Book Name:Behtar Kon?

(حکایت :  5)

فتویٰ بھی دیتے ہیں کھانا بھی کھلاتے ہیں

          حضرتِ سیِّدُنا ابراہیمجُمَحِی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویبیان کرتے  ہیں کہ ایک اَعرابی(دیہات کارہنے  والا) حضرت ِسیِّدُنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکے  گھر میں داخل ہوا۔آپ کے  گھر کے  ایک جانب حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہبن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما  فتوی دیا کرتے  ، ان سے  جو بھی سوال کیا جاتا اس کا جواب دیتے  اور دوسری جانب حضرت ِسیِّدُناعبیداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما  ہر آنے  والے  کو کھانا کھلاتے  ۔یہ دیکھ کراس اَعرابی نے  کہا : جو دنیا اور آخرت کی بھلائی چاہتا ہے  وہ حضرتِ سیِّدُنا عباس بن عبدالمطلب(رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما) کے  گھرضرور آئے  کیونکہ یہ فتویٰ دیتے ، لوگوں کوفقہ سکھاتے  اوریہ کھانا کھلاتے  ہیں ۔(تاریخ مدینہ دمشق، عبیداللّٰہ بن عباس، ۳۷/ ۴۸۰)   

جنت کی خوشخبری

          حضرتِ سیُِّدنا عبد اللّٰہ بن سلام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے  اِرشاد فرمایا :  پہلی بات جو میں نے  رسولِ اکرمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمسے  سنی وہ یہ تھی :  اے  لوگو ! سلام کو عام کرو ،  محتاجوں کو کھاناکھلایا کرو اور رات کو جب لوگ سو رہے  ہوں تونماز پڑھا کرو ، سلامتی کے  ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے ۔(ترمذی، کتا ب صفۃ القیامۃ، با ب۱۰۷، ۴/ ۲۱۹حدیث : ۲۴۹۳)

 تین افراد کی بخشش کا سامان

           حسنِ اخلاق کے  پیکر، نبیوں کے  تاجورصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے  فرمایا :  بیشکاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  روٹی کے  ایک لقمے  اور کھجوروں کے  ایک خوشے  اور اس جیسی دوسری چیزیں جومساکین کے  لئے  نفع بخش ہوں ، کی وجہ سے  تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے  گا :  (۱)گھر کے  مالک کو جس نے  صدقے  کا حکم دیا (۲)اس کی زوجہ کو جس نے  وہ چیز دُرُست کرکے  دی (۳)اس خادم کو جس نے  مسکین تک وہ صدقہ پہنچایا  ۔(مجمع الزوائد، کتاب الزکاۃ، باب اجرالصدقۃ، ۳/ ۲۸۸حدیث : ۴۶۲۲)

(حکایت : 6 )

روٹی کھلانے کا ثواب گناہوں پر غالب آگیا

 ایک راہب اپنی عبادت گاہ میں ساٹھ سال تک اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ  کی عبا دت کرتارہا ۔پھر ایک عورت اس کے  پاس آئی تو وہ اس کے  پاس نیچے  اتر آیا اور چھ راتیں اس کے  ساتھ رہا، جب اسے  اپنے  اس عمل پر ندامت ہوئی تو وہ دوڑتاہو ا مسجد کی طرف آیا ۔وہاں اس نے  دیکھا کہ تین بھوکے  شخص مسجد میں پناہ گزیں ہیں ، چنانچہ اس نے  ایک روٹی توڑ کر آدھی دائیں طرف والے  اور آدھی بائیں طرف والے  کو دے  دی ۔اس کے  بعداللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے  ملک الموت علیہ السلام کو بھیجا جنہوں نے  اس راہب کی روح قبض کرلی۔جب اس کی میزان کے  ایک پلڑے  میں 60 سال کی عبادت رکھی گئی اور دوسرے  پلڑے  میں چھ دن کے  گناہ تو وہ گناہ عبادت پر غالب آگئے  لیکن جب روٹی رکھی گئی تو وہ ان گناہوں پر غالب آگئی ۔(شعب الایمان، باب فی الزکاۃ، فصل فی ما جاء فی الایثار، ۳/ ۲۶۲حدیث : ۳۴۸۸ملتقطاً)

(حکایت :  7)

کفن کی واپسی

حضرتِ سیِّدُنا حسن بصریعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویکا بیا ن ہے  کہ ایک سائل نے  لوگوں سے  سوال کیا کہ اسے  کچھ کھانا کھلادیں لیکن انہوں نے  نہ کھلایا ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے  موت کے  فرشتے  کواس کی روح قبض کرنے  کا حکم دیا ، چنانچہ فرشتے  نے  اس فقیر کی روح قبض کرلی۔جب مؤ ذِّن مسجد میں آیا تو



Total Pages: 56

Go To