Book Name:Behtar Kon?

مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے  تحت لکھتے  ہیں : یعنی اپنی رحمت کے  سایہ میں یا عرشِ اعظم کے  سایہ میں (رکھے  گا)تاکہ قیامت کی دھوپ سے  محفوظ رہے ۔(’’وہ جوان جو اللّٰہکی عبادت میں جوانی گزارے ‘‘کے  تحت مفتی احمد یارخان علیہ رحمۃُ الحنّان لکھتے  ہیں ) یعنی جوانی میں گناہوں سے  بچے  اور رب کو یاد رکھے ، چونکہ جوانی میں اَعضاء قوی(یعنی مضبوط) اورنفس گناہوں کی طرف مائل ہوتا ہے ، اس لئے  اس زمانہ کی عبادت بڑھاپے  کی عبادت سے  افضل ہے     ؎

دَرْ جَوَانِیْ تَوْبَہْ کَرْدَنْ سُنَّتِ پَیْغَمْبَرِیْ اَسْت

وَقْتِ پِیْرِیْ گُرْگِ ظَالِمْ مِیْشَوَدْ پَرْہِیْزْگَار

(یعنی جوانی میں اللّٰہ کی بارگاہ میں رجوع کرنا پیغمبروں کا طریقہ ہے  اور بڑھاپے  کے  وقت تو ظالم بھیڑیا بھی پرہیزگار بن جاتا ہے )۔(مراٰۃ المناجیح، ۱/ ۴۳۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!                                                          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(29)تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں جووعدہ پورا کرتے ہیں

           سرکارِ عالی وقار، مدینے  کے  تاجدارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے  ارشاد فرمایا :  خِیَارُکُمُ الْمُوْفُوْنَ الْمُطَیَّبُوْنَ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْخَفِیَّ التَّقِیَّ یعنی :  تمہارے  بہترین لوگ وہ ہیں جووعدہ پورا کرنے  والے  اور نیک طبیعت کے  مالک ہیں ، بیشک ! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ گمنام اورپرہیزگار بندے  کو پسند فرماتا ہے  ۔(مسند ابی یعلی، مسند ابی سعید الخدری، ۱/  ۴۵۱، حدیث  : ۱۰۴۷) حضرتِ  علامہ عبد الرء ُوف مناوی رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے  ہیں :  ’’اَلْمُوْفُوْن‘‘ سے  مراد وہ لوگ ہیں جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے  لئے  اپنے  وعدوں کی پاسداری کریں ، اور ’’مُطَیَّبُوْن‘‘ سے  مراد وہ قوم ہے  جس نے  اپنے  ہاتھوں کو عِطْر میں ڈبو کر قسم کھائی تھی ، واقعہ کچھ یوں ہے  کہ ایک مرتبہ بنو ہاشم ، بنو زہرہ اور بنو تمیم زمانہ جاہلیت میں ’’دار اِبْنِ جَدْعَان‘‘ میں جمع ہوئے  اور اپنے  ہاتھوں کو عِطْر (کے  ایک پیالے ) میں ڈبو کر یہ وعدہ کیا کہ مجبورو بے  سہارا لوگوں کی مدد اور مظلوموں کی فریاد رسی کریں گے  ، جبکہ رسولُاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  جو اس وقت کم سِن تھے  یہ بھی ان کے  ساتھ موجود تھے  ، چونکہ ان قبیلوں نے  اپنا وعدہ وفا کیا لہٰذا رسولُاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے  یہ خبر دے  کر کہ مخلوق میں بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنا وعدہ پورا کرتے  ہیں ان لوگوں کی تعریف بیان کی  ۔بظاہر ایسا لگتا ہے  کہ ان لوگوں نے  زمانہ نبوی پالیا ہوگا اور مسلمان ہوگئے  ہوں گے  ، یہاں یہ بھی ممکن ہے  کہ ’’مُطَیَّبُوْن‘‘ سے  مراد وہ لوگ ہوں جو ان قبیلوں کے  نقش قدم پر چلتے  ہوئے  وعدہ وفا کرنے  کے  معاملے  میں امانت دارہوں  ۔(فیض القدیر ، ۲/ ۵۶۹ ،  تحت الحدیث : ۲۲۶۹)

اپنے وعدے پورے کرو

           اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے  قرآن مجید میں فرمایا :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ۬ؕ     (پ۶،  المائدۃ  : ۱)

ترجمہ کنزالایمان : اے  ایمان والواپنے  قول پورے  کرو۔

          تفسیر ’’قُرطُبی‘‘ میں منقول ہے  :  اس سے  وہ عقد مراد ہے  جو انسان خود پر لازم کرلیتا ہے  ، جیسے  خرید و فرخت ، اِجارہ ، کرائے  پر کچھ دینا ، نکاح و طلاق کا معاملہ ، کھیتی باڑی کے  لئے  زمین دینا ، باہم صلح کا معاملہ ، کسی کو مالک بنانا ، اِختیارات دینا ، غلام آزاد کرنا اور مُدَبَّر [1]؎بنانا وغیرہ وہ اُمور



[1]    جس غلام کو اس کے  آقا نے  کہہ دیا ہو کہ میرے  مرنے  کے  بعد تم آزاد ہو۔(بہار شریعت، ۲/ ۲۹۰)

 



Total Pages: 56

Go To