Book Name:Sahabiyat aur Ishq e Rasool

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

صَحابیات اور عِشْقِ رَسول

دُرُودِ پاک کی فضیلت

سرکار ِمدینہ، رَاحَتِ قَلْب وسینہ، صَاحِبِ مُعطَّر پسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عَافِـیَّت نِشان ہے: اے  لوگو! بے شک بروزِ قِیامَت اُس کی دَہشتوں اور حِساب وکِتاب سے جَلْد نَجات پانے والا شخص وہ ہوگا جس نے تم میں سے مجھ پر دنیا میں بَکَثْرَت دُرُود شریف پڑھے ہوں گے۔[1]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                       صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!ہولناکیوں اور دَہشَتوں  والے قِیامَت کے دن حِساب وکِتاب سے جَلد رِہائی پانا چاہتی ہیں تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ با بَرَکت پر  دُرُودِ پاک کی کَثْرَت کیجئے۔

دُنْیا وآخِرت میں جب مَیں رہوں سَلامَت        پیارے پڑھوں نہ کیوں کر تم پر سَلام ہر دَم

کیا خوف مجھ کو پیارے نارِ جَحِیْم سے ہو تم ہو شفیعِ مَحْشَر تم پر سَلام ہر دَم[2]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                       صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

آپ ہیں تو سب کچھ ہے

جنگ ِ بَدْر میں بَہُت  سے کفّارِ قُرَیْش کے سرداروں  کے قَتْل پر مکّہ کا ہر گھر ماتَم کدہ بن گیا اور بچہ بچہ جوشِ اِنْتِقَام میں آتَشِ غَـیْظ و غَضَب کا تَنّور بن کر مسلمانوں سے لڑنے کے لیے بے قَرار ہو گیا۔ عَرَب خصوصاً قُرَیْش کا یہ طُرّۂ اِمْتِیَاز تھا کہ وہ اپنے مَقْتُول کے خون کا بَدْلَہ لینے کو اپنا فَرْضِ مَنْصَبِی سمجھتے تھے ۔ لہٰذا کفّارِ مکّہ نے جَلْد سے جَلْدمسلمانوں سے اپنے مَقْتُولوں کے خُون کا بَدْلَہ لینے کا عَزْم کر لیا اور سب مِل کر اپنے سردار ابُو سُفْیَان کے پاس گئے تاکہ اسے راضی کر کے مسلمانوں کو دنیا سے نیست و نَابُود کرنے کی خاطِر ایک عظیم فوج لے کر مدینہ پر چڑھائی کی جائے۔ قریش کو جنگِ بَدْر سے یہ تَجْرِبَہ ہو چکا تھا کہ مسلمانوں سے لڑنا آسان نہیں،آندھیوں اور طوفانوں کا مُقَابَلَہ، سَمُنْدَر کی مَوجوں سے ٹکرانا اور پہاڑوں سے ٹکّر لینا بَہُت آسان ہے مگر عَاشِقانِ رَسول سے جنگ کرنا بڑا ہی مُشکِل ہے۔ اس لیے جہاں اُنہوں نے ہتھیاروں کی تیّاری اور سامانِ جنگ کی خُوب خریداری کی وہیں پورے عَرَب میں جنگ کا جوش اور لڑائی کا بُخار بھی پھیلا دیا۔ یہاں تک کہ بچہ بچہ خون کا بَدْلَہ خون  کا نعرہ لگاتے ہوئے مرنے مارنے پر تیار ہو گیا۔

گروہِ کُفْر جب سے بھاگ کر مکّے میں آیا تھا     اسی دِن سے یہ دَسْتُور الْعَمَل اس نے بنایا تھا

کہ تیّاری کرے ہر فَرْد جنگِ اِنْتِقَامی کی        پذیرائی نہیں ہو گی کسی عُذْر اور خَامی کی

قبائل کو قُرَیشی شاعِروں نے جا کے بھَڑکایا      پَرَسْتَارَانِ باطِل کو ضِیائے حَق سے دَھڑکایا

کہ یہ مسئلہ ہے دِیْنِ آبائی کی عزّت کا    پُرانے مَسْلَکِ لَاتِی و عُزَّائی کی عزّت کا

ہے تاریخِ عَرَب  پر یہ بُرے مَضْمُون کا دَھبہ   دُھلے گا اب تو مُسْلِم خُون ہی سے خُون کا دَھبہ

قُرَیْشی قَاصِدوں نے اِسْطَرْح جب آگ بھڑکائی          بھڑک اُٹھے قبائل کے خَیالاتِ مَن و مَائی [3]

اَلْغَرَضْ اَبُو سُفْیَان کی سِپہ سَالاری میں بے پناہ جَوش و خَروش اور اِنْتِہائی تیّاری کے ساتھ کُفّارِ مکہ کا لَشکرِ جَرّار روانہ ہوا تو میدانِ اُحد میں جان نِثارانِ مصطفےٰ نے اس لشکر کے غُرور کو خاک میں مِلا دیا۔پھر بعض مسلمانوں کے جَبلِ رُماۃ سے ہٹ جانے پر جو پانسہ پلٹا تو اَنہونی ہونی ہو گئی، کفّارِ مکہ نے اِسلام کا نام و نِشان رُوئے



  1 فردوس الاخبار، باب الياء، ۵ / ۲۷۷، حدیث:۸۱۷۵

[2]    ذَوقِ نعت، ص۱۲۰،۱۲۲

[3]    شاہنامہ اسلام مکمل، حصہ دوم، ص۳۲۵



Total Pages: 22

Go To