Book Name:Waliullah Ki Pehchan

میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولانا شاہ امام اَحمد رَضا خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن  فرماتے ہیں : وِلایت کسبی نہیں محض عطائی ہے، ہاں!(اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  فرماتا ہے :  ہم ) کوشش اور مجاہدہ کرنے والوں کو اپنی راہ دکھاتے ہیں۔([1]) جیسا کہ  پارہ 21، سورۃُ العنکبوت کی آیت نمبر 69 میں ارشا د  ہوتا ہے :

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَاؕ

ترجمۂ کنز الایمان : اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے۔

وَلِیُّ اللّٰہ  کسے کہتے ہیں؟

عرض : وَلِیُّ اللّٰہ کسے کہتے ہیں؟

ارشا د  :  علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُالسَّلَام نے اپنے اپنے انداز میں وَلِیُّ اللّٰہ کی مختلف  تعریفات بیان فرمائی ہیں ان میں سے چند تعریفات ملاحظہ کیجیے :  

صاحبِتفسیرِ خازن حضرتِ علّامہ علاؤ الدین علی بن محمد بغدادیعَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہِالْہَادِیفرماتے ہیں : وَلِیُّ اللّٰہ وہ ہے جو فرائض سے قُربِ اِلٰہی حاصل کرے اور اِطاعتِ اِلٰہی میں مشغول رہے اور اس کا دِل نورِ جلالِ اِلٰہی کی معرفت میں مُسْتَغْرَق (ڈوباہوا)ہو۔ جب دیکھے دلائلِ قُدرتِ اِلٰہی کو دیکھے اور جب سُنے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی آیتیں ہی سُنے اور جب بولے تو اپنے ربّ  عَزَّوَجَلَّ  کی ثنا ہی کے ساتھ بولے اور جب حرکت کرے طاعتِ اِلٰہی میں کرے اور جب کوشش کرے اسی اَمر میں کوشش کرے جو ذریعۂ قُربِ اِلٰہی ہو، اللہ  عَزَّوَجَلَّ  کے ذِکر سے نہ تھکے اور چشمِ دل سے خُدا  عَزَّ وَجَلَّ  کے سوا غیر کو  نہ دیکھے، یہ صفت اَولیا  کی ہے ۔بندہ جب اس حال پر پہنچتا ہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اس کا ولی و ناصِر   اور مُعین و مددگار ہوتا ہے۔([2])

مُتکلِّمین کہتے ہیں :  ولی وہ ہے جو اعتقادِ صحیح مبنی بر دلیل رکھتا ہو اور اعمالِ صالحہ شریعت کے مطابق بجا لاتا ہو ۔([3])

بعض عا رِفینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین نے فرمایا :  وِلایت نام ہے قُربِ الٰہی اور ہمیشہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے ساتھ مشغول رہنے کا، جب بندہ اس مقام پر پہنچتا ہے تو اس کو کسی چیز کا خوف نہیں رہتا اور نہ کسی شئے کے فوت (ضائع) ہونے کا غم ہو تا ہے۔([4])

حضرتِسیِّدُنا ابنِ عباسرضی اللّٰہ تعالٰی عنہماسے روایت ہے کہ جناب رحمتِ عالمیان ، مکّی  مَدَنی سلطان، سرورِ ذیشانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشا د  فرمایا :  اَولیاءُ اللہ وہ ہیں جن کو دیکھنے سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  یاد آجائے۔([5])

حضرتِسَیِّدُنا ابنِ زید عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالصَّمَد فرماتے ہیں :  ولی وہ ہے جس میں وہ صفت ہو جو اِس آیت میں مذکور ہے :

 الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) (پ۱۱ ، یونس : ۶۳)

ترجَمۂ کنزُالایمان : ”وہ جو ایمان لائے اور پرہیز گاری کرتے ہیں۔“ یعنی ولی وہ ہے جو  ایمان و تقویٰ دونوں کا جامع ہو۔([6])

بعض عُلَما نے فرمایا :  ولی وہ ہیں جو خالص اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے لیے محبت کریں۔ اولیا  کی یہ صفت احادیثِ کثیرہ([7]) میں وارِد ہوئی ہے ۔

بعض اکابِرینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین نے فرمایا : ولی وہ  ہیں جو طاعت(یعنی عبادت) سے قُربِ الٰہی کی طلب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کرامت سے ان کی کارسازی فرماتا ہے یا وہ جن کی ہدایت کا بُرہان کے سا تھ اللہ عَزَّ وَجَلَّکفیل ہو اور اس کا حقِ بندگی ادا کرنے اور اس کی خَلْق پر رحم کرنے کے لیے وَقْف ہو گئے۔

اولیا  کی مُندَرَجَہ بالاتعریفات نقل کرنے کے بعد صدرُالافاضل حضرتِ علامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی فرماتے ہیں :  یہ مَعانی اور عبارات اگرچِہ جُداگانہ ہیں لیکن ان میں اِخْتِلاف کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ ہر ایک عبارت میں ولی کی ایک ایک صفت بیان کر دی گئی ہے۔ جسے قُربِ الٰہی حاصل ہوتا ہے یہ تمام صفات اس میں ہوتی ہیں، وِلایت کے دَرَجے اور مراتِب میں ہر ایک بقدر اپنے دَرَجے کے فضل و شرف رکھتا ہے۔([8])

اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام  کی پہچان

عرض : وَلِیُّ اللّٰہ کی پہچان کیسے ہو سکتی ہے ؟

ارشا د  :  وَلِیُّ اللّٰہ کی پہچان حقیقۃً بَہُت  مُشکِل ہے ۔مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان  فرماتے ہیں :  حقیقت یہ ہے کہ وَلِیُّ اللّٰہ کی پہچان بَہُت مُشکِل ہے۔ حضرتِ سَیِّدُنا ابویزید  بِسْطامیقُدِّسَ  سِرُّہُ السّامی فرماتے ہیں :     

 



[1]      فتاویٰ رضویہ ، ۲۱/۶۰۶

[2]                    تفسیرِخازن، پ۱۱، یونس ، تحت الآية۶۲، ۲/۳۲۲

[3]     تفسیرِکبیر، پ۱۱، یونس، تحت الآية۶۲، ۶/۲۷۶

[4]     تفسیرِخازن، پ۱۱، یونس ، تحت الآية ۶۲، ۲/۳۲۳

[5]                    جامِع صغیر، حرف الھمزة، ص۱۶۷، حدیث : ۲۸۰۱

[6]      تفسیرِخازن، پ۱۱، یونس، تحت الآیة۶۲، ۲/۳۲۲

[7]       ابوداود ، کتاب الاجارة، باب فی الرھن، ۳/۴۰۲، حدیث : ۳۵۲۷

[8]      خَزائِنُ الْعِرفان  ، پ۱۱، یونس، تحت الآیۃ۶۲، ص۴۰۵



Total Pages: 8

Go To