Book Name:Behtar Kon?

جنتی محلات

           حضرتِ سیِّدُنا ابو مالک اشعری رضی اللّٰہ تعالٰی  عنہسے  روایت ہے :  خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمینصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے  اِرشاد فرمایا :  جنت میں بالاخانے  ہیں جن کے  بیرونی حصے  اندر سے  اور اندر کے  حصے  باہر سے  نظر آتے  ہوں گے  ایک اَعرابی نے  کھڑے  ہوکر عرض کی : یارسولَ اللّٰہ  صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم! یہ کس کے  لئے  ہوں گے ؟ نبی کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے  فرمایا : جواچھی گفتگو کرے ، کھانا کھلائے  ، ہمیشہ روزہ رکھے  اور رات کو نماز ادا کرے  جبکہ لوگ سوئے  ہوئے  ہوں ۔(ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی قول المعروف، ۳/ ۳۹۶حدیث : ۱۹۹۱)  مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیث پاک کے  اس حصے ’’ہمیشہ روزہ رکھے  اور رات کو نماز ادا کرے ‘‘ کے  تحت فرماتے  ہیں :  ہمیشہ روزے  رکھیں سوا ان پانچ دنوں کے  جن میں روزہ حرام ہے  یعنی شوال کی یکم اور ذی الحجہ کی دسویں تا تیرھویں ، یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے  جو ہمیشہ روزے  رکھتے  ہیں ، بعض نے  فرمایا کہ اس کے  معنی ہیں ہر مہینہ میں مسلسل تین روزے  رکھے ، چونکہ نماز تہجد ریاء سے  دور ہے  اور تمام نمازوں کی زینت اس لئے  اس کے  پڑھنے  والے  کو مزین دریچے  دیئے  گئے ۔خلاصہ یہ ہے  کہ جُودو سجود کا اجتماع بہترین وصف ہے ۔(مراٰۃ المناجیح، ۲/  ۲۶۰ )

 سب سے افضل نماز

          حضرتِ سیدناابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے  روایت ہے  کہ حسنِ اخلاق کے  پیکر، نبیوں کے  تاجورصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے  فرمایا : رمضان کے  بعد افضل روزے   اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے  مہینے  محرم کے  ہیں اور فرض کے  بعد افضل نماز رات کی نماز ہے ۔(مسلم، کتا ب الصیام،  با ب فضل صوم المحرم، ص۵۹۱، حدیث : ۱۱۶۳) مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیث پا ک کے  تحت فرماتے  ہیں :  فرض سے  مراد نماز پنجگانہ ہے  مع سنن مؤکدہ اور وتر کے ، اور رات کی نماز سے  مرادتہجد ہے  یعنی فرائض وتر اورسنن مؤکدہ کے  بعد درجہ نمازِ تہجد کاہے  کیوں نہ ہو کہ اس نماز میں مشقت بھی زیادہ ہے  اور خصوصی حضور بھی غالب، یہ نماز حضورِ انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر فرض تھی، رب تعالیٰ فرماتاہے :

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ (پ۱۵، بنی اسرائیل : ۷۹)

(ترجمۂ کنزالایمان  : اور رات کے  کچھ حصہ میں تہجد کرو یہ خاص تمہارے  لئے  زیادہ ہے )

رب تعالیٰ نے  تہجد پڑھنے  والوں کے  بڑے  فضائل بیان فرمائے :  

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ (پ۲۱، السجدۃ : ۱۶)

(ترجمۂ کنزالایمان  : ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خوابگاہوں سے )اور فرماتا ہے :

وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا(۶۴) (پ۱۹، الفرقان : ۶۴)

(ترجمۂ کنزالایمان  : اور وہ جو رات کاٹتے  ہیں اپنے  رب کے  لئے  سجدے  اور قیام میں)

وغیرہ۔فقیر کی وصیت ہے  کہ ہر مسلمان ہمیشہ تہجد پڑھے  اور اس نماز کا ثواب حضور انورصلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم  کی بارگاہ میں ہدیہ کردیا کرے  بلکہ انہی کی طرف سے  ادا کیا کرے  ، اِنْ شَآءَاللہ (عَزَّوَجَلَّ )وہاں سے  بہت کچھ ملے  گا۔(مراٰۃ المناجیح، ۳/ ۱۸۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(9) تم سب میں بہتروہ ہے جولوگوں سے کچھ قبول نہ کرے

 



Total Pages: 56

Go To