Book Name:Behtar Kon?

(حکایت :  46)

مُسْتَجَابُ القَسَم صحابی

           حضرت سیِّدُنابراء بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ مشرکین کے  خلاف ایک لڑائی میں شریک ہوئے   ۔اس جنگ میں مشرکین نے  مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایاتومسلمانوں نے  حضرت سیِّدُنابراء بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے  کہا :  ’’اے  براء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ! سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم  نے  ارشادفرمایاہے  کہ ’’ اگرتم   اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پر  قسم کھاؤتو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ضرورتمہاری قسم کو پورافرمائے  گا پس آپ (مشرکین کے  خلاف)  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّپر قسم کھالیجئے  ! حضرت سیِّدُنابراء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے  بارگاہِ خداوندی میں عرض کی :  ’’ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میں تجھے  قسم دیتا ہوں کہ ہمیں مشرکین پر غلبہ عطا فرما  ۔آپ  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی یہ دعا قبول ہوئی اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے  مسلمانوں کو مشرکین پر غلبہ عطا فرمادیا  ۔پھر ایک مرتبہ ’’سُوس‘‘ کے  پل پر مسلمانوں کا کفار سے  آمنا سامنا ہوا توکفارنے  مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچایا ، مسلمانوں نے  کہا :  ’’ اے  براء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ !  اپنے  رب عَزَّوَجَلَّپر قسم کھائیے  ! انہوں نے  عرض کی :  ’’ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میں تجھے  قسم دیتا ہوں کہ ہمیں کفار پر غلبہ عطا فرما ! اور مجھے  اپنے  نبی صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم  کے  ساتھ ملادے  (یعنی شہادت عطا فرمادے )  ۔حضرت سیِّدُنابراء بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی یہ دعا بھی قبول ہوئی اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی جبکہ آپ  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ شہید ہوگئے   ۔‘‘(المستدرک ،  کتاب معرفۃالصحابۃ ،  باب ذکرشہادۃ البراء بن مالک ،  ۴/ ۳۴۰ ،  حدیث : ۵۳۲۵)

بادشاہ کے سامنے حق گوئی

          ایک دفعہ بادشاہ حضرت سیِّدُنا ابو محمد عبداللّٰہ  قطان رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے  قتل کے  در پے  ہو گیا تو سپاہی آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو گرفتار کر کے  وزیر کے  پاس لے  گئے  ۔وزیرنے  آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکو اپنے  سامنے  بٹھایا تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے  اس سے  مخاطب ہو کر فرمایا :  ’’اے  ظالم انسان! اے   اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاور اپنے  نفس کے  دشمن! مجھے  کیوں تکلیف پہنچا رہا ہے ؟‘‘وزیر بولا :  ’’ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے  جو زندگی تمہیں دی ہے  اس کے  بعد اب تم کبھی زندہ نہیں رہ سکتے  ۔‘‘ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے  اس سے  ارشاد فرمایا :  ’’تو موت کو قریب نہیں لاسکتا اورتقدیر کا لکھا ٹال نہیں سکتا بلکہ یہ سب کچھ جو تُوکہہ رہا ہے   نہیں ہو گا، البتہ!  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی قسم! میں تمہارے  جنازے  میں ضرور شریک ہوں گا۔‘‘ وزیر نے  اپنے  محافظوں کو حکم دیا : ’’اسے  قید کر دو یہاں تک کہ میں اس کے  قتل کے  بارے  میں بادشاہ سے  مشورہ کر لوں ۔‘‘ پس اس رات آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو قید کر دیا گیااورآپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ قید خانے  کی طرف جاتے  ہوئے  فرما رہے  تھے :  ’’مومن کا قید خانے  میں مسلسل رہنا انتہائی تعجب کی بات ہے  بلکہ یہ بھی قیدخانے  (یعنی دُنیا)کے  بعض گھروں میں سے  ایک گھرہے  ۔‘‘دوسرے  دن جب بادشاہ تخت پربیٹھاتو وزیر نے  شیخ (رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ)کا سارا ماجرا کہہ سنایا۔بادشاہ نے  آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو دربار میں بلالیا، اس نے  ایسی وضع قطع کے  ایک انسان کو دیکھا جس کی طرف کوئی توجہ نہ کرے  اور نہ ہی اہل دنیا میں سے  کوئی اس کی بھلائی چاہتا ہو ۔یہ سب کچھ ان کی حقیقت بیانی اور لوگوں کے  عیوب کوظاہر کر دینے  کے  سبب تھااوروہ لوگ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ پر ظلم و جبر کی قدرت نہ رکھتے  تھے  ۔بہرحال بادشاہ نے  آپ  سے  نام ونسب پوچھنے  کے  بعدکہا :  ’’کیا آپ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی وحدت کا اقرار کرتے  ہیں ؟‘‘ تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے  مختلف جگہوں سے  قرآنِ کریم کی تلاوت فرمائی جس سے  بادشاہ کوبہت تعجب ہوااوروہ آپ سے  بے  تکلف ہو کر اپنی سلطنت اور اس کی وسعت کے  بارے  میں پوچھنے  لگا کہ ’’آپ میری سلطنت کے  بارے  میں کیا فرماتے  ہیں ؟‘‘تو آپ مسکرانے  لگے   ۔بادشاہ نے  کہا : ’’آپ کس بات پرمسکرا رہے  ہیں



Total Pages: 56

Go To