Book Name:Behtar Kon?

دوری اختیار کرنا ہے ۔ (المستطرف ، ۱/۲۴۸)

(حکایت :  25)

میرے دوست کو مجھ سے مانگنا پڑا

          ایک شخص اپنے  دوست کے  گھر گیا اور دروازہ کھٹکھٹایا۔دوست نے  باہر نکل کر حاجت دریافت کی تو اس نے  کہا کہ مجھ پر اتنا اتنا قرض ہے ۔دوست نے  گھر کے  اندر جاکر اسے  اتنی رقم لادی جو اس پر قرض تھی اور پھر گھر کے  اندر جاکر رونے  لگا۔اس کی زوجہ نے  کہا کہ اگر اس کی ضرورت کو پورا کرنا آپ پر گراں تھا تو پھر کوئی عُذر کیوں نہیں کردیا؟جواب دیا : میں اس لئے  رورہا ہوں کہ میں نے  اپنے  دوست کی خبر گیری نہیں کی یہاں تک کہ اسے  میرے  دروازے  پر آکر مانگنا پڑا ۔(المستطرف،  ۱/۲۷۵)

 اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا زیادہ محبوب

          نور کے  پیکر، تمام نبیوں کے  سَرْوَرصلَّی اللّٰہ تعالٰی  علیہ وآلہ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے  : جب دو دوست اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے  لئے  محبت کرتے  ہیں تو ان میں سے  جو اپنے  ساتھی سے  زیادہ محبت کرتا ہے  وہ اللّٰہعَزَّوَجَلکا زیادہ محبوب ہوتا ہے ۔(مستدرک، کتاب البروالصلۃ، باب اذا احب احدکم۔۔۔  الخ، ۵/ ۲۳۹حدیث : ۷۴۰۳)        حضرتِ علامہ عبد الرء ُوف مناوی علیہ رحمۃ اللّٰہ  الہادی اس حدیث ِپاک کی شرح میں فرماتے  ہیں :  ان دونوں میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے  نزدیک اس دوست کی زیادہ قدرو منزلت ہے  جو کسی دنیوی مطلب کے  حصول کے  لئے  نہیں بلکہ صرف اللّٰہ عَزَّوََجَلَّکی رضا کے  لئے  اپنے  دوست سے  محبت کرے  اور ان تمام حقوق کو ادا کرکے  محبت کو پختہ کرے  جس سے  دوستی مضبوط ہوتی ہے  اور اس کا اصول یہ ہے  کہ اپنے  دوست کے  لئے  وہی پسند کرے  جو اپنے  لئے  پسند کرتاہے  اگردوستی کی یہ حالت نہ ہو تو پھر یہ دوستی نہیں بلکہ منافقت اور دنیا وآخرت میں وبال ہے  ۔ (فیض القدیر ، ۵/ ۵۵۵تحت الحدیث : ۷۸۶۷)

یہی ایمان ہے

          صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہصلَّی اللّٰہ تعالٰی  علیہ وآلہ وسلَّم نے  ارشاد فرمایا : بے  شک آدمی کے  ایمان میں سے  یہ بھی ہے  کہ وہ کسی آدمی سے  صرف اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے  لئے  محبت کرے ، اس کی محبت کسی مال کے  عطیہ کرنے  کی وجہ سے  نہ ہو تو یہی ایمان ہے ۔(المعجم الاوسط، ۵/ ۲۴۵حدیث : ۷۲۱۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(18)سب سے بہترین پڑوسی

          رسولِ بے  مثال، بی بی آمِنہ کے  لال صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے  ارشاد فرمایا :  خَیْرُ الْجِیْرَانِ عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرُہُمْ لِجَارِہٖ یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے  نزدیک سب سے  بہترین پڑوسی وہ ہے  جو اپنے  پڑوسیوں کے  لئے  زیادہ بہتر ہو۔( ترمذی، ابواب ا لبروالصلۃ، ماجاء فی حق الجوار، ۳/ ۳۷۹حدیث : ۱۹۵۱) حضرتِ علامہ عبد الرء ُوف مناوی علیہ رحمۃ اللّٰہ  الہادی اس حدیث ِپاک کی شرح میں فرماتے  ہیں : ہر وہ شخص جو اپنے  پڑوسی کا زیادہ خیر خواہ ہو گا وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے  نزدیک سب سے  افضل ہو گا ، اس حدیث پاک سے  یہ بھی معلوم ہوا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے  نزدیک سب سے  بُراپڑوسی وہ ہے  جو اپنے  پڑوسی کے  ساتھ بُرا ہو۔(فیض القدیر، ۳/ ۶۲۴تحت الحدیث : ۳۹۹۸)

اسلام میں پڑوسی کاخیال

        سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صلَّی اللّٰہ  تعا لٰی علیہ وآلہ وسلَّم  کا فرمانِ عالیشان ہے : اللّٰہعَزَّوَجَلجس سے  محبت کرتاہے  اسے  بھی دنیا عطا کرتا



Total Pages: 56

Go To