Book Name:Waliullah Ki Pehchan

کی حدّوں اور اس کی پیروی کا کتنا خیال رکھتا ہے)۔([1])

عوام کی خود ساختہ بیان کردہ علامات اور انکی اِصلاح

عرض : فی زمانہ کچھ لوگ ولی نہیں ہوتے مگر عوام النّاس غَلَط فہمی کی بنا پر انہیں ولی سمجھ لیتے ہیں اس کے بارے میں بھی وضاحت فرما دیجیے، نیز کیسے وَلِیُّ اللہ کے ہاتھ پر بیعت  کرنی چاہیے ؟

ارشا د  :  عوام النّاس کو اپنی عقل کے گھوڑے دوڑانے اور ا پنی طرف سے اولیائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام  کی خودساختہ علامات مقرر کرنے کے بجائے علمائے حقَّہ اہلسنّت وجماعت وبزرگانِ دین رِضْوَانُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے بیان کردہ ارشا د ات کے مطابق عمل کرنا چاہیے ۔ عوام الناس کی خود ساختہ  بیان کردہ علامات  اور ان کی اِصلاح کرتے ہوئے  مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان  فرماتے ہیں :  لوگوں نے ولی کی علامتیں اپنی طرف سے مقرَّر  کر  لی ہیں :  کوئی کہتا ہے کہ ولی وہ جو کرامات دکھائے مگر یہ غَلَط ہے کیونکہ شیطان بَہُت سے عجائبات کر کے دِکھاتا ہے ، سَنْیَاسی جوگی  صدہا  کرتَب کر لیتے ہیں، دجّال تو غضب ہی کر ے گا ، مُردوں کو جِلائے (زندہ کرے)گا، بارش برسائے گا۔ اگر عجائبات پر وِلایت کا  مَدار ہو تو شیطان اور دجّال بھی ولی ہونے چاہئیں۔ صُوفیائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام  فرماتے ہیں :  ہَوا میں اُڑنا  وِلایت ہو تو شیطان بڑا ولی ہونا چاہیے مگر ایسا نہیں ہو سکتا۔ کو ئی  کہتا ہے کہ ولی وہ جو تارِکُ الدُّنیا ہو، گھر بار نہ رکھتا ہو۔ اسی طرح بعض لوگ کہا کرتے ہیں :  وہ ولی ہی کیسا جو رکھے پیسہ، مگر یہ بھی دھوکہ ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا سلیمانعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، حضرتِ سیِّدُنا عثمان غنیرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ، حُضُور غوثُ الثَّقَلَین، امامِ اعظم ابو حنیفہ، مولانا  رومرَحِمَہُمُ اللّٰہ الْقَیُّوم  بڑے مالدار تھے ، کیا یہ  ولی نہ تھے؟ یہ تو وَلِیُّ اللہ ہی نہیں ، ولی گر تھے لیکن اس کے برعکس بَہُت سے سَنْیاسی کفّار تارِکُ الدُّنیا  ہیں، کیا وہ ولی ہیں؟ ہر گز نہیں۔ کامِل وہ ہے جس کے سر پر شریعت ہو، بغلوں میں طریقت، سامنے دُنیوی تعلُّقات، ان سب کو سنبھالے ہوئے راہِ خدا طے کرتا چلا جائے۔ مسجد میں نمازی ہو، میدان میں غازی ہو، کچہری میں قاضی اور گھر میں پکّا دُنیادار(یعنی دُنیوی معاملات میں مصروفِ کار)غرضیکہ مسجد میں آئے تو مَلَائِکَۂ مُقَرَّبِیْن کا نَمونہ بن جائے اور بازار میں جائے تو مَلَائِکَۂ مُدَبِّرَاتِ اَمْر (یعنی اُمورِدُنیویہ کی تدبیر کرنے والے فرشتوں) کے سے کام کرے۔ بعض بیہودے دعویٔ وِلایت کریں مگر نہ نماز پڑھیں، نہ روزہ کے پاس جائیں اور شیخی ماریں کہ ہم کعبہ میں نماز پڑھتے ہیں، سُبْحٰنَ اللّٰہ! نماز تو  کعبہ میں پڑھیں اور روٹی و نذرانے  مُرید کے گھر سے لیں، یہ پورے شیاطین ہیں۔ جب تک ہوش و حواس قائم ہیں تب تک احکامِ شرعِیَّہ مُعاف نہیں ہو سکتے ۔([2])

جس کے ہاتھ پر بیعت کرنا دُرُست ہو اس کی چار شرائط ہیں چنانچہ میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت ، مُجددِ دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ایسے شخص سے بیعت کاحکم ہے جو کم از کم یہ چاروں شرطیں رکھتاہو : اوّل : سنی صحیح العقیدہ ہو۔ دوم :  علمِ دین رکھتاہو۔ سوم :  فاسق نہ ہو۔چہارم :  اس کا سلسلہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تک مُتَّصِل ہو۔اگر ان میں سے ایک بات بھی کم ہے تو اس کے ہاتھ پر بیعت کی اجازت نہیں۔([3])

مَجذوب کسے کہتے ہیں؟

عرض : بعض لو گ ہر  پاگل و بے عقل کو ولی سمجھ لیتے ہیں کیا یہ دُرُست ہے؟

ارشا د  :  ہر پاگل وبے عقل کو ولی سمجھ لینا سراسر غَلَط فہمی ہے ۔شاید لوگ  یہ خیال کرتے ہیں کہ پاگل و دیوانے مَجْذوب ہیں مگر یاد رکھیے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حقیقی مَجْذوب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کا ولی ہوتا ہے مگر ہر پاگل و دیوانہ مَجْذوب بھی نہیں ہوتا۔ مَجاذِیب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے وہ مخصوص بندے ہیں جو لَطائف کی بیداری کی وجہ سے جب یکدم رُوحانیّت کی بلند منزلوں میں مُسْتَغْرِق ہو جاتے ہیں تو اِن کی شُعوری صلاحیتیں مَغلُوب  ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے یہ ہوش و حواس سے بے نیاز ہو کر دُنْیَوی دِلچسپیوں سے لاتَعلُّق ہو جاتے ہیں، انہیں دیگر مخلوق سے کوئی واسِطہ و تَعلُّق نہیں ہوتا، وہ از خود نہ کھاتے ہیں ، نہ پیتے ہیں، نہ پہنتے ہیں ، نہ نہاتے ہیں، انہیں سردی گرمی، نفع و نقصان کی خبر تک نہیں ہوتی ، اگر کسی نے کھلا دیا تو کھا پی لیا ، پہنا دیا تو پہن لیا، نہلا دیا تو نہا لیا، سردیوں میں بِغیر کمبل چادر لیے سُکون اور گرمیوں میں لحاف اوڑھ لیں تو پرواہ نہیں یعنی مَجْذوب بظاہر ہوش میں نہیں ہوتا اس لیے وہ شَریعت کا مُکَلَّف بھی نہیں ہوتا یعنی اس پر شرعی اَحکام لاگو نہیں ہوتے مگر اس پر شرعی اَحکام پیش کیے جائیں تو ان کی مخالفت بھی نہیں کرتا اور یہ بھی یاد رہے کہ صاحبِ عقل و شُعُور کے لیے کسی مَجْذوب سے سرزد ہونے والے خلافِ شرع کاموں کو اپنے لیے حُجّت ودلیل بنا کر اس کی اِتباع کرنا یا اُن کی اِتباع میں خود کو شرعی احکام سے مستثنیٰ خیال کرنا جائز نہیں۔

اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنّت، مولانا  شاہ امام احمد رَضا خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن   فرماتے ہیں :  بعض مَجْذوبینقُدِّسَتْ اَسْرَارُہُم نے جو کچھ بحالِ جذب کیا، وہ سَند نہیں ہو سکتا۔ مَجْذوب عقل و ہوشِ دُنیا نہیں رکھتا۔ اس کے اَفعال ، اس کے اِرادہ و اِختیارِ صالح سے نہیں ہوتے وہ مَعْذور ہے۔

ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے

کہ سُلطَان نگیرد خراج از خراب

( کیونکہ بادشاہ غیر آباد اور ویران زمین سے ٹیکس نہیں لیتا ) ([4])  

ایک اور مقام پر مَجْذوبوں کے بارے میں ارشا د  فرماتے ہیں کہ وہ خود سلسلہ میں ہوتے ہیں، مگر ان کا کوئی سلسلہ پھر ان سے آگے نہیں چلتا۔ یعنی مَجْذوب اپنے سلسلہ میں مُنْتہیٰ(یعنی کامل) ہوتا ہے۔ اپنے  جیسا دوسرا مَجْذوب پیدا نہیں کر سکتا۔ وجہ غالباً یہ ہے کہ مَجْذوب مقامِ حیرت ہی میں فنا ہو جاتا ہے اور بقا حاصل کر لیتا ہے۔ اس لیے اُس کی غیر کی طرف توجّہ نہیں ہوتی۔ ([5])

 



[1]                          شعب الایمان ، باب فی نشرالعلم، ۲/۳۰۱، رقم : ۱۸۶۰

[2]     شانِ حَبِیْبُ الرَّحمٰن، ص۲۹۹۔۳۰۱، ملخصاً

[3]     فتاویٰ رضویہ، ۲۱/۶۰۳

[4]      فتاویٰ رضویہ ، ۲۱/۵۹۹

[5]                 اَنوارِ رَضا، ص۲۴۳



Total Pages: 8

Go To