Book Name:Dus Aqeeday

اعمال و کوثر و صراط و شفاعۃ عُصاۃِ اہلِ کبائر اور اس کے سبب اہل کبائر کی نجات اِلٰی غَیْرِ ذَالِک مِنَ الْوَارِدَات سب حق سے ۔جبر و قدر باطل، وَلٰـکِنْ اَمْرٌ بَیْنَ اَمْرَیْن، جو بات ہماری عقل میں   نہیں   آتی اس کا علم مَوْکُوْل بَخُدَا کرتے اور اپنا نصیبہ اٰمَنَّا بِهٖ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا-}    ؎

مصطفی اندر میاں   آنگہ کہ می گوید بعقل

آفتاب اندر جہاں   آنگہ کہ می جوید سہا

عقیدۂ عاشرہ:

شریعت و طریقت

            شریعت و طریقت،دو راہیں   مُتَبائِن نہیں   بلکہ بے اِتِّباعِ شریعت، خدا تک وُصول محال۔ نہ بندہ کسی وقت کیسی ہی ریاضات و مجاہدات بجالائے اس رُتبہ تک پہنچے کہ تکالیف ِشرع اس سے ساقط ہوجائیں   اور اسے اَسْپ بے لگام و شُتُربے زمام کرکے چھوڑ دیا جائے۔

            صوفی وہ ہے کہ اپنے ہَوا کو تابعِ شرع کرے نہ وہ کہ ہَوا کی خاطر شرع سے دستبردار ہو، شریعت غذا ہے اور طریقت قُوَّت، جب غذا ترک کی جائے گی قوت آپ زوال پائے گی۔شریعت آئینہ ہے اور طریقت نظر،آنکھ پھوٹ کر نظر غیر مُتَصَوَّر، بعد اَز وصول اگر اتباعِ شریعت سے بے پروائی ہوتی تو سیّدالعالمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم اور امام الواصلین علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہٗ اس کے ساتھ احق ہوتے ، نہیں   بلکہ جس قدر قربِ زیادہ ہوتا ہے شرع کی باگیں   او ر زیادہ سخت ہوتی جاتی ہیں   حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْنَ، توہین ِشریعت کفر اور اس کے دائرہ سے خُرُوج فِسْق۔

             صوفی صادِق عالِم سنّی صحیح العقیدہ خدا و رسول کے فرمان پر ہمیشہ یہ عقیدت رکھتا ہے کہ [1] ؎علمائے شرع مبین و ارثانِ خاتم النبیین ہیں   اور علومِ شریعت کے نگہبان و علمبردار، تو ان کی تعظیم و تکریم صاحبِ شریعت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی تعظیم و تکریم ہے اور اس پر دین کا     مَدار  عالِمِ مُتَدَیَّن خدا طلب ہمیشہ صوفی سے بتواضع و انکسار پیش آئے گا کہ وہ حق آگاہ اور حق کی پناہ میں   ہے اور اسے اپنے سے افضل و اکمل جانے گا جو اعمال اس کے اس کی نظرِظاہر میں   قانونِ تقویٰ سے باہر نظر آئیں   گے۔

          اے اللّٰہ! سب کو ہدایت اور اس پر ثبات و استقامت اور اپنے محبوبوں   اور سچے پکے عقیدوں   پر جہانِ گُزران سے اٹھا۔  اٰمِیْن یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن

اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ وَ اِلَیْکَ الْمُشْتَکٰی وَ اَنْتَ الْمُسْتَعَانُطوَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَی الْحَبِیْبِ الْمُصْطَفٰی وَ عَلٰی اٰلِہِ الطَّیِّبِیْنَ وَ صَحْبِہِ الطَّاہِرِیْنَ اَجْمَعِیْنَ ۔

ایمان کی حفاظت کی فکر ضروری ہے

صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:کفرو شرک سے بد تر کوئی گناہ نہیں اور وہ بھی اِرتِداد کہ یہ کُفرِ اصلی سے بھی باِعتِبار اَحکام سخت تَر ہے جیسا کہ اس کے اَحکام(جاننے)سے معلوم ہو گا۔ مسلمان کو چاہئے کہ اِس(کفر و اِرتِداد) سے پناہ مانگتا رہے کہ شیطان ہر وَقت ایمان کی گھات میں ہے اور حدیث میں فرمایاکہ'' شیطان انسان کے بدن میں خون کی طرح تَیرتا ہے۔'' آدَمی کو کبھی اپنے اُوپر یا اپنی طاعت (و عبادت)و اعمال پر بھروسا نہ چاہئے ، ہر وَقت خدا عَزَّوَجَل پر اعتِماد کرے اور اُسی سے بقائے ایمان کی دُعا چاہئے کہ اُسی کے ہاتھ میں قَلْب ہے اورقَلْب کو قَلْب اِسی وجہ سے کہتے ہیں کہ لَوٹ پَوٹ( اُلٹ پلٹ) ہوتا رہتا ہے ۔ ایمان پر ثابت رہنا اُسی کی توفیق سے ہے جس کے دستِ قدرت میں قَلْب ہے اور حدیث میں فرمایا کہ شرک سے بچو کہ وہ چِیونُٹی کی چال سے زیادہ  مَخفی( یعنی پوشیدہ) ہے اوراس سے بچنے کی حدیثِ(پاک) میں ایک دُعا ارشاد فرمائی اسے ہر روز تین مرتبہ پڑھ لیا کرو، حُضُورِ اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد ہے کہ شرک سے محفوظ رہو گے وہ دعا یہ ہے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ شَیْئًا وَّ اَنَا اَعْلَمُ وَاَسْتَغْفِرُ کَ لِمَا لَا اَعْلَمُ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الغُیُوْبِ۔       (بہارِ شریعت حصّہ 9 ص172۔ 173)

(کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب،ص۶۷۲)

 

ماخذ و مراجع

قرآن مجید

کلامِ الٰہی

۔۔۔

نام کتاب

مصنف/مؤلف /متوفی

مطبوعہ

تفسیر کبیر

فخرالدین محمد بن عمر رازی شافعی، متوفی ۶۰۶ھ

داراحیاء التراث العربی ۱۴۲۰ھ

تفسیر قرطبی

ابو عبد اللّٰہ بن احمد انصاری قرطبی، متوفی ۶۷۱ھ

دار الفکر ۱۴۲۰ھ

تفسیرالبیضاوی

شیخ ناصر الدین عبد اللّٰہ، متوفی ۷۹۱ھ

دار الکتب العلمیۃ بیروت

تفسیر البغوی

ابو محمد حسین بن مسعود البغوی، متوفی ۵۶۱ھ

دار الکتب العلمیۃبیروت،۱۴۱۴ھ

روح المعانی

ابو الفضل شہاب الدین سید محمود آلوسی، متوفی۱۲۷۰ھ

داراحیاء التراث العربی ۱۴۲۱ھ

الدر المنثور

امام جلال الدین عبد الرحمٰن سیوطی، متوفی۹۱۱ھ

دار الفکر بیروت، ۱۴۰۳ھ

تفسیر روح البیان

شیخ اسماعیل حقی، متوفی ۱۱۳۷ھ

کوئٹہ،۱۴۱۹ھ

خزائن العرفان

مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی، متوفی ۱۳۶۷ھ

مکتبۃ المدینہ ۱۴۳۲ھ

 



[1] ۔۔۔ اس پیراگراف میں   بیاض ہے یعنی کچھ عبارت درمیان سے حذف ہے اسی لئے مفتی محمد خلیل خان  برکاتی صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس کو مکمل کیا وہی یہاں   لکھ کر ممتاز کر دیا  ہے۔(علمیہ)



Total Pages: 62

Go To