی کے بدخُلق ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے اہلِ خانہ کے پاس اس حالت میں جائے کہ وہ خوشی سے مُسکرا رہے ہوں اوراسے دیکھ کر خوف سے الگ الگ ہوجائیں اور ایک علامت  یہ ہے کہ اس سے بلّی بھاگ جائے یا کتا خوف کی وجہ سے دیوار پھلانگ جائے۔  

(تنبیہ المغترین، ص۱۹۹)

اچھے اخلاق کی برکت

حضرت ِسیدنا علی المرتضی شیرِخداکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ارشاد فرمایا :  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  نے اچھے اور عمدہ اخلاق کو اپنے اور بندے کے درمیان ملاقات کا ذریعہ بنایا ہے لہذا آدمی کے لیے یہ کافی ہے کہ اچھے اخلاق کے ذریعیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی ملاقات کو طلب کرے ۔(ادب الدنیا والدین، ص۱۹۷)

ترے خُلق کو حق نے عظیم کہا              تری خِلق کو حق نے جمیل کیا

 کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہو گا شہا                   ترے خالقِ حُسن و ادا کی قسم     (حدائق بخشش، ص۸۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

    (حکایت : 11)

تم اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے لئے آزاد ہو

            حضرت سیدنا علی المرتضیکَرَّمَ اللّٰہ تعالٰی وَجہَہُ الکرِیمنے اپنے ایک غلام کو بلایا ، جواب نہ ملنے پر جب دیکھا تو وہ لیٹا ہوا تھا۔آپ نے استفسار فرمایا : اے غلام ! کیا تم نے سنا نہیں؟ بولا : سنا ہے۔دریافت فرمایا : تو پھر جواب کیوں نہیں دیا؟غلام نے عرض کیا :  مجھے معلوم ہے کہ آپ سزا نہیں دیں گے اس لئے میں نے جواب دینے میں سستی کی۔ارشاد فرمایا : جاؤ!تم اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کے لئے آزاد ہو۔ (المستطرف ، ۱/ ۲۰۷)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حُسنِ اخلاق کا پیکر بننے میں آسانی کے لئے دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے، اس مَدَنی ماحول کی برکت سے بے شمار اسلامی



Total Pages: 19

Go To