Book Name:Aaqa Ka Pyara Kon?

وَسَلَّمَنے تھیلی کی مُہر پر لکھے ہوئے مبارَک اَلفاظ ارشاد فرمائے :  ’’مَنْ عَامَلَنَا رَبِحَ‘‘(یعنی جوہم سے مُعامَلہ کرتا ہے نَفْعْ پاتا ہے) حضرت رَبِیْع علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ البدیع فرماتے ہیں کہ جب میں سو کر اُٹھا اور اُس تھیلی کوکھولا تو اُس میں 600 سونے کی اَشرفیاں تھیں ۔ (رشفۃُ الصّادی ص۲۵۳)

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۹) جس نے میری پیروی کی وہ مجھ سے ہے

          رسولِ اکرم ، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے   ارشاد فرمایا : فَمَنِ اقْتَدٰی بِیْ فَہُوَ مِنِّیْ یعنی جس نے میری پیروی کی وہ مجھ سے ہے۔

(مسند احمد بن حنبل، حدیث رجل من الانصار، ۹/ ۱۲۴، حدیث : ۲۳۵۳۳)

          حضرت ِعلامہ عبدالرَّء ُوف مَناویعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی ایک اور حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے  ’’ وہ مجھ سے ہے‘‘ کے تحت لکھتے ہیں : یعنی وہ میرے گرو ہ یا میرے دین والوں میں سے ہے ، جیسا کہ اہلِ لُغت کہتے ہیں ’’فلاں مجھ سے ہے‘‘ گویا کہ اس کا بعض حصہ اس سے ملا ہواہے۔ (فیض القدیر، ۶/ ۵۵، تحت الحدیث : ۸۳۵۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

    (۱۰)  تُو اُسی کے ساتھ ہوگا جس سے تجھے محبت ہے

          حضرت ِسیدنا اَنس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے عرض کی کہ قیامت کب آئے گی ؟ ارشاد فرمایا :  تو نے کیا تیاری کی ہے؟ عرض کی :  اس کے سوا کوئی تیاری نہیں کہ میں  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے محبت کرتا ہوں۔ بے چین دلوں کے چین ، نانائے حسنین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا :  اََنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ یعنی :  تو قیامت میں اسی کے ساتھ ہو گا جس کے ساتھ تجھے محبت ہے۔حضرتِ اَنس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   فرماتے ہیں کہ میں نے مسلمانوں کو اسلام کے بعد کسی چیز پر ایسا خوش ہوتے نہیں دیکھا جیسا  اس  پر خوش ہوئے ۔(ترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء ان المرء مع من احب، ۴/ ۱۷۲، حدیث : ۲۳۹۲)

           مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان   اِس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں :  یہ (سوال کرنے والے)صاحب بڑے متقی پرہیزگار عبادت گزار تھے ، مگر انہوں نے اپنے اعمال کو قیامت کی تیاری قرار نہ دیا کہ یہ سب نیکیاں تو اللّٰہ کی نعمتوں کا شکریہ ہے جو مجھے دنیا میں مل چکیں اور مل رہی ہیں ، آخرت کی تیاری صرف یہ ہے کہ مجھے اس برات کے دولہا سے محبت ہے ، دولہا سے تعلق ، اس سے محبت برات کے کھانے وانے، جوڑے انعام کا مستحق بنا دیتے ہیں۔ (صاحبِ )    مرقات نے فرمایا کہ  اللّٰہ  رسول سے محبت سائرین اور طائرن کے مقامات میں سے اعلیٰ مقام ہے ، ساری عبادات محبت کی فروغ ہیں ، مگر محبت کے ساتھ اِطاعت بلکہ متابعت ضروری ہے ۔ برات کا کھانا صرف عمدہ لباس سے نہیں ملتا بلکہ دولہا کے تعلق سے ملتا ہے ، اگر رب تَعَالٰی سے کچھ لینا ہے تو حضور  (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  )سے تعلق   پیدا

کرو ۔(مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں : )حضرات صحابہ کرام(عَلَیْہِمُ الرِّضوَان) کو سب سے بڑی خوشی تواپنے اسلام لانے پر ہوئی تھی کہ  اللّٰہ تَعَالٰی نے انہیں مؤمن صحابی بننے کی توفیق بخشی اس کے بعد آج یہ فرمان عالی سن کر بڑی خوشی ہوئی۔اس خوشی کی وجہ یہ ہے کہ حضرات صحابہ(رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم) حضور صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم پر دل و جان سے فدا تھے ، ان میں سے بعض تو حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  )کے بغیر چین نہ پاتے تھے ، انہیں کھٹکا تھا کہ مدینہ منورہ میں تو ہم کو حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  )کی ہمراہی نصیب ہے کہ یار نے مدینہ میں اپنا کاشانہ بنایا ہے ، مگر جنت میں کیا بنے گا کہ حضور انور صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم کا مقام اعلیٰ عِلِّیِّیْن سے بھی اعلیٰ ہوگا ، ہم کسی اور درجہ میں ہوں گے ، آج حضور صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم نے پردہ اٹھا دیا ، تمام کو تسلی دے دی فرمادیا کہ جس کو مجھ سے صحیح محبت ہوگی اسے مجھ سے فِراق نہ ہوگا ، میرے ساتھ ہی رہے گا ۔ خیال رہے کہ یہاں درجہ کی ہمراہی یا برابری مراد نہیں بلکہ ایسی ہمراہی مراد ہے جیسے سلطان کے خاص خُدَّام سلطان کے ساتھ اس کے بنگلہ میں رہتے ہیں۔ سب سے بڑا خوش نصیب وہ ہے جسے کل حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کا قرب نصیب ہوجائے ۔ اس قرب کا ذریعہ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  )سے محبت ہے اور حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  )کی محبت کا ذریعہ اتباعِ سنت ، کثرت سے دُرود شریف کی تلاوت ، حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  )کے حالات طیبہ کا مطالعہ اور محبت والوں کی صحبت ہے ، یہ صحبت اکسیرِ اعظم ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۶/  ۵۸۹)

اہلِ عمل کو ان کے عمل کام آئیں گے

میرا ہے کون تیرے سوا آہ لے خبر

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 19

Go To