Book Name:Waliullah Ki Pehchan

اَولیاء ُاللہ رَحْمتِ الٰہی کی دُلْہَنْ ہیں جہاں تک سوائے اس کے مَحْرَم کے کسی کی رسائی نہیں۔([1]) اسی لیے کہا گیا :  وَلِی رَا وَلِی مِی شَناسَد یعنی ولی کی پہچان ولی ہی کر سکتا ہے۔ حضرتِ سَیِّدُناشیخ ابوالْعبّاسرَحْمَۃُ اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  خُدا کی پہچان آسان ہے مگر ولی کی پہچان مشکل کیونکہ ربّ  عَزَّوَجَلَّ  اپنی ذات و صفات میں مخلوق سے اعلیٰ وبالا ہے اور ہر مخلوق اس پر گواہ مگر  ولی شکل و صورت، اَعمال وافعال میں بالکل ہماری طرح۔ ([2]) شریعت میں اِظہار ہے اور طریقت میں اِخفاء (چھپانا)، مکان کی زینت دروازہ پر رکھی جاتی ہے اور موتی کوٹھڑی میں۔([3])

اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کے پیارے محبوب ، دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے : کتنے ہی پریشان حال، پَراگندہ بالوں اور پھٹے پرانے کپڑوں والے ایسے ہیں کہ جن کی کوئی پرواہ نہیں کرتا لیکن اگر وہ اللہ  عَزَّوَجَلَّ   پر کسی بات کی قسم کھا لیں تو وہ ضَرور اسے پورا فرما دے۔([4])

    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رکھیے ! ولی ہونے کے لیے تشہیر و اِشتہار ، نُمایاں جُبّہ و دستار اور عقید تمندوں کی لمبی قِطا رہونا ضَروری نہیں جس سے ان کی وِلایت کی معرفت اور شہرت ہو بلکہ عام بندوں میں بھی وَلِیُّ اللہ ہوتے ہیں لہٰذا ہمیں ہر نیک بندے کا ادب واحترام کرنا چاہیے کہ نہ جانے  کون گدڑی کا لعل(یعنی چُھپاولی)ہو جیساکہ حضرتِ سَیِّدُنا ذُوالنُّون مِصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  فرماتے ہیں : اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے تین چیزوں کو تین چیزوں میں مَخْفی(یعنی پوشیدہ )رکھا ہے : (۱) اپنی ناراضی کو اپنی نافرمانی میں(۲)اپنی رِضا کو اپنی اِطاعت میں اور (۳)اپنے اولیا   کواپنے بندوں میں۔پس کسی بھی گناہ کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہیے  کہ ہوسکتا ہے اسی میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی ناراضی پوشیدہ ہو اور کسی نیکی کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہیے ہوسکتا ہے کہ اسی میں اللہ  عَزَّوَجَلَّ  کی رضامندی ہواور بندوں میں سے کسی کو بھی حقیر نہیں سمجھنا چاہیے ہوسکتا ہے کہ وہ اللہ  عَزَّوَجَلَّ     کے اولیا میں سے کوئی  ولی ہو۔ ([5])

اولیائےکرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام  کے مختلف مَراتب

عرض :   کیا سب اَولیا کے مَراتب یکساں ہوتے ہیں ؟ نیز ان میں ایک جیسی ہی صفات پائی جاتی ہیں ؟

ارشا د  :  اولیائے  کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام   کے مَرتبے مختلف ہیں اور یہ حضرات مختلف اَنبیاء کے مظہر ہیں، اس لیے ان کی شانیں جُدا گانہ   ہیں، سب میں ایک (ہی طرح کی) علامت تلاش کرنا غَلطی ہے جس طرح ایک حکومت کے مختلف محکمے ہیں ، ہر محکمے کی وردی، پگڑی علیٰحدہ ، پولیس کی وردی اور، فوج کی وردی کچھ اور ، ریلوے کی دوسری، سب میں ایک ہی علامت تلاش نہیں کی جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن وحدیث میں ان نُفُوسِ قُدسِیَّہرَحِمَہُمُ اللّٰہُ  تَعَالٰی کی مختلف علامتیں ارشا د  ہوئی ہیں۔ ([6])

البتہ ایمان اور تقویٰ ایسی صفات ہیں جو ہر وَلِیُّ اللہ کے لیے شرائط کی حیثیت رکھتی ہیں لہٰذاکوئی بے دین یا فاسق وفاجرشخص وَلِیُّ اللہ نہیں ہوسکتا۔قرآنِ کریم نے ان دونوں  صفات کو بیان فرمایا ہے چنانچہ پارہ 11سورۂ یونس کی آیت نمبر 62اور63میں  خدائے رحمٰن  عَزَّوَجَلَّ   کا فرمانِ عالیشان ہے :  

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳)

ترجمۂ کنز الایمان : سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم۔وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں۔

پارہ 9سورۃ ُالْانفال کی آیت نمبر 34 میں ارشا د  ہوتا ہے :

اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ

ترجمۂ کنزالایمان : اس کے اولیاء تو پرہیزگار ہی ہیں۔

اس آیتِ مبارکہ کے تحت مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان  فرماتے ہیں : کوئی کافر یا فاسق اللہ(عَزَّ وَجَلَّ) کا ولی نہیں ہو سکتا۔ ولایتِ الٰہی ایمان وتقویٰ سے میسر ہوتی ہے۔([7])

فضلِ خداوندی کسی قوم کے ساتھ خاص نہیں

عرض : کیا اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام  مسلمانوں کے کسی خاص خا ندان یا قوم سے تعلق رکھتے ہیں یا کسی بھی طبقہ سے ہو سکتےہیں ؟

ارشا د  :  اولیائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام  کا کسی مخصوص خاندان یا نسل سے ہونا ضروری نہیں کہ فضلِ خداوندی کسی نسل یا قوم ہی کے ساتھ خاص نہیں، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  جسے چاہتا ہے اپنی رَحمت سے نواز دیتا ہے۔ یہ نفوسِ قدسیہ مسلمانوں کی ہر قوم اور ہر پیشہ کرنے والوں میں ہوتے رہے اور قِیامت تک ہوتے رہیں گے، کبھی مزدور کے بھیس میں، کبھی سبزی اور پھل فروش کی صورت میں، کبھی تاجر یا ملازِم کی شکل میں ، کبھی چوکیدار یا مِعمار کے روپ میں بڑے بڑے اولیا ہوتے ہیں۔ ہر کوئی اِن کی شناخت نہیں کر سکتا۔ رُوئے زمین پر مُتَعَدَّد اولیائے  کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام  ہر وَقت موجود  رہتے ہیں اور انہیں کی بَرَکت سے دنیا کا نظام چلتا ہے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا شاہ عبدُالعزیز مُحَدِّث دِہلَویعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی   سے کسی شخص نے شکایت کی کہ حُضُور! کیا وجہ ہے کہ آج کل دِہلی کا انتِظام ’’بَہُت سُست‘‘ ہے؟ فرمایا :  آج کل یہاں کے صاحِبِ خدمت ( یعنی ابدالِ دِہلی) سُست ہیں۔ پوچھا ، کون صاحِب ہیں؟ فرمایا :  فُلاں پھل فروش جوفُلاں بازار میں



[1]      روح البيان ، پ۱۱، یونس ، تحت الآية  ۶۳، ۴/۶۰

[2]        روح البيان ، پ۱۱، یونس ، تحت الآية  ۶۳، ۴/۶۰

[3]     شانِ حَبِیْبُ الرَّحمٰن، ص۲۹۸

[4]     تِرمِذی، کتاب المناقب، باب مناقب البَرَاءِ بْنِ مالک، ۵/۴۵۹، حدیث : ۳۸۸۰، ماخوذاً

[5]     الزھد الکبیر، ص۲۹۰، رقم : ۷۵۹

[6]     شانِ حَبِیْبُ الرَّحمٰن، ص۳۰۱، مختصراً

[7]     تفسیرِ نعیمی ، پ ۹، الانفال ، تحت الآيۃ۳۴، ۹/۵۴۳



Total Pages: 8

Go To