Book Name:Dakuon Ki Wapsi

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرود شریف کی فضیلت

          شیخِ طریقت،   امیرِاہلسنّت،   بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ’’شیطان کے بعض  ہتھیار ‘‘ میں جمع الجوامع کے حوالے سے حدیثِ پاک نقل فرماتے ہیں  :  جو مجھ پر جُمُعہ کے دن اور رات 100 مرتبہ دُرُود شریف پڑھے اللہ تَعَالٰی اس کی 100 حاجتیں پوری فرمائے گا،   70 آخرت کی اور 30 دنیا کی اور اللّٰہ  تعالٰی ایک فرشتہ مقرر فرمادے گاجو اُس دُرُودِ پاک کو میری قبر میں یوں پہنچائے گا جیسے تحائف پیش کئے جاتے ہیں ،   بلا شبہ میرا عِلم میرے وِصال کے بعد ویسا ہی ہوگا جیسا میری حیات میں ہے ۔   ( جمع الجوامع للسیوطی،   ۷ / ۱۹۹،   حدیث :  ۲۲۳۵۵ )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیْب !                            صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{1}ڈاکوؤں کی واپسی

          باب المدینہ  ( کراچی )  کے علاقے اورنگی ٹاؤن کی مقیم اسلامی بہن  اورادِ عطاریہ میں سے جان و مال کی حفاظت کے وظیفے کی برکت کا تذکرہ کچھ اس طرح کرتی ہیں  :  ایک روز میرا بیٹا اور بہو اپنے ایک عزیز سے ملنے ان کے گھر کی جانب روانہ ہوئے ۔  وہ دونوں ابھی ان کے گھرسے کچھ ہی فاصلے پر تھے کہ اچانک کچھ مسلّح ڈاکو اُن کے راستے میں حائل ہوگئے اور اسلحہ کے زور پر نقدی،   زیورات اور موبائل فون کامطالبہ کرنے لگے،   بصورتِ دیگر جان سے ماردینے کی دھمکی بھی دینے لگے ۔  ان کے اس وحشیانہ رویّہ کو دیکھ کر وہ دونوں سہم کر رہ گئے اور اپنی جان و مال اور عزت و آبرو کی خاطر فوراً سب کچھ ان کے حوالے کرنے لگے یوں وہ ڈاکو انہیں لُوٹ کر وہاں سے فرار ہوگئے ۔  میرے بیٹے نے بتایا کہ ہم اس واقعہ سے خوف زدہ ہوکر رہ گئے اور اپنی قیمتی اشیا سے بھی محروم ہوگئے مگر ہم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکا لاکھ شکر ادا کیا کہ ہماری جان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا ۔  ہم ابھی انہی خیالات میں میں گم تھے کہ اچانک وہ ڈاکو واپس آگئے اور بڑے نرم انداز میں نقدی زیور وغیرہ واپس کرکے روانہ ہوگئے گویا کسی روحانی طاقت نے ان کا دل پھیر دیا ہو ۔  یہ دیکھ کر ہم حیرت میں پڑگئے کہ یہ سب کچھ کیسے ہوگیا ۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  ان ومال کی حفاظت کا وظیفہ ’’بِسْمِ اللّٰہِ عَلٰی دِیْنِیْ بِسْمِ اللّٰہِ عَلٰی نَفْسِیْ وَوُلْدِیْ وَ اَھْلِیْ وَ مَالِیْ‘‘ ہمارے معمولات میں شامل ہے ۔  مذکورہ وظیفہ شجرہ عطاریہ کے صفحہ نمبر 12پر موجودہے   ۔

 اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیْب !      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{2}جاں بَلَب مریض

          میرپور خاص  ( بابُ الاسلام سندھ )  کے مقیم اسلامی بھائی کی مدَنی بہار کچھ اس طرح ہے کہ آج سے دو سال پہلے کی بات ہے کہ والد صاحب اپنی الیکٹرک کی دوکان پر بیٹھے کام میں مصروف تھے اچانک کرسی سے گرپڑے اور بے ہوش ہوگئے ۔  والد صاحب کی اس حالت کو دیکھ کر دکان پر موجود لوگوں اور پڑوس کے دوکان داروں نے ہاتھوں ہاتھ انہیں ہسپتال پہنچایا اور گھر والوں کو اس ایمرجنسی سے آگاہ کیا ۔  یہ خبر پاتے ہی ہم بھی ہسپتال پہنچے اور والد صاحب کی طبیعت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے لگے ۔  بہرحال ڈاکٹر نے چیک اب کے بعد کچھ ضروری اَدویات دے کر انہیں چھٹی دے دی اور ہم والد صاحب کو لے کر گھر آگئے ۔  پھر ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوائیوں کا مسلسل استعمال جاری رکھا مگر بجائے صحت کے وہ دن بدن کمزوری کی طرف بڑھنے لگے یہاں تک کہ نقاہت کے غلَبے کے سبب نوبت



Total Pages: 12

Go To