Book Name:Behtar Kon?

ابواب صفۃ القیامۃ، باب۱۲۵، ۴/ ۲۳۳حدیث : ۲۵۲۸)

ناکام شخص

          حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے  روایت ہے  کہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے  ارشاد فرمایا : وہ شخص فلاح نہ پائے  گا جس کی عزت لوگ صرف اس کے  شر کے  خوف سے  کریں ۔(مسند اسحاق بن راہویہ، ۲/ ۸۸)

مَدَنی پھول

          میٹھے  میٹھے  اسلامی بھائیو!مسلمان اپنے  مسلمان بھائی کا خیر خواہ ہوتا ہے   ۔کامل مسلمان وہی ہے  جس کی زبان وہاتھ سے  دوسرے  مسلمان محفوظ رہیں  ۔اگر کبھی شیطان کے  بہکاوے  میں آکر غلطی ہوجائے  اورکسی اسلامی بھائی کو ہم سے  کوئی تکلیف پہنچ جائے  تو فورا ً  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے  ڈر جانا چاہئے  اوراپنے  اسلامی بھا ئی سے  سچے  دل سے  معافی مانگ لینی چاہیے ۔اس کام میں ہرگز ہرگز سُستی و شرم نہیں کرنی چائیے  کہیں ایسا نہ ہو کہ کل بروز قیامت ایسی شرمندگی کاسامنا کرنا پڑے  جس کا ہم ابھی تصور بھی نہیں کرسکتے  لہٰذاعاجز بن کر فوراًمعافی مانگ لینے  ہی میں دین ودنیا کی بھلائی ہے   ۔آج کے  اِس پُر فتن دور میں دعوتِ اسلامی کا سنتوں بھرا ماحول ہمیں یہ مدنی سوچ دیتا ہے  کہ اپنے  مسلمان بھائیوں کا حسبِ مراتب ادب واحترام کرنا چائیے  ۔دعوت اسلامی نے  ہمیں یہ مَدَنی مقصد دیا ہے  کہ مجھے  اپنی اور ساری دنیا کے  لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔بطورِ ترغیب وتحریص ایک نوجوان کی زندگی میں مدنی انقلاب برپا ہونے  کی مدنی بہار ملاحظہ کیجئے  چنانچہ

میں شراب پیا کرتا تھا

          ڈہرکی (ضلع گھوٹکی باب الاسلام سندھ) کے  اسلامی بھائی (عمر تقریباً 24سال) کے  بیان کا لُبِّ لُباب ہے  کہ میں ایک دنیادار قسم کا نوجوان تھا جو دینی معلومات سے  کوسوں دور تھا ۔نمازوں کی پابندی نہ روزوں کا خیال !کچھ بھی تو نہ تھا۔بُرے  دوستوں کے  ساتھ آوارہ گردی کرنا ، فلمیں ڈرامے  دیکھنا میرا معمول تھا ۔بُری صحبت کی نحوست کی وجہ سے  شراب بھی پینے  لگا تھا ۔مجھ جیسے  بھٹکے  ہوئے  انسان کو نیکیوں کی شاہراہ پر گامزن کرنے  کا سہرا دعوت اسلامی کے  ایک مبلغ کے  سر ہے  جنہوں نے  مجھ پر انفرادی کوشش کرتے  ہوئے  ہفتہ وار سنّتوں بھرے  اجتماع کی دعوت دی اور اَ لْحَمْدُللّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نے  اس اجتماع میں شرکت کی ۔مجھ پر تھوڑا بہت اثر ضرور ہوا مگر گناہوں میں قید ہونے  کی وجہ سے  میں دعوتِ اسلامی کی زیادہ برکتیں سمیٹنے  سے  محروم رہا ۔پھر کچھ عرصے  بعد انہی اسلامی بھائی نے  مجھے  عاشقانِ رسول کے  ساتھ تین دن کے  مدنی قافلے  میں سفر کی دعوت دی جس پر لبیک کہتے  ہوئے  میں نے  راہِ خدا میں سفر اختیار کیا  ۔دورانِ مَدَنی قافلہ ایک مبلغ نے  63دن کا مدنی تربیتی کورس کرنے  کا ذہن دیا اور مجھے  یہ کورس کرنے  کی بھی سعادت نصیب ہوگئی ۔اسی کورس کے  دوران فیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی میں ہونے  والے  تین دن کے  تربیتی اجتماع میں شرکت کا موقع بھی ملا جہاں میں نے  بیان’’قبر کی پہلی رات‘‘ سنا تو میرے  دل میں مدنی اِنقلاب برپا ہوگیا اور میں نے  اپنے  پچھلے  گناہوں سے  توبہ کرتے  ہوئے  مدنی حلیہ سجانے  کی پختہ نیت کرلی  ۔اَ لْحَمْدُللّٰہعَزَّوَجَلَّ! اس وقت میں ایک مسجد میں امامت کی سعادت پاتا ہوں اور علاقائی مشاورت کے  خادم کی حیثیت سے  دعوتِ اسلامی کا مدنی کام کرنے  کے  لئے  کوشاں ہوں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّمجھے  دعوتِ اسلامی کے  مدنی ماحول میں اِستقامت نصیب فرمائے  ۔اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم   

تبلیغ سنتوں کی کرتا رہوں ہمیشہ

مرنا بھی سنتوں میں ہو سنتوں میں جینا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 56

Go To