Book Name:Behtar Kon?

بے وقوف عورت شوہر کو برباد کردیتی ہے

          حضرتِ سیِّدُنا سلیمان بن داو ٗد عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی حکمت آمیز باتوں میں سے  ایک یہ بھی ہے  کہ عقل مند عورت اپنے  شوہر کے  گھر کو آباد کرتی ہے  جبکہ بیوقوف عورت اسے  برباد کرکے  چھوڑتی ہے ۔(المستطرف، ۲/ ۳۹۹)

اچھی اوربُری عورت کی مثال

          حضرتِ سیِّدُنا داوٗد عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے  ارشاد فرمایا : بُری عورت اپنے  شوہر کے  لئے  ایسی ہے  جیسے  بوڑھے  شخص پر بھاری وزن جبکہ اچھی عورت سونے  سے  آراستہ تاج کی طرح ہے  کہ جب بھی شوہر اسے  دیکھتا ہے  تو اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔(المستطرف، ۲/ ۴۰۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(21)بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی بچوں کے لئے بہترین ہو

          رسولِ بے  مثال، بی بی آمِنہ کے  لال صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ مغفرت نشان ہے : خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَہْلِہٖ وَاَنَا خَیْرُکُمْ لِاَھْلِیْ یعنی تم میں بہترین وہ ہے  جو اپنے  گھر والوں کے  لئے  بہترین ہو اور میں اپنے  گھروالوں کے  لئے  تم سب سے  اچھا ہوں ۔(ترمذی، کتاب المناقب، باب فضل ازواج النبی، ۵/ ۴۷۵حدیث : ۳۹۲۱)

کوئی مؤمن اپنی بیوی کودشمن نہ جانے

          رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیر، محبوبِ ربِّ قدیرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ محبت نشان ہے : کوئی مؤمن کسی مؤمنہ بیوی کو دشمن نہ جانے  اگر اس کی کسی عادت سے  ناراض ہو تو دوسری خصلت سے  راضی ہوگا۔(مسلم، کتاب الرضاع، باب الوصیۃبالنساء، ص۷۷۵حدیث : ۱۴۶۹)

بے عیب بیوی ملنا ناممکن ہے

          مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے  تحت فرماتے  ہیں : سُبْحٰنَ اللّٰہ!کیسی نفیس تعلیم، مقصد یہ ہے  کہ بے  عیب بیوی ملنا ناممکن ہے ، لہٰذا اگر بیوی میں دو ایک برائیاں بھی ہوں تو اسے  برداشت کرو کہ کچھ خوبیاں بھی پاؤ گے ۔یہاں (صاحِب)مرقات نے  فرمایا کہ جو شخص بے  عیب ساتھی کی تلاش میں رہے  گا وہ دنیا میں اکیلا ہی رہ جائے  گا، ہم خود ہزار ہا برائیوں کا چشمہ ہیں ، ہر دوست عزیز کی برائیوں سے  درگزر کرو، اچھائیوں پر نظر رکھو، ہاں اصلاح کی کوشش کرو، بے  عیب تو رسولُاللّٰہ(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) ہیں ۔(مراٰۃ المناجیح ، ۵/ ۸۷)

انسان کے چارباپ ہوتے ہیں                     

          مُفَسِّرِشَہِیر، حکیمُ الْاُمَّت،  حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اپنی مشہور زمانہ تصنیف لطیف ’’اسلامی زندگی‘‘میں شوہروں کو نصیحت کرتے  ہوئے  ارشاد فرماتے  ہیں : اور اے  شوہرو!تم یاد رکھو کہ دنیا میں انسان کے  چارباپ ہوتے  ہیں :  ایک تونسبی باپ، دوسرے  اپنا سُسَر تیسرے  اپنا اُستاد، چوتھے  اپنا پیر ۔اگر تم نے  اپنے  سُسَر کو بُراکہا تو سمجھ لو کہ اپنے  باپ کو بُرا کہا، حضورعلیہ السلامنے  فرمایاہے ، بہت کامیاب شخص وہ ہے  جس کی بیوی بچے  اس سے  راضی ہوں ۔خیال رکھو کہ تمہاری بیوی نے  صرف تمہاری وجہ سے  اپنے  سارے  میکے  کو چھوڑا۔بلکہ بعض صورتوں میں دیس چھوڑ کر تمہارے  ساتھ پردیسی بنی اگر تم بھی اس کو آنکھیں دکھاؤ تو وہ کس کی ہوکر رہے ؟ تمہارے  ذمہ ماں باپ، بھائی بہن، بیوی بچے  سب کے  حق ہیں کسی کے  حق میں کسی کے  حق کے  ادا کرنے  میں غفلت نہ کرو اور کوشش کرو کہ دنیا سے  بندوں کے  حق کا بوجھ اپنے  پر نہ لے  جاؤ، خدا کے  تو ہم سب گنہگار ہیں مگر مخلوق کے  گنہگار نہ بنیں ۔(اسلامی زندگی، ص۶۸)

 



Total Pages: 56

Go To