Book Name:Behtar Kon?

(28) بہترین نوجوان کون؟

          رسولِ بے  مثال، بی بی آمِنہ کے  لال صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : اِذَا رَأَیْتُمْ شَاباً یَاْخُذُ بِزِیِّ الْمُسْلِمِ بِتَقْصِیْرِہٖ وَتَشْمِیْرِہٖ فَذَاکَ مِنْ خِیَارِکُمْ یعنی : جب تم کسی ایسے  نوجوان کو دیکھوجو تنگی و خوشحالی ہر حال میں اسلام کے  طور طریقہ کواپنائے  رہے  تووہ تمہارے  بہترین لوگوں میں سے  ہے   ۔(کنز العمال،  کتاب الایمان والاسلام، جزء ۱، ۱/  ۱۲۱،  حدیث : ۱۰۸۶)

بیس سالہ عاجزی پسند نوجوان

           دعوتِ اسلامی کے  اشاعتی ادارے  مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ’’جہنم میں لے  جانے  والے  اعمال‘‘جلد اول صفحہ 235 پر ہے  کہ حضورنبی پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک  صلَّی اللّٰہ تعالٰی  علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے  : بے  شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس بیس سالہ نوجوان کو پسند فرماتاہے  جو (کمزوری اور تواضع میں )80سالہ بوڑھے  جیسا ہو اور اس 60سالہ بوڑھے  کو پسند نہیں فرماتا جو (چال ڈھال میں ) 20سالہ نوجوان جیسا ہو۔(جامع الاحادیث للسیوطی، ۲/ ۳۰۲حدیث : ۵۵۶۰)   

بزرگوں کے اندازاپنانے کی فضیلت

        سرکارِنامدار، مدینے  کے  تاجدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ رحمت نشان ہے : خَیْرُشَبَابِکُمْ مَنْ تَشََبَّہَ بِشُیُوْخِکُمْ یعنی تمہارے  نوجوانوں میں بہترین نوجوان وہ ہیں جواپنے  بزرگوں سے  مشابہت اختیار کریں ۔(شعب الایمان، باب الحیاء، ۶/  ۱۶۸، حدیث : ۷۸۰۶)

          حضرتِ  علامہ عبد الرء ُوف مناوی علیہ رحمۃُ اللّٰہ الہادی فرماتے  ہیں :  یعنی سیرت میں مشابہت اختیار کریں نہ کہ صورت میں تاکہ نوجوانوں پر علم کا وقار ، بُردباری والا اطمینان اور گھٹیا کاموں سے  بچنے  کے  باعث حاصل ہونے  والی پاکیزگی غالب رہے  اور وہ اپنی جلد بازی ، بد اخلاقی ، کھیل کود اور بچوں والی حرکتیں کرنے  کے  باعث اُٹھانے  والے  نقصان کو روک سکے  تاکہ دنیا میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حفاظت اور قیامت میں عرش کا سایہ نصیب ہو ۔مزید فرماتے  ہیں کہ نوجوانی بھی جنون کی ایک قسم ہے  ، اس حدیثِ پاک میں نوجوانوں کے  لئے  بردباری اور اطمینان کی ترغیب ہے   ۔(فیض القدیر ، ۳/ ۶۴۹ ،  تحت الحدیث : ۴۰۷۱) حضرتِ سیِّدُنا علامہ اسماعیل حَقّی رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ اس حدیث کے  تحت لکھتے  ہیں :  یہ مشابہت تمام چیزوں ’’اقوال ، احوال ، افعال ، کھڑے  ہونے  ، بیٹھنے ، لباس وغیرہ‘‘ ہر چیز کو شامل ہے  کہ صوفی بھی بزرگ ہوتا ہے  کیونکہ صوفی بننے  کا مقصد بھی اپنے  ظاہر وباطن سے  گناہوں بھری عادتیں ختم کرنے  سے  تعلق رکھتا ہے  لہٰذا صوفی کو چاہیے  کہ لباس بھی بزرگوں جیسا پہنے  اگر چہ جوان ہو  ۔(روح البیان ،  ۵/ ۵۶ ،  تحت الاٰیۃ : منکم من یرد الی ارذل العمر)  

عبادت میں جوانی گزارنے والے پر عرش کا سایہ

 سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے  فرمایا : سات شخص وہ ہیں جنہیں  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس دن اپنے (عرش یا رحمت کے ) سایہ میں رکھے  گا جب اس کے  سوا کوئی سایہ نہ ہوگا :  (۱)عادِل بادشاہ (۲)وہ جوان جو اللّٰہکی عبادت میں جوانی گزارے  (۳)وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہے (۴)وہ دوشخص جو  اللّٰہکے  لئے  محبت کریں جمع ہوں تو اسی محبت پر اورجدا ہوں تو اسی پر(۵)اور وہ شخص جسے  خاندانی حسین عورت بلائے  وہ کہے :  میں اللّٰہسے  ڈرتا ہوں (۶) اور وہ شخص جو چھپ کر خیرات کرے  حتی کہ اس کا بایاں ہاتھ نہ جانے  کہ داہنا ہاتھ کیا دے  رہا ہے  (۷)اور وہ شخص جوتنہائی میں اللّٰہکو یاد کرے  تو اس کی آنکھیں بہنے  لگیں۔( مسلم،  کتاب الزکاۃ، باب فضل اخفاء الصدقۃ، ص۵۱۴، حدیث : ۱۰۳۱)

 



Total Pages: 56

Go To