Book Name:Aaqa Ka Pyara Kon?

    اللّٰہ کی رضا کے لئے محبت

          نواسہ ِ رسول ، شہید ِکربلا، امامِ حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے ارشاد فرمایا : مَنْ اَحَبَّنَا لِلدُّنْیَا فَاِنَّ صَاحِبَ الدُّنْیَا یُحِبُّہُ الْبَرُّوَالْفَاجِرُ وَمَنْ اَحَبَّنَا لِلّٰہِ کُنَّا نَحْنُ وَہُوَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَہَاتَیْنِ یعنی جس نے دنیا کو حاصل کرنے کے لئے ہم سے محبت کی تو دنیا والے سے ہر نیک و بد محبت کرتا ہے اور جس نے اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی رضا کے لئے ہم سے محبت کی ہم اور وہ قیامت کے دن یو ں ہوں گے ، شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ فرمایا ۔ (المعجم الکبیر، ۳/ ۱۲۵،  حدیث : ۲۸۸۰)

قرآن اوراہلِ بیت کی محبت

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرات ِ حسنین کریمینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   ما  اور انکے والدین کریمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   ماسے محبت رکھنے والے کو جنت میں حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا قرب نصیب ہو گا ، اہل ِبیتِ اَطہار رِضْوانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم اَجْمَعِیْن سے محبت کے متعلق قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں واضح بیان موجود ہے چنانچہ اِرشاد باری تَعَالٰی ہے :

قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰىؕ                                        ۲۵، الشوری : ۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان : تم فرماؤ میں اس پر تم سے کچھ اُجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت۔

          صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی اِس آیت کے تحت لکھتے ہیں : معنٰی یہ ہیں کہ میں ہدایت و اِرشاد پر کچھ اُجرت نہیں چاہتا لیکن قرابت کے حقوق تو تم پر واجب ہیں ، ان کا لحاظ کرو اور میرے قرابت والے تمہارے بھی قرابتی ہیں ، انہیں اِیذا نہ دو ۔ حضرت سعید بن جبیر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ    ) سے مروی ہے کہ قرابت والوں سے مراد حضور سیدِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی آلِ پاک ہے ۔ (بخاری، کتاب التفسیر، باب الا المودۃ فی القربی، ۳/ ۳۲۰، حدیث : ۴۸۱۸)

اہلِ قرابت سے مراد کون ہیں؟

          (صدرالافاضل مزید لکھتے ہیں : )اہلِ قرابت سے کون کون مراد ہیں اس میں کئی قول ہیں، ایک تو یہ کہ مراد اس سے حضرتِ علی و حضرتِ فاطمہ و حسنین کریمین ہیں رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ، ایک قول یہ ہے کہ آلِ علی و آلِ عقیل و آلِ جعفر و آلِ عباس مراد ہیں ، اور ایک قول یہ ہے کہ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  )کے وہ اقارب مراد ہیں جن پر صدقہ حرام ہے اور وہ مخلصینِ بنی ہاشم و بنی مطّلب ہیں ، حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ) کی ازواجِ مطہّرات حضور کے اہلِ بیت میں داخل ہیں ۔ حضور سیدِ عالَم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی محبت اور حضور کے اقارب کی محبت دِین کے فرائض میں سے ہے ۔ (خازن، ۴/  ۱۰۱)(خزائن العرفان، ص ۸۹۳، ۸۹۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

      سادات سے حسنِ سُلُوک کی فضیلت

           اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان  علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 10  صَفْحَہ 105  پر ساداتِ کرام کے فضائل بیان کرتے ہوئے نَقل کرتے ہیں :  ابنِ عساکِر امیرُالْمُؤمِنِین حضرت علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے راوی، رسولُ اللّٰہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  فرماتے ہیں :  جو میرے اہلِ بَیت میں سے کسی کے ساتھ اچّھا سُلوک کرے گا، میں روزِ قِیامت اِس کا صِلہ اُسے عطا فرماؤں گا۔  ( ابن عساکر، ۴۵/ ۳۰۳، رقم : ۵۲۵۴)

(حکایت : 10)             

          بِغیر حج کئے حاجی

          حضرتِ سیِّدُنا رَبِیْع بِن سُلَیْمَان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان  فرماتے ہیں :  ہم دونوں بھائی ایک قافِلے کے ساتھ حج کے لئے روانہ ہوئے، جب ’’کوفہ‘‘ پہنچے تو میں کچھ خریدنے کے لئے بازارکی طرف نکلا، راہ میں یہ عجیب منظردیکھا کہ ایک وِیران سی جگہ پر ایک مُردار پڑا تھا اور ایک مَفلوکُ الحال عورَت چاقو سے اُس کے گوشت کے ٹکڑے کاٹ کاٹ کرایک ٹوکری میں رکھ رہی تھی۔ میں ھلادےنے خیال کیا کہ یہ مُردار گوشت لئے جا رہی ہے اِس پر خاموش نہیں رہنا چاہئے ممکن ہے کہ یہ کوئی بھَٹیارن ہو  کہ یہی پکا کر لوگوں کو ک، میں چُپکے سے اُس کے پیچھے ہولیا۔

            وہ عورت ایک مکان پر آکررُکی اور دروازہ کھٹکھٹایا، اندر سے آواز آئی : کون؟ اُس نے کہا : کھولو! میں ہی بدحال ہوں ۔ دروازہ کُھلا اور اُس میں سے چار لڑکیاں     آئیں جن سے بدحالی اور مصیبت کے آثار ظاہِر ہو رہے تھے۔ اُس عورت نے اندرجاکر وہ ٹوکری اُن لڑکیوں کے سامنے رکھ دی اور روتے ہوئے کہا :  ’’ اِس کو پکالو  اور  اللہ

عَزَّ وَجَلَّکا شکر ادا کرو، اللہ تَعَالٰی  کا اپنے بندوں پر اِختیار ہے، لوگوں کے دِل اُسی کے قبضے میں ہیں۔‘‘وہ لڑکیاں اُس گوشت کو کاٹ کاٹ کر آگ پر بھُوننے لگیں۔ مجھے قلبی رَنج ہوا، میں نے باہَر سے آواز دی : ’’ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندی!خداعَزَّ وَجَلَّ کے لئے اِس کو نہ کھانا۔ ‘‘وہ بولی : تُو کون ہے؟ میں نے کہا : میں ایک پردیسی آدَمی ہوں ۔بولی :  



Total Pages: 19

Go To