Book Name:Behtar Kon?

بہترین وہ ہے  جو اپنی عورتوں اور بچیوں کے  ساتھ اچھا ہو ۔(شعب الایمان ، باب فی حقوق الأولاد والأہلین، ۶/ ۴۱۵ ،  حدیث  : ۸۷۲۰)

 کامل ایمان والا ہے

          سرورِ عالم نورِ مجسم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے  اِرشادفرمایا : کامل ایمان والوں میں سے  وہ بھی ہے  جو عمدہ اخلاق والاہے  اور تم میں سے  بہتر وہ ہے  جو اپنی عورتوں کے  ساتھ سب سے  زیادہ اچھاہو  ۔(ترمذی ،  کتاب الرضاع ،  باب ماجاء فی احق المرأۃ   الخ ،  ۲/ ۳۸۶ ،  حدیث : ۱۱۶۵)

جنت میں داخل فرمائے گا

          رسولِ بے  مثال، بی بی آمِنہ کے  لال صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ رحمت نشان ہے  : جس کے  یہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اُسے  اِیذا نہ دے  اور نہ ہی بُرا جانے  اور نہ بیٹے  کو بیٹی پر فضیلت دے  تو اللہ عَزَّ وَجَلَّاُس شخص کو جنت میں داخِل فرمائے  گا۔( المستدرک ، کتاب البر والصلہ، باب من کن لہ ثلاث بنات، ۵/  ۲۴۸حدیث :  ۷۴۲۸)   

بیٹی پرماہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی شفقت

           حضرتِ سیِّدَتُنا بی بی فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاجب محبوبِ ربُّ العزّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت ِ سراپا شفقت میں حاضِر ہوتیں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکھڑے  ہو کران کی طرف متوجِّہ ہو جاتے  ، پھر اپنے  پیارے  پیارے  ہاتھ میں اُن کا ہاتھ لے  کراُسے  بوسہ دیتے  پھر اُن کو اپنے  بیٹھنے  کی جگہ پر بٹھاتے   ۔اسی طرح جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسیِّدَتُنا بی بی فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے  ہاں تشریف لے  جاتے  تو وہ دیکھ کر کھڑی ہو جاتیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا مبارک ہاتھ اپنے  ہاتھ میں لے  کر چُومتیں اورآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَو اپنی جگہ پر بٹھاتیں ۔(ابوداوٗد، کتاب الادب، باب ماجاء فی القیام، ۴/ ۴۵۴حدیث :  ۵۲۱۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!                                                        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(24) بہترین شخص وہ جو حاکم بننے سے سخت متنفرہو

          خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمینصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے  : تَجِدُوْنَ مِنْ خَیْرِالنَّاسِ اَشَدَّہُمْ کَرَاہِیَۃً لِہٰذَا الْاَمْرِ حَتَّی یَقَعَ فِیْہِ یعنی تم لوگوں میں بہترین شخص اسے  پاؤ گے  جو اس حکومت سے  سخت متنفر ہو حتی کہ اس میں مبتلا ہو جائے ۔(بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، ۲/ ۴۹۷حدیث : ۳۵۸۸) فقیہ اعظم ہند، شارحِ بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللّٰہ  تعالٰی  علیہ فرماتے  ہیں : یعنی جو شخص امارت قبول کرنے  کو ناپسند کرتا ہو اسے  والی(حکمران) بنا دیا جائے  تو اللّٰہ کی مدد اس کے  شامل حال ہوگی ، قبول کرنے  سے  پہلے  ناپسند کرتا تھا لیکن امیر بنائے  جانے  کے  بعد جب اللّٰہ کی مدد شامل حال ہوگی تو اس کی کراہیت (ناپسندیدگی) دُور ہوجائے  گی۔(نزہۃالقاری، ۴/ ۴۸۷)

حکومت نہ مانگو !

          حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن ابنِ سَمُرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے  ہیں کہ رسولُ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے  مجھ سے  ارشاد فرمایا :  حکومت نہ مانگو ! کیونکہ اگر تم طلب سے  حکومت دیئے  گئے  تو تم اس کے  حوالے  کردیئے  جاؤ گے  اور اگر تم بغیر طلب دیئے  گئے  تو اس پر تمہاری مدد کی جائے  گی  ۔(مسلم ،  کتاب الامارۃ،  باب النھی عن طلب   الخ ،  ص۱۰۱۴ ،  حدیث : ۱۶۵۲)

          مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے  تحت لکھتے  ہیں : دنیاوی اِمارت و حکومت طلب کرنا ممنوع ہے  ، مگر دینی اِمارت طلب کرنا عبادت ہے ، رب تعالیٰ فرماتا ہے  کہ ہم سے  دعا کیا کرو کہ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا(۷۴)  



Total Pages: 56

Go To