Book Name:Behtar Kon?

نے  کہا نہیں ۔فرمایا :  آدھا اوقیہ، تو یہ پانچ سو درہم ہوئے  ۔(مسلم ،  کتاب النکاح ،   ص۷۴۰ ،  حدیث : ۱۴۲۶)

           مُفَسِّرِشَہِیر، حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے  تحت فرماتے  ہیں : یہ سوال عام ازواج پاک کے  مہر کے  متعلق تھا ورنہ بی بی اُمِّ حبیبہ (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا)کا مہر چار ہزار درہم تھا جو نجاشی شاہ حبشہ نے  ادا کیا تھا۔( مراٰۃ المناجیح ، ۵/  ۶۷)

(حکایت :  50)

عورت نے صحیح کہا

          حضرتِ سیدنا  عبدُاللّٰہ بن مُصْعَب رضی اللّٰہ  تعالٰی  عنہ فرماتے  ہیں کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرتِ سیدنا عمرِ فاروق رضی اللّٰہ  تعالٰی عنہ نے  اِرشاد فرمایا : لَا تَزِیْدُوْا فِیْ مُہُوْرِ النِّسَائِ عَلٰی اَرْبَعِیْنَ اُوْقِیَۃً، فَمَنْ زَادَ اَلْقَیْتُ الزِّیَادَۃَ فِیْ بَیْتِ الْمَالِیعنی :  عورتوں کا حق مہر چالیس اُوقیہسے  زیادہ نہ کرو ، جو زیادہ ہوگا میں اسے  بیت المال میں ڈال دوں گا  ۔ایک عورت بولی : یا امیر المؤمنین !یہ آپ کیا فرما رہے  ہیں حالانکہ قرآنِ پاک میں تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ یوں ارشاد فرماتا ہے  :     

وَ  اِنْ  اَرَدْتُّمُ  اسْتِبْدَالَ  زَوْجٍ  مَّكَانَ  زَوْجٍۙ-وَّ  اٰتَیْتُمْ  اِحْدٰىهُنَّ  قِنْطَارًا  فَلَا  تَاْخُذُوْا  مِنْهُ  شَیْــٴًـاؕ (پ۴، النساء : ۲۰)

ترجمہ کنزالایمان : اور اگر تم ایک بی بی کے  بدلے  دوسری بدلنا چاہواور اُسے  ڈھیروں مال دے  چکے  ہوتو اس میں سے  کچھ واپس نہ لو۔

 یہ سن کر آپ رضی اللّٰہ  تعالٰی  عنہ نے  اِرشاد فرمایا : ’’اِمْرَاَۃٌ اَصَابَتْ وَرَجُلٌ اَخْطَاَ یعنی :   عورت نے  صحیح کہا اور مرد نے  خطاکی ۔‘‘(کنزالعمال، کتاب النکاح ، ۸/ ۲۲۶حدیث : ۴۵۷۹۲، الجزء، ۱۶)

(37)بہترین آدمی وہ جودوسروں کو نفع پہنچائے

سُلطانِ مکَّہ مکرّمہ ، تاجدارِ مدینہ منوَّرہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ منفعت نِشان ہے : خَیْرُالنَّاسِ مَنْ یَّنْفَعُ النَّاسَیعنی :  لوگوں میں سے  بہتر وہ ہے  جو لوگوں کو نفع پہنچائے  ۔    (کنز العمال،  کتاب المواعظ والرقاق، ۸/ ۵۳حدیث : ۴۴۱۴۷)

        میٹھے  میٹھے  اسلامی بھائیو !لوگوں کو نفع پہچانے  کی  بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں :  (۱)دینی نفع(۲)دنیاوی نفع ۔

(۱)دینی نفع پہنچانے کی صورتیں

          جیسے  کسی کو کلمہ پڑھا کردامنِ اسلام سے  وابستہ کرنا، کسی کو شرعی مسائل سکھا دینا ، کسی کو قرآن کریم پڑھنا سکھا دینا، کسی پر اِنفرادی کوشش کرکے  اسے  گناہوں سے  توبہ کروا دینا وغیرہ۔نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی  علیہ واٰلہ وسلَّم نے  جب حضرت ِسیِّدُنا معاذ بن جبل رضی اللّٰہ تعالٰی  عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو ارشادفرمایا : اگراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ َّ تمہارے  ذریعے  کسی ایک شخص کو ہدایت دے  دے  تو یہ تمہارے  لئے  دُنْیَاوَمَافِیْہَا(یعنی دنیا اور جو کچھ اس میں ہے )سے  بہتر ہے ۔(الزھد لابن المبارک ، ص۴۸۴، حدیث : ۱۳۷۵)

(۲)دنیاوی نفع پہنچانے کی صورتیں

  دنیوی حوالے  سے  نفع پہنچانے  کی بھی دو قسمیں ہیں : (۱) انفرادی (۲) اجتماعی۔

          انفرادی حوالے  سے  بھی نفع پہنچانے  کے  کئی مواقع ہماری زندگی میں آتے  ہیں مثلاً :  راستہ بھولنے  والے  کو راستہ بتا نا، راستہ میں پڑے  کسی زخمی کو ہسپتال پہنچانا، کسی مظلوم کی مدد کرنا ، کسی سِن رَسیدہ(oldman) کوسہارا دے  کر اس کی منزل تک پہنچادینا، نابینا (blind)کو سہارا دینا، ضروت مند کی حاجت پوری کرنا ، غریب لوگوں کے  بچوں کو مفت پڑھانا ، اپنا ہنرآگے  کسی کو سکھا کر نفع پہنچانا ، کسی کی جائز کام میں سفارش کرنا، اگر کوئی مسلمان پریشان ہو اس کی پریشانی دور کرنا ۔ان صورتوں کے  علاوہ اور بہت صورتیں ہیں کہ جن میں آدمی دوسرے  کو نفع پہنچا کر



Total Pages: 56

Go To