Book Name:Dus Aqeeday

تمام زمین اُن کی مِلک([1]) اور تمام جنت ان کی جاگیر) ([2])        دنیا ودیں   میں   جو جسے ملتا ہے ان کی بارگاہِ عرش اِشْتِباہ([3])  سے ملتا ہے، (جنت و نار کی کُنْجیاں   دستِ اقدس میں   دے دی گئیں  ۔([4]) رزق و خیر اور ہر قسم کی عطائیں   حضور ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں  ۔([5]) دنیا و آخرت حضور ہی کی عطا کا ایک حصہ ہے:       ؎

 فَاِنَّ مِنْ جُوْدِکَ الدُّ نْیَا وَضَرَّتَھَا([6])

(بے شک دنیا وآخرت آپ کے جودو سخا سے ہے) ([7])

 



[1] ۔۔۔ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ((وَاعْلَمُوْا اَنَّ الاَرْضَ لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ)) ’’جان لو! بے شک زمین اللّٰہ اور اس کے رسول کے لیے ہے‘‘۔ (بخاری، کتاب الجزیۃ والموادعۃ،باب اخراج الیہود۔۔۔الخ،۲/۳۶۵،حدیث:۳۱۶۷)ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے؛ رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ((مَوْتَانُ الاَرْضِ لِلّٰہِ وَلِرَسُوْلِہٖ)) ’’جو زمین کسی کی ملک نہیں   وہ اللّٰہ اور اللّٰہ کے رسول کی ہے۔‘‘ (سنن کبری،۶/۲۳۷،حدیث:۱۱۷۸۶) ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہتے ہیں  : ((اِنَّ عَادِیِّ الاَرْضِ لِلّٰہِ وَ لِرَسُوْلِہٖ)) ’’قدیم زمینیں   اللّٰہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں  ۔‘‘ (سنن کبری للبیہقی،کتاب احیاء الموات،باب لایترک ذمی۔۔۔الخ،۶/۲۳۷، حدیث: ۱۱۷۸۵) اعلیٰ حضرت عظیم البرکت عظیم المرتبت مجدد دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ’’فتاویٰ رضویہ شریف‘‘ میں   ان احادیث کے تحت فرماتے ہیں   کہ ’’میں   کہتا ہوں  : بَن (جہاں   کثرت سے درخت ہوں  ) جنگل ، پہاڑوں   اور شہروں   کی ملک افتادہ زمینوں   کی تخصیص اس لئے فرمائی کہ اُن پر ظاہری مِلک بھی کسی کی نہیں   یہ ہر طرح خالص مِلک ِخدا و رسول ہیں   جَلَّ جَلَالُہٗ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، ورنہ مَحَلُّوں   ، احاطوں  ، گھروں  ، مکانوں   کی زمینیں   بھی سب اللّٰہ ورسول کی مِلک ہیں   اگرچہ ظاہری نام مَن وتُو کا لگا ہوا ہے، ’’ زبور شریف‘‘ سے رَبُّ الْعِزَّت کا کلام سن ہی چکے ’’کہ احمد مالک ہوا ساری زمین اور تمام امتوں   کی گردنوں   کا،‘‘ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، تو یہ تخصیص ِمکانی ایسی ہے جیسے آیہ کریمہ { وَ الْاَمْرُ یَوْمَىٕذٍ لِّلّٰهِ } میں   تخصیص ِزمانی کہ حکم اس دن اللّٰہ کے لئے ہے ، حالانکہ ہمیشہ اللّٰہ ہی کا ہے، مگر وہ دن روز ظہورِ حقیقت وانقطاعِ ادّعا ہے، لا جرم صحیح بخاری شریف کی حدیث نے ساری زمین بلا تخصیص اللّٰہ ورسول کی مِلک بتائی، وہ کہاں  ! !! وہ اس حدیث آئندہ میں  ، فرماتے ہیں   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ: ((اِعْلَمُوْا اَنَّ الاَرْضَ لِلّٰہِ وَلِرَسُوْلِہٖ))۔’’یعنی یقین جان لو کہ زمین کے مالک اللّٰہ ورسول ہیں  ۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ،۳۰/۴۴۵)

[2] ۔۔۔ حضرت سیّدناربیعہ بن کعب اسلمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں  : میں  رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ رات گزارتا تو میں   آپ کے پاس وضو کا پانی اور دیگر اشیائے  ضرورت لاتا،(ایک بار)مجھ سے فرمایا: ’’(سَلْ) کچھ مانگ لو، میں   نے عرض کیا: (اَسْاَلُکَ مُرَافَقَتَکَ فِی الْجَنَّۃِ) میں  آپ سے جنت میں  آپ کا ساتھ مانگتا ہوں  ، فرمایا: (اَوَ غَیْرَ ذٰلِکَ) اس کے سوا کچھ اور بھی، میں   نے عرض کیا: ہُوَ ذَاکَ، بس یہی، فرمایا: (فَاَعِنِّیْ عَلٰی نَفْسِکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُوْدِ) اپنی ذات پر زیادہ سجدوں   سے میری مدد کرو۔‘‘(مسلم،  کتاب الصلاۃ،باب فضل السجود۔۔۔الخ، ص۲۵۳،  حدیث: ۴۸۹)

’’ مرقاۃ‘‘ میں   ملّا علی قاری عَلَیْہِ الرَّحْمَۃاس حدیث کے اس لفظ ’’سَلْ‘‘ یعنی ’’ مجھ سے کوئی حاجت طلب کر۔‘‘ کے تحت فرماتے ہیں  : ابن حجر کہتے ہیں  : ’’میں   تجھے تیری اس خدمت کے بدلے میں   جو تو نے میری کی تحفہ دوں   گا، اس لیے کہ یہی بزرگوں   کی شان ہے اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے زیادہ بزرگ کوئی نہیں  ،حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ نے جو مانگنے کا حکم مطلق دیا اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَل نے حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ  کو قدرت بخشی ہے کہ اللّٰہ  تعالیٰ کے خزانوں   میں   سے جو کچھ چاہیں   عطا فرمائیں  ۔‘‘ابن سبع اور دوسرے علماء نے حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے خصائصِ کریمہ میں   ذکر کیا ہے کہ (اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی اَقْطَعَہٗ اَرْضَ الْجَنَّۃِ یُعْطِیْ مِنْہَا مَا شَائَ لِمَنْ یَّشَاءُ) ملتقطاً ’’بے شک جنت کی زمین اللّٰہ تعالیٰ نے حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ  کی جاگیر کردی ہے کہ اس میں   سے جو چاہیں   جسے چاہیں   بخش دیں  ۔‘‘ (مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلاۃ ، باب السجود و فضلہ ، ۲ / ۶۱۵، تحت الحدیث:۸۹۶،  فتاویٰ رضویہ، ۲۱/۳۱۰،ملخصًا)اخبار الاخیار میں   قرآن کی اس آیت:

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا

ترجمۂ کنزالایمان: یہ وہ باغ ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں   میں   سے اسے کریں   گے جو پرہیزگارہے (پ۱۶، مریم: ۶۳)

کے تحت ہے :’’یعنی ہم اس جنت کا وارث محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بناتے ہیں   پس ان کی مرضی جسے چاہیں   عطا فرمائیں   اور جس کوچاہیں   منع کریں  ، دنیا وآخرت میں   وہی سلطان ہیں  ، اِنہیں   کے لیے دنیا ہے اور اِنہیں   کے لیے جنت، (دونوں   کے مالک وہی ہیں  )۔‘‘(اخبار الاخیار، ص۲۱۶)

اعلیٰ حضرت عظیم البرکت عظیم المرتبت مجدد دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ’’ فتاوی رضویہ شریف‘‘ میں   فرماتے ہیں   کہ ’’رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے رب کی عطا سے مالک ِجنت ہیں  ، معطیِ جنت ہیں  ، جسے چاہے عطافرمائیں  ، امام حجۃُ الْاِسلام غزالی پھر امام احمد قسطلانی مواہب لدنیہ پھر علامہ محمد زرقانی اس کی شرح میں   فرماتے ہیں  :  (اِنّ اللّٰہَ تَعَالٰی مَلَّکَہُ الْاَرْضَ کُلَّھَا وَ اَنَّہٗ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقْطَعُ اَرْضَ الْجَنَّۃِ مَا شَاءَمِنْہَا لِمَنْ شَاء فَاَرْضُ الدُّنْیَا اَوْلٰی)۔اللّٰہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت کی تمام زمینوں   کا حضور کو مالک کردیاہے، حضور جنت کی زمین میں   سے جتنی چاہیں   جسے چاہیں   جاگیر بخشیں   تو دنیا کی زمین کاکیا ذکر!۔