Book Name:Behtar Kon?

سن کر آپ علی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلامنے  فرمایا :  جب تک تم نہیں آجاتے  تب تک میں یہیں ٹھہرا رہتا  ۔(تفسیر طبری، ۸/ ۳۵۱)

(حکایت :  40)

دس ہزار دینے کا وعدہ پورا کیا

          حضرتِ سیِّدُنا منکدررَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہاُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کی خدمت میں حاضرہوکرعرض گزارہوئے : اے  اُمُّ المومنین!میں فاقہ کشی کا شکار ہوں ۔اُمُّ المومنین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہانے  ارشاد فرمایا :  میرے  پاس کوئی چیز موجود نہیں ہے ، اگر میرے  پاس دس ہزار درہم بھی ہوتے  تو میں وہ تمہارے  پاس بھیج دیتی۔حضرتِ سیِّدُنا منکدررَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ جب واپس چلے  گئے  تواُمُّ المؤمنین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کے  پاس حضرتِ سیِّدُنا خالد بن اُسیدرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہکی طرف سے  دس ہزار درہم آئے  جو آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہانے  ان کی طرف بھیج دئیے ۔حضرتِ سیِّدُنا منکدررَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ وہ رقم لے  کر بازار گئے  اور ایک ہزار درہم کے  عوض ایک کنیز خریدی جس سے  آپ کے  تین بیٹے  پیدا ہوئے  اور ان کا شمار مدینہ منورہ کے  بڑے  عبادت گزاروں میں ہوا، ان تینوں کے  نام محمد ، ابوبکر اور عمر تھے  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تعالٰی (المستطرف ، ۱/۲۷۵)

وعدہ خلافی کیا ہے؟

          حدیث پاک میں ہے  : وعدہ خلافی یہ نہیں کہ ایک شخص وعدہ کرے  اور اسے  پورا کرنے  کی نیت بھی رکھتا ہو پھر پورا نہ کرسکے  ، بلکہ وعدہ خلافی تو یہ ہے  کہ وعدہ تو کرے  مگر پورا کرنے  کی نیت نہ ہو پھر پورا نہ کرے   ۔(شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ   الخ، سیاق ماروی عن النبی ان سباب المسلم   الخ، ۲/  ۸۶۸،  حدیث : ۱۸۸۱(ایک اور حدیثِ پاک میں ہے  کہ جب کوئی شخص اپنے  بھائی سے  وعدہ کرے  اور اس کی نیّت پورا کرنے  کی ہو پھر پورا نہ کر سکے  ، وعدہ پر نہ آسکے  تو اُس پر گناہ نہیں ۔( ابوداوٗد، کتاب الادب، باب فی العدۃ،  ۴/ ۳۸۸ حدیث ۴۹۹۵ )

وعدہ پور ا کرنے کی نیّت نہ ہو مگر اتِّفاقاً پورا ہو جائے تو

          مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے  ہیں :  حدیث کا مطلب یہ ہے  کہ اگر وعدہ کرنے  والا پورا کرنے  کا ارادہ رکھتا ہو مگر کسی عذر یا مجبوری کی وجہ سے  پورا نہ کرسکے  تو وہ گناہ گار نہیں ، یو ں ہی اگر کسی کی نیّت وعدہ خلافی کی ہو مگر اِتِّفاقاً پورا کردے  تو گنہگار ہے  اُس بَدنیّتی کی وجہ سے  ۔ہر وعدے  میں نیّت کا بڑا دخل ہے  ۔(مراٰۃالمناجیح، ۶/۴۹۲)

وعدے کے بارے میں دو مدنی پھول

          (۱)اعلیٰ حضرت ، مجدِّدِ دین وملت شاہ امام احمد رضاخان  علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن ایک سوال کے  جواب میں فرماتے  ہیں :  جوشخص کسی سے  ایک امرکاوعدہ کرے  اور اس وقت اس کی نیت میں فریب نہ ہو ، بعد کو اس میں کوئی حرج ظاہرہو ، اور اس وجہ سے  اس اَمر کو ترک کرے  تو اس پربھی خلافِ وعدہ کااِلزام نہیں ۔(فتاوی رضویہ ، ۲۴/  ۳۵۱)(۲)صدرا لشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمیعلیہ رحمۃُ اللّٰہ القوی لکھتے  ہیں :  وعدہ کیا مگر اس کو پورا کرنے  میں کوئی شرعی قباحت تھی اس وجہ سے  پورا نہیں کیا تو اس کو وعدہ خلافی نہیں کہا جائے  گا اور وعدہ خلاف کرنے  کا جو گناہ ہے  اس صورت میں نہیں ہوگا اگرچہ وعدہ کرنے  کے  وقت اس نے  اِستثناء نہ کیا ہو کہ یہاں شریعت کی جانب سے  اِستثناء موجود ہے  اس کو زبان سے  کہنے  کی ضرورت نہیں مثلاً وعدہ کیا تھا کہ’’ میں فلاں جگہ پر آؤں گا اور وہاں بیٹھ کر تمہارا انتظار کروں گا ۔‘‘مگر جب وہاں گیا تو دیکھتا ہے  کہ ناچ رنگ اور شراب خواری وغیرہ میں لوگ مشغول ہیں ، وہاں سے  یہ چلا آیا تو یہ وعدہ خلافی نہیں ہے  ، یا اس کا انتظار کرنے  کا وعدہ کیا اور انتظار کر رہا تھا کہ نماز کا وقت آگیا ، یہ چلا آیا (تو یہ)وعدہ کے  خلاف نہیں ہوا۔(بہار شریعت ، ۳/  ۶۵۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!                                                                                                        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

 



Total Pages: 56

Go To