Book Name:Behtar Kon?

دنیا سے بے رغبتی دل وجان کوراحت بخشتی ہے

          حضرتِ سیِّدُنا ابوہر یر ہ رضی اللّٰہ  تعالٰی  عنہ سے  روایت ہے  کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی  علیہ واٰلہٖ وسلّمنے  فرمایا :  اَلزُّھْدُ فِی الدُّنْیَا یُرِیْحُ الْقَلْبَ وَالْجَسَدَیعنی دنیاسے  بے  رغبتی دل وجان کوراحت بخشتی ہے ۔(مجمع الزوائد، کتاب الزھد، باب ماجاء فی الزھد فی الدنیا، ۱۰/ ۵۰۹،  حدیث : ۱۸۰۵۸)

برائی اور بھلائی کے گھروں کی چابیاں

           حضرتِ سیِّدُنا فُضَیل رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہفرماتے  ہیں :  تمام برائیاں ایک ہی گھر میں رکھ دی گئی ہیں اور اس گھر کی چابی دنیا کی محبت ہے  جب کہ تمام بھلائیاں بھی ایک ہی گھر میں رکھ دی گئی ہیں اور اس گھر کی چابی دنیا سے  بے  رغبتی ہے   ۔(منہاج القاصدین، ربع المنجیات، کتاب الفقر والزہد، ۳/ ۱۲۱۵)

دنیا کی پیدائش کا مقصد

          حضرتِ سیِّدُنا یوسُف بن اَسباط عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہ الغفّارفرماتے  ہیں :  دنیا اس لئے  پیدا نہیں کی گئی کہ اس کے  متعلق غور و خوض کیا جائے  ، بلکہ اس لئے  پیدا کی گئی ہے  تاکہ اس کے  ذریعے  آخرت کی فکر اور اس کی تیاری کی جائے   ۔(منہاج القاصدین، ربع المنجیات، کتاب التفکر، ۳/ ۱۳۹۳)

(حکایت :  34)

کاش !یہ پیالہ مجھے نہ ملاہوتا

          کسی بادشاہ کو فیروزہ ( ایک قیمتی پتھر) سے  بنا ہوا پیالہ پیش کیا گیا ، جس پر جَواہر جَڑے  ہوئے  تھے  اور وہ پیالہ بڑا شاندار تھا  ۔بادشاہ اس کے  ملنے  پر بہت خوش ہوااور اس نے  اپنے  پاس بیٹھے  ہوئے  ایک سمجھدار سے  پوچھا :  اس پیالے  کے  بارے  میں آپ کی کیا رائے  ہے  ؟ اس نے  کہا :  میں تو اسے  مصیبت یا فقر سمجھتا ہوں  ۔بادشاہ نے  پوچھا :  وہ کیوں ؟ اس نے  جواب دیا :  اگر یہ ٹوٹ جائے  تو ایسا نقصان ہوگا جس کی تلافی ممکن نہیں اور اگر چوری ہوجائے  تو آپ اس کے  محتاج ہوجائیں گے  اورآپ کو اس جیسا نہیں ملے  گا ، اورجب تک یہ آپ کے  پاس نہیں تھا تو آپ مصیبت اور فقرسے  امن میں تھے   ۔اِتفاق سے  ایک روز وہ پیالہ ٹوٹ گیا یا چوری ہوگیا تو بادشاہ بہت غمگین ہوا اوراس نے  کہا :  اس شخص نے  سچ کہا تھا، کاش ! یہ پیالہ مجھے  نہ ملاہوتا  ۔(احیاء علوم الدین،  کتاب ذم البخل وذم المال، بیان علاج البخل، ۳/ ۳۲۴)

(حکایت :  35)

نگران کا نام حاجت مندوں کی فہرست میں

          حضرتِ سیِّدُنا شَہْر بن حَوشَب رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہفرماتے  ہیں :  جب  امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ’’حِمْص‘‘ (ملک شام کے  ایک شہر)کے  دورے  پر تشریف لائے  تو لوگوں کو حکم دیا کہ اپنے  فقرا کے  نام لکھ دیں ، جب آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے  لسٹ ملاحظہ کی تو اس میں ایک نام سعید بن عامر تھا ، پوچھا :  کون سعید بن عامر ؟ کہا :  ہمارے  امیر(یعنی نگران) ، آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکو یہ سن کر بہت تعجب ہوا اور فرمانے  لگے  :  تمہارا امیر فقیر کیسے  ہے  ؟ اس کا مال و دولت کہاں ہے ؟ عرض کی :  وہ اپنے  لئے  کچھ نہیں بچاتے  ، یہ سن کر آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہرونے  لگے  اور ایک ہزار دینار ان کے  لئے  بھیجے  ، جب قاصد وہ دینار لے  کرحضرتِ سیِّدُنا سعید بن عامر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے  پاس پہنچا تو آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے  دینار دیکھتے  ہی ’’اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ‘‘ پڑھنا شروع کردیا ، زوجہ نے  عرض کی :  کیا ہوا ؟ کیا امیر المؤمنین انتقال فرماگئے  ؟ فرمایا :  اس سے  بھی بڑی بات ہوگئی ہے  ، دنیا میرے  پاس آگئی ، فتنہ میرے  پاس آگیا ، پھر آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے  ساری رات نماز پڑھتے  ہوئے  گزار دی۔صبح آپ مسلمانوں کے  ایک لشکر کے  پاس گئے  اور وہاں یہ مال تقسیم فرما دیا ، زوجہ نے  عرض کی



Total Pages: 56

Go To