Book Name:Behtar Kon?

یہ آیتِ کریمہ سن کر عورت سر جھکاکر رونے  لگی کچھ دیر بعد جب سر اٹھا کر دیکھا تو نوجوان جاچکا تھا ۔وہ اپنے  گھر چلی آئی اور پھر عبادت وریاضت کو اپنا مشغلہ بنالیا۔وہ دن میں یادِ الٰہی عَزَّوَجَلَّمیں مصروف رہتی، جب رات ہوجاتی تو نوافل میں مشغول ہوجاتی اوربالآخر اسی طرح عبادت وریاضت کرتے  کرتے  اس دارِ فانی سے  رخصت ہوگئی ۔‘(عیون الحکایات ، الحکایۃ الرابعۃ والثلاثون بعد الماءتین حکایۃ شاب عفیف، ص ۲۲۷، ملتقطاً)   

 (حکایت :  48)

خوفِ خدا کاانعام

          امیر المؤ منین حضرتِ سیِّدُناعمر ِفاروقِ اعظم  رضی اللّٰہ  تعالٰی  عنہ کے  زمانۂ ٔمبارکہ میں ایک نوجوان بہت متقی و پرہیزگار وعبادت گزار تھا ۔یہاں تک کہ حضرتِ سیِّدُناعمرفاروق رضی اللّٰہ  تعالٰی  عنہ بھی اس کی عبادت پر تعجب کیا کرتے  تھے   ۔وہ نوجوان نماز ِعشاء کے  بعد اپنے  بوڑھے  باپ کی خدمت کرنے  کے  لئے  جایا کرتا تھا ۔راستے  میں ایک خوبرو عورت اسے  اپنی طرف بلاتی ، لیکن یہ نوجوان اس پر توجہ کئے  بغیر گزر جایاکرتا تھا ۔آخرکار ایک دن اس نوجوان پر شیطان نے  غلبہ حاصل کر لیا اور یہ عورت کی دعوت پر برائی کے  ارادے  سے  اس کی جانب بڑھا لیکن جب دروازے  پر پہنچا ، تو اسے  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی یہ آیت یاد آگئی :

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ(۲۰۱)  (پ۹، الاعراف : ۲۰۱) 

   ترجمۂ کنز الایمان :  بے  شک وہ جو ڈر والے  ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے  ہوشیار ہوجاتے  ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں ۔

یہ آیت یاد آتے  ہی اس کے  دل پر اللّٰہعَزَّوَجَلّ کاخوف اس قدر غالب ہوا کہ بے  ہوش ہو کر زمین پر گر گیا  ۔عورت گھبرا کر اندر چلی گئی  ۔جب نوجوان بہت دیر تک گھر نہ پہنچاتو بوڑھا باپ تلاش کرتا ہوا وہاں آپہنچا اور لوگوں کی مدد سے  اٹھوا کر گھر لے  آیا ۔ہوش آنے  پر باپ نے  معاملہ دریافت کیا ، تو نوجوان نے  پورا واقعہ بیان کر دیا  ۔لیکن مذکورہ آیت کا ذکر کیا تو ایک مرتبہ پھر اس پر اللّٰہ عَزَّوَجَلّ کا شدید خوف غالب ہوا اس نے  ایک زور دار چیخ ماری اور اس کے  ساتھ ہی اس کا دم نکل گیا ۔راتوں رات ہی اس کے  غسل وکفن ودفن کا انتظام کر دیا گیا ۔صبح جب یہ واقعہ حضرتِ سیِّدُناعمرفاروق رضی اللّٰہ  تعالٰی  عنہ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ رضی اللّٰہ  تعالٰی  عنہ اس کے  باپ کے  پاس تعزیت کے  لئے  تشریف لے  گئے  اور فرمایا : ہمیں رات کو ہی اطلاع کیوں نہیں دی ، ہم بھی جنازے  میں شریک ہوجاتے ؟ اس نے  عرض کی امیر المؤمنین! آپ کے  آرام کا خیال کرتے  ہوئے  مناسب معلوم نہ ہوا  ۔آپ نے  فرمایا مجھے  اس کی قبر پر لے  چلو۔وہاں پہنچ کر آپ نے  یہ آیت مبارکہ پڑھی،  وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ(۴۶)  (پ۲۷، الرحمن : ۴۶)  (ترجمہ کنز الایمان :  اور جو اپنے  رب کے  حضور کھڑے  ہونے  سے  ڈرے  اس کے  لئے  دو جنّتیں ہیں )  تو قبر میں سے  اس نوجوان نے  بلند آواز سے  پکار کر کہا : یا امیرَالمؤمنین !بے  شک میرے  رب نے  مجھے  دو جنتیں عطا فرمائی ہیں ۔(تاریخ دمشق ، ۴۵/  ۴۵۰)

        میٹھے  میٹھے  اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے  کہ خوفِ خدا کی وجہ سے  گناہ سے  باز رہنے  والے  نوجوان کو کیساشاندار اِنعام ملا! اور دوسری طرف ایسے  نادان بھی دنیا میں پائے  جاتے  ہیں جو ایسی جگہوں پر خود پہنچ جاتے  ہیں جہاں طرح طرح کی بے  حیائیوں اوردیگرگناہوں کے  مواقع میسر ہوں ، فی زمانہ عشق کے  نام پر گناہوں بھری مصروفیات اور خرافات میں مبتلا ہونے  والوں کی بھی کمی نہیں ، ایسوں کو بھی سنبھل جانا چاہئے  کہ اگر نفس کی شرارتوں سے  دامن نہ بچایا اور توبہ کئے  بغیر دنیا سے  رخصت ہوگئے  تو کون انہیں جہنم کے  ہولناک عذاب سے  بچائے  گا !

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 56

Go To