Book Name:Behtar Kon?

؟‘‘ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے  جواب دیا :  ’’جس یاوہ گوئی کا تو شکار ہے  اسے  تُو بادشاہی و سلطنت کا نام دیتاہے  جبکہ تُو خود کو بادشاہ و سلطان کہہ رہا ہے  حالانکہ تمہاری حیثیت اس بادشاہ کی سی ہے  جس کے  بارے  میں  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے  یہ ارشاد فرمایا :

وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا(۷۹) (پ ۱۶ ،  الکھف : ۷۹)

ترجمۂ کنز الایمان :  اور ان کے  پیچھے  ایک بادشاہ تھا کہ ہر ثابت کشتی زبردستی چھین لیتا۔

          وہ بادشاہ توآج آگ کی مشقت جھیل رہاہوگایااسے  آگ سے  جزادی جارہی ہوگی اور تو ایسا شخص ہے  جس کے  لئے  روٹی پکائی گئی ہے  اورکہاجاتاہے  : ’’ اسے  کھائیے  ۔‘‘پھرآپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے  بادشاہ پراپنی گفتگوکومزیدسخت کرتے  ہوئے  ہروہ بات کہہ ڈالی جواسے  ناپسندہواور غضب میں مبتلا کردے   ۔دربارمیں وزرا اورفقہاءِکرام کی ایک کثیر تعداد موجود تھی، بادشاہ چپ ہو گیا اورشرمندہ ونادم ہوکرکہنے  

 لگا : ’’یہ شخص ہدایت یافتہ ہے ۔‘‘پھرآپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہسے  عرض کی : ’’اے  عبداللّٰہ ! آپ ہماری مجلس میں آتے  رہاکریں ۔‘‘ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے  فرمایا :  ’’یہ نہیں ہو سکتا کیونکہ تیری مجلس زبردستی کی ہے  اور جس محل میں تورہتا ہے  یہ بھی تم نے  ناحق چھینا ہوا ہے ، اگر میں مجبور نہ ہوتا تو کبھی بھی یہاں نہ آتا، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّمجھے  ، تمہیں اورتم جیسوں کو الگ الگ رکھے  ۔‘‘ابھی زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ وہی وزیر فوت ہو گیا اور آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے  اس کی نماز ِ جنازہ پڑھتے  ہوئے  ارشاد فرمایا :  ’’میں اپنی قسم سے  بَری ہو گیا۔‘‘ (الحدیقۃ الندیۃ، ۱/۲۱)

        میٹھے  میٹھے  اسلامی بھائی !کسی کے  سادہ لباس وغیرہ کودیکھ کر اُسے  حقیر اور کمزور جاننا بڑی بھول ہے  ۔کیا معلوم ہم جسے  حقیر تصوُّر کررہے  ہیں وہ کوئی گدڑی کا لعل یعنی مقبول ہستی ہو۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!                                  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(34)  بہترین لوگ وہ ہیں جو پاک دامن رہتے ہیں

          خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمینصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے  ارشاد فرمایا : خِیَارُاُ مَّتِیْ اَ لَّذِیْنَ یَعِفُّوْنَ اِذَا اٰتَاہُمُ اللّٰہُ مِنَ البَلاَئِ شَیْأً یعنی میری امت کے  بہترین لوگ وہ ہیں جب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ان کو آزمائش میں مبتلا فرماتا ہے  تو وہ پاک دامن رہتے  ہیں ، حاضرین نے  عرض کی : وَاَیُّ الْبَلَائِ؟وہ کونسی آزمائش ہے  ؟ رسولِ اکرم ، نُورِمُجَسَّمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے  اِرشاد فرمایا : ھوالْعِشْقُوہ  آزمائش عشق ہے  ۔(جامع الاحادیث ، ۴/  ۳۱۴ ،  حدیث : ۱۱۸۴۶)

           میٹھے  میٹھے  اسلامی بھائیو! نیک بننے  پاک دامنی اختیار کرنے  کے  لئے  اچھی صحبت اختیار کرنا بہت ضروری ہے  ، نگاہوں کی حفاظت ، خیالات کی پاکیزگی ہمیں بُرے  کاموں سے  بچائے  رکھتی ہیں ۔ہمیں اپنا وقت اور صلاحیتیں تعمیری مقاصد کے  لئے  استعمال کرنی چاہئیں ، اسی میں ہماری بھلائی ہے ، اگر ہم کرنے  کے  کاموں میں لگ جائیں گے  تواِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّوَجَلَّ  نہ کرنے  کے  کاموں سے  بچیں رہیں گے  ، حضرت ِ علامہ عبد الرء ُوف مناوی علیہ رحمۃ اللّٰہ  الھادی نقل فرماتے  ہیں کہ ’’ عشق کی بیماری فراغت سے  لگتی ہے  ۔‘‘(فیض القدیر ، ۶/  ۳۷۵ ،  تحت الحدیث : ۹۲۸۰)

(حکایت :  47)

 باحیا نوجوان

          علامہ ابن جوزی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی نے  عیون الحکایات میں ایک سبق آموز حکایت نقل کی ہے  کہ کوفہ میں ایک عبادت گزار، خوبصورت ونیک سیرت نوجوان رہتا تھا  ۔وہ اپنا زیادہ تر وقت مسجد میں گزارتااوریادِالٰہی عَزَّوَجَلَّ میں مشغول رہتا  ۔ایک مرتبہ ایک حسین وجمیل اورعقل مند عورت نے  اسے  دیکھ لیااور اس کی محبت میں مبتلا ہوگئی  ۔ایک دن وہ راستے  میں آکھڑی ہوئی اور نوجوان سے  کچھ کہنا چاہا مگر شرم



Total Pages: 56

Go To