Book Name:Behtar Kon?

(پ۱۹، الفرقان : ۷۴) خداوندا ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا۔خیال رہے  کہ سلطنت حکومت نفسانی خواہش، دنیا وی مال، عزت کی لالچ سے  طلب کرنا حرام ہے  کہ ایسے  طالبِ جاہ لوگ حاکم بن کر ظلم کرتے  ہیں مگر جب  نااہل سلطان یا حاکم بن کر ملک کو بربادکررہے  ہوں یا برباد کرنا چاہتے  ہوں تو دین و ملک کی خدمت کے  لئے  حکومت چاہنا حاصل کرنا ضروری ہے ۔حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلام نے  بادشاہ مصر سے  فرمایا تھا :  ’’ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآىٕنِ الْاَرْضِۚ-اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ(۵۵) ‘‘ (پ۱۳ ،  یوسف : ۵۵( (ترجمہ کنز الایمان :  مجھے  زمین کے  خزانوں پر کردے  ، بیشک میں حفاظت والا علم والا ہوں ) لہٰذا یہ حدیث ان مذکورہ دونوں آیتوں کے  خلاف نہیں کہ اس حدیث سے  طمع دنیاوی کے  لئے  دنیاوی اِمارت چاہنے  کی ممانعت ہے ۔حضرت صدیق اکبر(رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) نے  حضور(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کے  پردہ فرمانے  کے  بعد بکوشش ملک کی باگ دوڑ سنبھال لی تھی اور پھر امیربن کر دین و ملک کی خدمت کی جس سے  دنیا خبردار ہے ، آج تک اسلام و قرآن کی بقا حضرت صدیق (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) کی مرہونِ منت ہے  ۔(مراٰۃ المناجیح، ۵/ ۳۴۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!                                  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(حکایت :  33)

گورنر بننے سے انکارکردیا

          حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے  ہیں کہ ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے  مجھے  بلایا تا کہ کسی علاقے  کاگورنر مقررفرمائیں ، لیکن میں نے  گورنربننے  سے  اِنکارکر دیا تو امیرالمؤمنین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے  فرمایا :  ’’کیاآپ گورنری کو ناپسندجانتے  ہیں حالانکہ آپ سے  بہتر شخص حضرت یوسف (عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام)نے  اس کا مطالبہ کیا تھا ؟ ‘‘ میں نے  عرض کی :    

’’حضرت سیِّدُنا یوسفعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاماللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے  نبی اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے  نبی کے  بیٹے  تھے  جبکہ میں ابوہریرہ اُمَیَّہ کی اولاد ہوں ، میں بغیر علم کے  کوئی بات کہنے  اوربغیر عدل واِنصاف کے  فیصلہ کرنے  ، پیٹھ پر کوڑے  مارے  جانے  ، مال چھینے  جانے  اور بے  عزت کئے  جانے  سے  ڈرتا ہوں  ۔  (مصنف عبدالرزاق جامع معمر بن راشد ،  باب الامام راع ۱۰/  ۲۸۴ ،  رقم : ۲۰۸۲۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(25) بہتروہ جن کودیکھ کرخدا یادآئے

          رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ دلنشین ہے  :  خِیارُکُمْ مَنْ ذَکَّرَکُمْ بِاللّٰہِ رُؤْیَتُہُُ  تم سب میں بہتر ین وہ ہے  جس کادیدار تمہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکییاددِلائے ۔(جامع الصغیر، ص۲۴۴حدیث : ۳۹۹۵، جزء ۲)

            مُفَسِّرِشَہِیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے  ہیں : ان کے  چہروں پر اَنوار و آثار عبادت ایسے  ہوں کہ انہیں دیکھتے  ہی رب یاد آجائے  ان کے  چہرے  آئینہ خدا نما ہوں ۔حضور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) نے  فرمایا کہ’’ علی کا چہرہ دیکھنا عبادت ہے ، ‘‘(المعجم الکبیر، ۱۰/ ۷۶، حدیث : ۱۰۰۰۶)  آپ کو جو دیکھتا تھا کہتا تھا :  لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ !کیسا کریم، بہادر، حلیم، عالم اور جوان ہے  ۔(مرقاۃالمفاتیح، کتاب الادب، باب حفظ اللسان والغیبۃوالشتم، ۸/ ۶۰۸تحت الحدیث : ۴۸۷۱، ۴۸۷۲)(مفتی صاحب مزید لکھتے  ہیں : )حضور داتا صاحب(رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ) کے  مزار مقدس پر پہنچ کر دل کی دنیا بدل جاتی ہے ، مصری عورتوں نے  جمالِ یوسفی دیکھتے  ہی کہا تھا :  حَاشَا لِلّٰہ، یہ ہے  اللہ کی یاد آجانا۔یہاں حضرت شیخ عبدالحق (رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ) نے  فرمایا کہ میں ایک بار مکہ معظمہ کے  بازار میں سر نیچا کئے  جارہا تھاکہ اچانک ایک شخص پر نظر پڑی میرے  منہ سے  فوراً  لَا  اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَئْیٍ قَدِیْرٌ جاری ہو گیا۔(اشعۃ اللمعات، کتاب الادب، باب



Total Pages: 56

Go To