Book Name:Behtar Kon?

صرف یہی نہیں بلکہ آ پ کس ہتھیا ر سے  انہیں تو ڑنا چا ہتے  ہیں ، ا س کا بھی خصوصی انتظا م ہے  اور یہاں آ پ کو کلہا ڑی سے  لے  کر ہتھوڑی تک فراہم کی جاسکتی ہے  ۔بس آ پ کو کیا تو ڑ نا ہے  اور کس سے  تو ڑنا ہے ؟ اس کے  لئے  مطلو بہ رقم فراہم کیجیے  اور اپنا غصّہ انہیں تبا ہ کر کے  نکا ل دیں ۔(جنگ آن لائن 4 جنوری2013)

   غصہ کے وقت کی دعا

          اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کو جب غصہ آتا تو آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی  علیہ واٰلہ وسلمارشاد فرماتے : یوں کہو : اللّٰہُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ،  اِغْفِرْ لِی ذَنْبِی،  وَاَذْہِبْ غَیْظَ قَلْبِی، وَاَجِرْنِی مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ اے  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!اے  محمدصلَّی اللّٰہ تعالٰی  علیہ واٰلہ وسلمکے  رب!میرے  گناہ بخش دے  اور میرے  دل کے  غصے  کو ختم فرما اور مجھے  گمراہ کرنے  والے  ظاہری و باطنی فتنوں سے  محفوظ فرما۔ (عمل الیوم واللیلۃ لابن السنی، باب ما یقول اذا غضب، ص۴۰۴، حدیث۴۵۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

غصے کی عادت نکالنے کے دو وظیفے

(۱) چلتے  پھرتے  کبھی کبھی یَا اَللّٰہُ، یارَحْمٰنُ، یا رَحِیْمُ کہہ لیا کرے ۔

(۲) چلتے  پھرتے  یا اَرْحَمَ الرَّاحِمِین پڑھتا رہے ۔(غصے  کے  بارے  میں مزید معلومات کے  لئے  مکتبۃ المدینہ کے  رسالے  ’’غصے  کا علاج‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے ۔)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(17) سب سے بہترین دوست

           دو جہاں کے  تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے  :  خَیْرُالْاَصْحَابِ عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرُہُمْ لِصَاحِبِہٖ یعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے  نزدیک سب سے  بہترین رفیق وہ ہے  جو اپنے  دو ستوں کے  لئے  زیادہ بہتر ہو۔( ترمذی،  ابواب ا لبر والصلۃ، ماجاء فی حق الجوار، ۳/ ۳۷۹حدیث : ۱۹۵۱ )حضرتِ علامہ عبد الرء ُوف مناوی علیہ رحمۃ اللّٰہ  الہادی اس حدیث ِپاک کی شرح میں فرماتے  ہیں : لفظ’’ صاحِب‘‘ کا اطلاق چھوٹے  ، بڑے  اور برابر تینوں عمر والوں پر ہوتا ہے ، اسی طرح صحبت چاہے  دینی ہو یا دُنیاوی ، سفر میں ہو یاحالتِ اِقامت میں ، ان تمام صاحبوں ، دوستوں میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے  نزدیک اس کا ثواب اور درجہ زیادہ ہے  جو اپنے  دوست کی زیادہ خیر خواہی کرے ، اگر چہ اس کادوست دیگر خصلتوں میں اس سے  زیادہ مرتبہ رکھتا ہو۔(فیض القدیر، ۳/ ۶۲۴تحت الحدیث : ۳۹۹۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

خوشی داخل کرنے کا نرالا انداز

حضرتِ سیِّدُنا مُوَرِّق عِجلیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیبڑے  اَحسن انداز میں اپنے  دوستوں کے  دل میں خوشی داخل کیا کرتے  تھے ، اپنے  کسی دوست کے  پاس مال کی تھیلی رکھ کر اس سے  فرماتے : میرے  واپس آنے  تک اسے  اپنے  پاس رکھو، پھر اسے  پیغام بھیج دیتے  کہ یہ تمہارے  لئے  حلال ہے ۔(المستطرف ، ۱/ ۲۷۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 دوستی کس سے کرنی چاہئے؟

        میٹھے  میٹھے  اسلامی بھائیو! ہمیں ایسوں سے  دوستی کرنی چاہئے  جن کی دوستی ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں فائدہ دے ، پارہ25  سورۃُ



Total Pages: 56

Go To