Book Name:Behtar Kon?

الزُّخْرُف کی آیت نمبر 67میں اِرشادہوتاہے :

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠(۶۷)   (پ۲۵، الزخرف : ۶۷)

ترجمہ کنزالایمان : گہرے  دوست اس دن ایک دوسرے  کے  دشمن ہوں گے  مگر پرہیزگار ۔

صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادیاِس آیت کے  تحت لکھتے  ہیں : یعنی دینی دوستی اور وہ محبت جو  اللّٰہ  تعالیٰ کے  لئے  ہے  باقی رہے  گی  ۔حضرت علی مرتضٰیرضی اللّٰہ تعالٰی  عنہ سے  اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے  آپ نے  فرمایا :  دو دوست مومن اور دو دوست کافر ، مومن دوستوں میں ایک مرجاتا ہے  تو بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتا ہے :  یارب! فلاں مجھے  تیری اور تیرے  رسول کی فرمانبرداری کا اور نیکی کرنے  کا حکم کرتا تھا اور مجھے  برائی سے  روکتا تھا اور خبر دیتا تھا کہ مجھے  تیرے  حضور حاضر ہونا ہے  ، یارب! اس کو میرے  بعد گمراہ نہ کر اور اس کو ہدایت دے  جیسی میری ہدایت فرمائی اور اس کا اِکرام کر جیسا میرا اِکرام فرمایا ، جب اس کا مومن دوست مرجاتا ہے  تو  اللّٰہ تعالیٰ دونوں کو جمع کرتا ہے  اور فرماتا ہے  کہ تم میں ہر ایک دوسرے  کی تعریف کرے  تو ہر ایک کہتا ہے  کہ یہ اچھا بھائی ہے  ، اچھا دوست ہے  ، اچھا رفیق ہے   ۔اور دوکافر دوستوں میں سے  جب ایک مرجاتا ہے  تو دعا کرتا ہے  ، یارب! فلاں مجھے  تیری اور تیرے  رسول کی فرماں برداری سے  منع کرتا تھا اور بدی کا حکم دیتا تھا ، نیکی سے  روکتا تھااور خبر دیتا تھا کہ مجھے  تیرے  حضور حاضرہونا نہیں ، تو  اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے  کہ تم میں سے  ہر ایک دوسرے  کی تعریف کرے  تو ان میں سے  ایک دوسرے  کو کہتا ہے :  بُرا بھائی ، بُرا دوست ، بُرا رفیق ۔(خزائن العرفان، ص۹۰۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

آدمی اپنے دوست کے دین پرہوتا ہے

          سرکارِ والا تَبار، بے  کسوں کے  مددگارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : آدمی اپنے  دوست کے  دین پر ہوتا ہے ، لہٰذا تم میں سے  ہر ایک کو چا ہئے  کہ وہ دیکھے  کس سے  دوستی کررہا ہے ۔(ترمذی،  کتاب الزھد،  باب۴۵، ۴/ ۱۶۷حدیث : ۲۳۸۵)

           مُفَسِّرِشَہِیر، حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے  ہیں : دین سے  مراد یا تو ملت و مذہب ہے  یا سیرت و اخلاق، دوسرے  معنی زیادہ ظاہر ہیں یعنی عمومًا انسان اپنے  دوست کی سیرت و اخلاق اختیار کرلیتا ہے  کبھی اس کا مذہب بھی اختیار کرلیتا ہے  لہٰذا اچھوں سے  دوستی رکھو تاکہ تم بھی اچھے  بن جاؤ۔صوفیاء فرماتے  ہیں لَاتُصَاحِبْ اِلَّامُطِیْعاً وَلَا تُخَالِلْ اِلَّا تَقِیّاً یعنی نہ ساتھ رہو مگر اللّٰہ(و) رسول کی فرمانبرداری کرنے  والے  کے  نہ دوستی کرو مگر متقی سے ۔     مفتی صاحب رحمۃ اللّٰہ  تعالٰی  علیہ مزید فرماتے  ہیں :  کسی سے  دوستانہ کرنے  سے  پہلے  اسے  جانچ لو کہ اللّٰہ ورسول(عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کا مطیع ہے  یا نہیں !رب تعالیٰ فرماتاہے :  وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ(۱۱۹) (پ۱۱، التوبہ : ۱۱۹) (ترجمہ کنزالایمان : اور سچوں کے  ساتھ ہو)صوفیاء فرماتے  ہیں کہ انسانی طبیعت میں اَخذ یعنی لے  لینے  کی خاصیت ہے ، حریص کی صحبت سے  حرص، زاہد کی صحبت سے  زُہد و تقویٰ ملے  گا۔خیال رہے  کہ خُلَّت دلی دوستی کو کہتے  ہیں جس سے  محبت دل میں داخل ہوجائے ۔یہ ذکر دوستی و محبت کا ہے  کسی فاسِق و فاجِر کو اپنے  پاس بٹھا کر متقی بنا دینا تبلیغ ہے ، حضورِ اَنور(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم ) نے  گنہگاروں کو اپنے  پاس بلاکر متقیوں کا سردار بنادیا۔(مراٰ ۃ المناجیح، ۶/ ۵۹۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

فاسق کی صحبت سے بچو

          حضرتِ سیِّدُنا حَسَن بن احمد کاتب رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کا فرمان ہے : فاسِق وفاجر لوگوں کی صحبت ایک بیماری ہے  اور اِس کی دوا اُن سے  



Total Pages: 56

Go To