Book Name:Behtar Kon?

                   (حکایت :  17)

خُراسانی تحائف واپس کردئیے

حضرت سیِّدُنا حسن بصْری علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی کے  متعلق مروی ہے  کہ ایک دن آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ اپنی مجلس برخاست کرنے  کے  بعد اٹھے  تو خُراسان کے  ایک شخص نے  خدمت میں حاضر ہونے  کی اجازت طلب کی اور آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں ایک تھیلی پیش کی جس میں پانچ ہزار درہم تھے ، نیز اپنے  تھیلے  سے  خُراسان کے  ہی بنے  ہوئے  ریشم کے  انتہائی باریک دس عدد کپڑے  نکال کر پیش کئے  تو حضرت ِسیِّدُنا حسن بصْری علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی نے  پوچھا :  یہ کیا ہے  ؟ عرض کرنے  لگا :  اے  ابو سعید ! یہ درہم خرچ کے  لئے  ہیں اور یہ کپڑے  پہننے  کے  لئے  ہیں  ۔تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے  ارشاد فرمایا :  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتجھے  معاف فرمائے ، یہ کپڑے  اور درہم اپنے  پاس ہی رکھو، ہمیں ان کی کوئی حاجت نہیں  ۔اس لئے  کہ جو شخص میری طرح کی مجلس میں بیٹھے  اور لوگوں سے  اِس جیسی اشیا قبول کرے  تو قیامت کے  دن وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے  اس حال میں ملے  گا کہ اس کا کوئی حصہ نہ ہو گا۔(قوت القلوب، باب ذکر الفرق بین علماء الدنیا۔۔۔الخ، ۱/ ۲۴۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمّد

(10)تم سب میں بہترین وہ ہیں جو پاکیزہ دل سچی زبان والے ہیں  

           رسولِ اکرم ، نُورِمُجَسَّمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے  ارشاد فرمایا : لوگوں میں بہترین وہ ہیں جوقَلْبِ مَحْمُوْم اور سچی زبان کے  مالک ہیں ، جب قَلْبِ مَحْمُوْمکے  بارے  میں پوچھا گیا توسرکارِنامدار، مدینے  کے  تاجدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے  ارشاد فرمایا : اس سے  مراد وہ دل ہے  جو سرکشی، حسداور دیگر گناہوں سے  پاک ہو، عرض کی گئی :  ایسا دل کس کا ہو سکتا ہے  ؟ رحمتِ کونین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے  فرمایا :  جو شخص دنیا سے  نفرت اور آخرت سے  محبت کرے  ، پھر عرض کی گئی :  ایسا شخص کون ہو سکتا ہے  ؟ فرمایا :  وہ مومن جو حسنِ اخلاق کا مالک ہو ۔(شعب الایمان ، باب فی حفظ اللسان، ۴/  ۲۰۵ ،  حدیث  : ۴۸۰۰)

          میٹھے  میٹھے  اسلامی بھائیو! معلوم ہوا حسنِ اخلاق بہت ساری سعادتوں کی چابی ہے  جیسا کہ اس حدیثِ پاک میں بیان کیا گیا کہ حسنِ اخلاق جہاں بہت سارے  کبیرہ گناہوں سے  پاکیزہ رہنے  کا سبب ہے  وہاں حسنِ اخلاق دنیا سے  نفرت اور آخرت کی محبت کا بھی ذریعہ ہے   ۔اللّٰہعَزَّوَجَلّہمیں سچی زبان اورقَلْبِ مَحْمُوْم جیسی نعمت عطا فر ما کر اپنے  بہترین بندوں میں شامل فرمائے ۔

ناپاک دل قرب الٰہی کے قابل نہیں

           مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے  تحت فرماتے  ہیں :  ہر چیز کا کُوڑا کچرا مختلف ہوتا ہے ۔دل کا کُوڑا یہ چیزیں ہیں جن سے  دل میلا ہوتا ہے ، پھر جیسے  ناپاک بدن اس مسجد میں آنے  کے  قابل نہیں ایسے  ہی ناپاک دل مسجد قربِ الٰہی کے  قابل نہیں ، رب تعا لیٰ فرماتاہے : اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ(۸۹) (پ۱۹، الشعراء : ۸۹)

(ترجمہ کنز الایمان : مگر وہ جو اللّٰہ کے  حضور حاضر ہوا سلامت دل لے  کر)     (مراٰۃ المناجیح ، ۷/ ۵۰)  

 قبولیتِ دُعا کاراز

             مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے  ہیں : حلال کمائی سے  عبادات میں لذت، دل میں بیداری، آنکھوں میں تری، دعا میں قبولیت پیدا ہوتی ہے ۔جو بندہ مقبول الدعا بننا چاہے  وہ اَکْلِ حلال اور صِدْقِ مَقال یعنی غذا حلال اور سچی زبان رکھے ، حلال کمائی وہ جو حلال ذریعوں سے  آئے ۔( مراٰۃ المناجیح، ۷/ ۹۵)

 



Total Pages: 56

Go To