Book Name:Behtar Kon?

مشکل ہوجاتا ہے  ، اِسی لئے  دل میں موت کی فکر پیدا نہیں ہوتی جودل ہٹانے  کا اَصل سبب بنتی ہے   ۔ہر شخص ناپسندیدہ چیز کو خود سے  دور کرتا ہے   ۔انسان جھوٹی امیدوں میں پڑا ہوا ہے  ، خود کو ہمیشہ اپنی مراد کے  مطابق دنیا ، مال و دولت ، اہل و عیال ، گھر بار ، یار دوست اور دیگر چیزوں کی اُمیدیں دلاتا رہتا ہے  ، تو اس کا دل اسی سوچ میں اٹکا رہتا ہے  اور موت کے  ذِکْر سے  غافل ہوجاتا ہے   ۔اگر کبھی موت کا خیال آبھی جائے  تو توبہ کو آئندہ پر ڈالتے  ہوئے  اپنے  نفس کو یہ دلاسہ دیتا ہے  :  ابھی بہت دن پڑے  ہیں ، تھوڑا بڑا تو ہوجا پھر توبہ کرلینا ، اور جب بڑا ہوجائے  تو کہتا ہے  :  ابھی تھوڑا بوڑھا توہوجا پھر تو بہ کرلینا  ۔جب بوڑھا ہوجائے  تو کہتا ہے  :  پہلے  یہ گھر بنالوں یا اس جائداد کی تعمیر و غیرہ کرلوں یا اس سفر سے  واپس آجاؤں پھر توبہ کرلوں گا  ۔یوں وہ ہمیشہ تاخیر پر تاخیر کرتا چلا جاتا ہے  ، اور ایک کام کی حرص مکمل ہو نہیں پاتی کہ دوسرے  کی حرص آن پڑتی ہے  ، اسی طرح دن گزرتے  چلے  جاتے  ہیں ، ایک کے  بعد ایک کام پڑتا ہی رہتا ہے  یہاں تک کہ ایک وقت جس میں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا اسے  موت بھی آجاتی ہے  اور اس کی حسرتوں کے  سائے  ہمیشہ کے  لئے  دراز ہوجاتے  ہیں  ۔ حضرتِ سیِّدُنا ابنِ جَوْزی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی مزیدلکھتے  ہیں :  لمبی امید کا دوسرا سبب جہالت ہے   ۔وہ یوں کہ انسان اپنی جوانی پر بھروسہ کر کے  موت کو بعید (یعنی دُور)خیال کرتا ہے   ۔کیا وہ یہ غور نہیں کرتا کہ اگر اُس کی بستی کے  بوڑھے  افراد شمار کئے  جائیں تو وہ کتنے  تھوڑے  ہوں گے  ؟ اُن کے  تھوڑے  ہونے  کی وجہ یہی ہے  کہ جوانوں کو موت زیادہ آتی ہے  اور جب تک کوئی بوڑھا مرتا ہے  تب تک تو کئی بچے  اور جوان مر چکے  ہوتے  ہیں  ۔کبھی یہ شخص اپنی صحت سے  دھوکا کھا بیٹھتا ہے  اور یہ نہیں سمجھ پاتا کہ موت اچانک آتی ہے  اگر چہ وہ اُسے  بعید سمجھے  کیونکہ مرض تو اچانک ہی آتا ہے  ، تو جب کوئی بیمار ہوجائے  تو موت دُور نہیں رہتی  ۔اگر وہ یہ بات سمجھ لے  اور اس کی فکر پیدا کرلے  کہ موت کا کوئی وقت گرمی ، سردی ، خزاں ، بہار ، دن یا رات مخصوص نہیں اور نہ ہی کوئی سال جوانی ، بڑھاپا یا ادھیڑ پن وغیرہ مقرر ہے  تب اسے  معاملے  کی نزاکت کا احساس ہو اور وہ موت کی تیاری کرنا شروع کردے   ۔(منہاج القاصدین، ربع المنجیات، کتاب ذکر الموت۔۔۔الخ، ۳/  ۱۴۳۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(6) توبہ کرنے والے سب سے بہترین لوگ ہیں

سرکارِ عالی وقار، مدینے  کے  تاجدارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے  ارشاد فرمایا : خِیَارُکُمْ کُلُّ مُفَتَّنٍ تَوَّابٍیعنی تم سب میں بہتر ین وہ ہیں جو فتنوں میں مبتلاہو، توبہ کرتاہو ۔(مسند بزار، ۲/ ۲۸۰حدیث : ۷۰۰)

 توبہ خود توبہ کی محتاج ہے

علامہ ابنِ حجر عسقلانی علیہ رحمۃ اللّٰہ  الوالی فرماتے  ہیں :  اس حدیثِ پاک کا مطلب یہ کہ بار بار گناہ ہوجانے  کے  بعدبار بار توبہ کرتے  ہیں ، جب کبھی آدمی سے  گناہ ہو تو فورا  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں توبہ کرے  ، توبہ ایسی نہ ہوکہ صرف زبان پر اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ (ترجمہ :  میں  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے  معافی مانگتا ہوں ) ہو اور دل گناہوں پر اَڑا رہے  ، ایسی توبہ خود توبہ کی محتاج ہے   ۔(فتح الباری، کتاب التوحید، باب فی قول اللّٰہ  تعالی’’یریدون ان یبدلوا کلام اللّٰہ ‘‘۱۴/ ۳۹۹)

سچی توبہاللہ تعالٰیکی نعمت ہے

          میرے  آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن’’فتاوی رضویہ شریف ‘‘میں ایک سوال کے  جواب میں ارشاد فرماتے  ہیں : سچی توبہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے  وہ نفیس شی بنائی ہے  کہ ہر گناہ کے  اِزالہ کو کافی ووافی ہے  ۔کوئی گناہ ایسانہیں کہ سچی توبہ کے  بعد باقی رہے  یہاں تک کہ شرک وکفر، سچی توبہ کے  یہ معنی ہیں کہ گناہ پر اس لئے  کہ وہ اس کے  رب عَزَّوََجَلَّ کی نافرمانی



Total Pages: 56

Go To