Book Name:Behtar Kon?

اس سے  بڑا تعجب ہوالیکن معاملہ ابھی تک واضح نہ ہوا تھا۔پھر آپ رحمۃاللّٰہ  تعالٰی علیہ  نے  بیان شروع کر دیا، جس میں یہ جملہ بھی فرمایا : اے  فقراء !جب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے  توفیق کی ہوائیں سعادت مند دلوں پر چلتی ہیں تو وہ ہر روشنی کو بجھا دیتی ہیں ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے  سوا کوئی معبود نہیں ، اے  فقراء !جب عنایت کے  انوار مردہ دلوں پر روشنی کرتے  ہیں تو وہ راحت و سکون سے زندگی بسر کرتے  ہیں اور ہر ظلمت ان کے  لئے  روشن ہو جاتی ہے ، پھر آپ رحمۃاللّٰہ  تعالٰی علیہ نے  آیتِ سجدہ کی تفسیر بیان کرتے  ہوئے  جب سجدہ کیا اور لوگوں نے  بھی سجدہ کیاتو راہب بھی رسوائی کے  خوف سے  لوگوں کے  ساتھ سجدہ میں گر گئے  ۔آپ رحمۃاللّٰہ  تعالٰی علیہ نے  سجدے  میں یوں دعا کی : یاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!تو اپنی مخلوق کی تدبیر اور اپنے  بندوں کی مصلحت بہتر جانتاہے  ، یہ راہب مسلمانوں کے  لباس میں مسلمانوں کے  ساتھ تیری بارگاہ میں سجدہ کئے  ہوئے  ہیں ، میں نے  ان کے  ظاہر کو تبدیل کر دیا، ان کے  باطن کو تبدیل کرنے  پر تیرے  سوا کوئی قادر نہیں ، میں نے  انہیں تیرے  خوانِ کرم پربٹھا دیاہے  تو ان کو کفر کی تاریکی سے  نکال کر نورِ ایمان میں داخل فرمادے  ۔راہبوں نے  ابھی سر سجدے  سے  نہ اٹھائے  تھے  کہ ان سے  کفر و شرک کی ناپاکی دور ہو گئی اور وہ دائرہ اِسلام میں داخل ہوگئے ۔(الروض الفائق،  المجلس الثلاثون، ص۱۶۳)                                                                                            

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!                                                          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(32) تم سب میں بہترین میرے صحابہ ہیں

           سرکارِنامدار، مدینے  کے  تاجدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ رفعت نشان ہے : اََلَاوَ اِنَّ اَصْحَابِیْ خِیَارُکُمْ فَاَکْرِمُوْہُمْیعنی خبر دار! میرے  صحابہ تم سب میں بہترین ہیں ان کی عزت کرو۔(المعجم الأوسط، ۵/ ۶حدیث : ۶۴۰۵)

          میٹھے  میٹھے  اسلامی بھائیو!تمام صحابہ کرام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم اہلِ خیر و صلاح ہیں اور عادل، ان کا جب ذکر کیا جائے  تو خیر ہی کے  ساتھ ہونا فرض ہے  ۔کسی صحابی کے  ساتھ سوء ِ عقیدت بدمذہبی و گمراہی و استحقاقِ جہنم ہے  کہ وہ حضورِ اقدس صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے  ساتھ بغض ہے ۔تمام صحابہ کرام اعلیٰ و ادنیٰ (اور ان میں ادنیٰ کوئی نہیں )سب جنتی ہیں ، وہ جہنم کی بِھنک(ہلکی سی آواز بھی)نہ سنیں گے  اور ہمیشہ اپنی من مانتی مرادوں میں رہیں گے  ۔(بہار شریعت، ۱/ ۲۵۴)  ان نفوسِ قدسیہ کی فضیلت ومدح ، ان کے  حسنِ عمل، حسنِ اخلاق اور حسنِ ایمان کے  تذکرے  سے  کتابیں مالا مال ہیں اور انہیں دنیا ہی میں مغفرت، انعاماتِ اخروی اورباری تعالیٰ کی رضا وخوشنودی کا مثردہ سنا یا گیا ۔چنانچہ قرآنِ مجید فرقانِ حمیدمیں اِرشاد باری تعالیٰ ہے  :    رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ (پ۱۱، التوبہ : ۱۰۰) 

                  ترجمہ کنز الایمان : اللّٰہ ان سے  راضی اور وہ اللّٰہ سے  راضی ہیں ۔

صَحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان  کانہایت ادب کیجئے

صدرُ الافاضِل حضرتِ علامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی علیہ  رحمۃ اللّٰہ  الھادی فرماتے  ہیں : مسلمان کو چاہیے  کہ صَحابہ  کرام (علیھم الرضوان)کا نہایت ادب رکھے  اور دل میں ان کی عقیدت ومحبت کو جگہ دے  ۔ان کی محبت حُضُور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی  علیہ واٰلہٖ وسلَّم )کی محبت ہے  اور جو بد نصیب صَحابہ(علیھم الرضوان)کی شان میں بے  ادَبی کے  ساتھ زَبان کھولے  وہ دشمنِ خدا و رسول ہے ۔مسلمان ایسے  شخص کے  پاس نہ بیٹھے  ۔(سوانح کربلا، ص ۳۱)میرے  آقا اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے  ہیں :  

اہلسنّت کا ہے  بَیڑا پار اَصحابِ حُضُور

نَجم ہیں اور ناؤ ہے  عِترَت  رسولُ اللّٰہ کی

 



Total Pages: 56

Go To