Book Name:Aaqa Ka Pyara Kon?

       حضرتِ سیِّدُنا  بِشر بن حارِث حافیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القافیکی خدمت میں کسی نے عرض کی کہ میرے لئے دعا فرمائیے کیونکہ میں اَہْل وعِیال کے اَخراجات کی وجہ سے پریشا ن ہوں۔آ پ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا : جب گھر والے تم سے کہیں کہ ہمارے پاس نہ تو آٹا ہے اور نہ ہی روٹی تواُس وقت تم میرے لئے دعا کرنا کیونکہ تمہاری اُس وقت کی دعا میری دعا سے افضل ہے۔  (اِحیاءُ الْعُلوم ، ۴/  ۲۵۱)

(حکایت : 8)

  مسکین ماں کا بچیوں پرایثار

    اُم المؤمنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں :  میرے پاس ایک مسکین عورت آئی جس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، میں نے اسے تین کھجوریں دیں۔ اس نے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دی ، پھر جس کھجور کو وہ خود کھانا چاہتی تھی اس کے دو ٹکڑے کر کے وہ کھجوربھی ان (یعنی دونوں بیٹیوں) کو کھلا دی۔ مجھے اس واقعے سے بہت تعجب ہوا، میں نے نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں اس خاتون کے ایثار کا بیان کیا تو سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :   اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اِس (ایثار) کی وجہ سے اُس عورت کے لئے جنت واجب کر دی ۔(مسلم، کتاب البروالصلۃ، باب فضل الاحسان الی البنات، ص۱۴۱۵، حدیث : ۲۶۳۰)

غیبت نہ کرنے والے کوجنت کی ضمانت

          رحمتِ عالمیان ، سردارِ دو جہان، محبوبِ رحمن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ بَرَکت نشان ہے : جو شخص اپنے گھر میں بیٹھا رہے اورکسی مسلمان کی غیبت نہ کرے تو اللّٰہ تَعَالٰی اس کے لئے (جنّت کا) ضامِن ہے ۔(اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ، ۳/ ۴۶، حدیث : ۳۸۲۲، ملتقطاً)

(حکایت : 9)

     وہ تو بچ گئے مگر مسلمان بھائی نہ بچا

          حضرتِ سیِّدُناسُفیان بن حسین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنااِیَاس بن مُعاوِیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی بارگاہ میں ایک شخص کا برائی کے ساتھ تذکرہ کیا، انہوں نے مجھے جلال بھری نظروں سے دیکھا اور پوچھا :  کیا تُم نے رومیوں کے خِلاف جنگ کی ہے؟میں نے عرض کی :  نہیں ۔ وہ بولے : سندھیوں کے خلاف جنگ کی ہے ؟ جواب دیا :  نہیں ۔ بولے :  ہندوؤں کے خلاف ؟عرض کی :  نہیں ۔ پوچھا :  ترکیوں کے خلاف جنگ کی ہے ؟ میں نے جواب دیا :  نہیں ۔فرمانے لگے :  رومی ، سندھی ، ہندو اور تُرکی تو تم سے بچ گئے لیکن تمہارا ایک مسلمان بھائی تم سے محفوظ نہ رہ سکا۔ حضرتِ سیِّدُناسُفیان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کہتے ہیں : اس کے بعد میں نے کبھی کسی کی غیبت نہیں کی۔  (البدایۃ والنہایۃ ، ۶/ ۴۸۴)

نیک لوگوں کی برائیاں کرنا

حضرت سیدنا مالک بن دینارعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار نے فرمایا : کسی شخص کے برا ہونے کے لئے اتنا کافی ہے کہ وہ خود نیک نہ ہو اور پھر بھی نیک لوگوں کی برائیاں کرتا پھرے۔

 (المستطرف، الباب الثانی والثلاثون فی ذکر الاشرار۔۔۔الخ، ۱/ ۲۶۹)

    غیبت ہوجانے پر خود کو سزا دیتے

          حضرتِ سیِّدُنا عبد اللّٰہ بن وہْب قَرَشی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں :  میں نے اپنے لئے یہ سزا مقرر کی کہ جب مجھ سے کسی کی غیبت ہوگئی تو کفارے میں ایک روزہ رکھوں گا ، مگر رفتہ رفتہ یہ سزا میری عادت بن جانے کی وجہ سے میرے لئے آسان ہوگئی، تو میں نے مزید ایک اور سزا مقرر کرلی کہ اب ایک درہم بھی صدقہ کیا کروں گا ، یہ سزا میرے لئے مشکل ثابت ہوئی اور یوں غیبت کی نحوست سے چھٹکارا مل گیا ۔ (ترتیب المدارک، ۳/ ۲۴۰ )

مَدَنی مشورہ : غیبت کے نقصانات و دیگر معلومات کے حصول کے لئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ504 صفحات پر مشتمل کتاب ’’غیبت کی تباہ کاریاں‘‘ ضرور پڑھئے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۸) اہلِ بیت سے محبت کر نے کی فضلیت

          حضرت سیدنا مولا مشکل کشا علی المرتضٰیکَرَّمَ اللّٰہ تعالٰی وَجہَہُ الکرِیم روایت فرماتے ہیں کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے حضرات ِ حسنین کریمین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : مَنْ اَحَبَّنِیْ وَاَحَبَّ ہٰذَیْنِ واَ بَاہُمَاوَاُ مَّہُمَا کَانَ مَعِیَ فِیْ دَرَجَتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یعنی جس نے مجھ سے ، ان دونوں( یعنی حسنین کریمین)سے اور انکے والدین سے محبت کی وہ قیامت کے دن میرے درجے میں میرے ساتھ ہو گا۔

(ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب علی بن ابی طالب، ۵/ ۴۱۰، حدیث : ۳۷۵۴)

 



Total Pages: 19

Go To