Book Name:Behtar Kon?

رحمۃُ اللّٰہِ القویارشاد فرماتے  ہیں : علم ایسی چیز نہیں جس کی فضیلت اور خوبیوں کے  بیان کرنے  کی حاجت ہو ساری دنیا جانتی ہے  کہ علم بہت بہتر چیز ہے  اس کا حاصل کرنا طغرائے  امتیاز (یعنی بلندی کی علامت)ہے  ۔یہی وہ چیزہے  کہ اس سے  انسانی زندگی کامیاب اور خوشگوار ہوتی ہے  اور اسی سے  دنیا و آخرت سدھرتی ہے  ۔(اس سے  )وہ علم مراد ہے  جو قرآن و حدیث سے  حاصل ہو کہ یہی علم وہ ہے  جس سے  دنیا و آخرت دونوں سنورتی ہیں اور یہی علم ذریعۂ نجات ہے  اور اسی کی قرآن و حدیث میں تعریفیں آئی ہیں اور اسی کی تعلیم کی طرف توجہ دلائی گئی ہے  قرآن مجید میں بہت سے  مواقع پر اس کی خوبیاں صراحۃً یا اشارۃً بیان فرمائی گئیں ۔(بہار شریعت ، ۳/ ۶۱۸، ملخصاً)

جاہل بھی عالم کہے جانے پر خوش ہوتا ہے

          حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیکَرَّمَ اللّٰہ تعالٰی وَجہَہُ الکرِیم ارشاد فرماتے  ہیں : علم کی شرافت وبزرگی کے  لئے  یہ بات کافی ہے  کہ جو شخص اچھی طرح علم نہیں جانتا وہ بھی اس کا دعوی کرتا اور اپنی طرف علم کی نسبت کئے  جانے  پر خوش ہوتا ہے  جبکہ جہالت کی مذمت کے  لئے  اتنا کافی ہے  کہ جو شخص جہالت میں مبتلا ہو وہ بھی اس سے  بَرائَ ت ظاہر کرتا ہے  ۔(المجموع شرح المہذب، ۱/۱۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(14)بہتروہ شخص ہے جواللّٰہ  تعالیٰ کی طرف بلائے

           سلطانِ باقرینہ ، قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے : خِیَارُ اُمَّتِیْ مَنْ دَعَا اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی وَحَبَّبَ عِبَادَہُ إِلَیْہِ یعنی میری اُمت میں بہتر وہ شخص ہے  جو  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف بلائے  اور لوگوں کو  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کامحبوب بنائے   ۔(الجامع الصغیر ، ص۲۴۳ ،  حدیث : ۳۹۷۹)      حضرتِ سیِّدُناعلامہ عبد الرء ُوف مناوی علیہ رحمۃُ اللّٰہ الھادی اس حدیثِ پاک کے  تحت فرماتے  ہیں : اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف بلانے  سے  مراد توحید ، فرمانبرداری اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی خوشنودی کے  حصول کی طرف دعوت دینا ہے  ، اور لوگوں کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا محبوب بنانے  سے  مراد یہ ہے  کہ وہ لوگوں کو تقویٰ ، دنیا سے  بے  رغبتی اور  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت سکھائے  اس نیک بندے  کی نشانی یہ ہے  کہ ان تمام نیکیوں کو محض اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رضا کے  لئے  بجا لائے  اور شہرت کو اپنے  پاس بھی نہ آنے  دے   ۔(فیض القدیر ، ۳/ ۶۱۷ ،  تحت الحدیث : ۳۹۷۹)

نیکی کی دعوت اورسایۂ عرش

حضرتِ سیِّدُنا کعب الاحباررضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے  ہیں کہ : اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے  تورات شریف میں حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃ والسلامکی طرف وحی فرمائی : اے  موسیٰ !جس نے  نیکی کاحکم دیا، برائی سے  منع کیا ا ور لوگوں کو میری اِطاعت کی طرف بلایا تو وہ دنیا اور قبر میں میرامقرَّب ہوگااور قیامت کے  دن اسے  میرے  عرش کا سایہ نصیب ہوگا ۔(حلیۃ الاولیاء ،  کعب الاحبار ،  ۶ /  ۳۶ ،  رقم : ۷۷۱۶)

 (حکایت :  20)

نیکی کی خاموش دعوت

حضرتِ سیِّدُنا امام حسن رحمۃ اللہ تعالٰی علیہایک شادی میں مدعو تھے   ۔وہاں آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکو چاندی کے  برتن میں حلوہ پیش کیا گیا ، آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہنے  وہ برتن لیا اور حلوہ ایک روٹی پر پلٹ لیا اور کھانے  لگے   ۔یہ دیکھ کر ایک شخص بولا :  یہ نیکی کی خاموش دعوت ہے   ۔(منہاج القاصدین ،  ص۱۳۰،  مطبوعۃ : دار البیان دمشق)

مسئلہ : سونے  چاندی کے  برتن میں کھانا پینا اور ان کی پیالیوں سے  تیل لگانا یا ان کے  عطر دان سے  عطر لگانا یا ان کی انگیٹھی سے  بخور کرنا



Total Pages: 56

Go To