Book Name:Behtar Kon?

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(8)  میری اُمت کے بہترین لوگ

         رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے  ارشاد فرمایا :  اَشْرَافُ اُمَّتِیْ حَمَلَۃُ الْقُرْاٰنِ وَاَصْحَابُ اللَّیْلِ یعنی میری اُمت کے  بہترین لوگ قرآن اٹھانے  والے  اور شب بیداری کرنے  والے  ہیں ۔(شعب الایمان، باب فی تعظیم القران، ۲/ ۵۵۶حدیث : ۲۷۰۳)

قرآن اٹھانے والوں سے کون مراد ہیں ؟

          مُفَسِّرِشَہِیر، حکیمُ الْاُمَّت،  حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے  تحت فرماتے  ہیں : قرآن اٹھانے  والوں سے  مراد قرآن کے  حافظ ہیں یا اس کے  محافظ یعنی حفاظ یا علمائے  کرام کہ ان دونوں کے  بڑے  درجے  ہیں ۔{مفتی صاحب مزید لکھتے  ہیں : }حافظ الفاظِ قرآن کی بقا کا ذریعہ ہیں ، علماء معانی و مسائل قرآن کی بقا کا ذریعہ اور صوفیاء اَسرارِ رموزِ قرآنی کے  بقاء کا۔رات والوں سے  مراد تہجدگزار ہیں ۔سبحٰن اﷲ!جس شخص میں علم و عمل دونوں جمع ہوجائیں اس پر خدا کی خاص مہربانی ہے ۔(مراٰۃ المناجیح ، ۲/ ۲۶۲)

(حکایت :  14)

لوگوں میں سب سے اچّھا کون ہے؟

          صاحِبِ قراٰنِ مُبین، مَحبوبِ ربُّ العٰلَمِین صلَّی اللّٰہ تعالٰی  علیہ واٰلہٖ وسلّم ایک مرتبہ منبرِ اقدس پر جلوہ فرما تھے  کہ ایک صَحابی رضی اللّٰہ تعالٰی  عنہنے  عرض کی :  یارسولَ اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّملوگوں میں سب سے  اچّھا کون ہے ؟ فرمایا :  لوگوں میں سے  وہ شخص سب سے  اچھّا ہے  جو کثرت سے  قراٰنِ کریم کی تِلاوت کرے  ۔ (مسند احمد، ۱۰/ ۴۰۲حدیث : ۲۷۵۰۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(حکایت :  15)

یہ خوشبوئیں کیسی ہیں ؟

          حضرتِ سیِّدُنا امام ابنِ ابی الدُّنیا رَحمۃُ اللّٰہِ تعالٰی علیہ نے  حضرتِ سیِّدُنامُغِیرہ بن حَبیب  رَحمۃُ اللّٰہِ  تعالٰی علیہ سے  روایت کی کہ ایک قَبْر سے  خوشبوئیں آتی تھیں ۔کسی نے  صاحبِ قبر کو خواب میں دیکھ کر اُن سے  پوچھا : یہ خوشبوئیں کیسی ہیں ؟جواب دیا :  تلاوتِ قرآن اور روزے  کی ۔(موسوعۃ لابن ابی الدنیا، ۱/ ۳۰۵حدیث : ۲۸۷، ملتقطاً)

شب بیداری کا فائدہ

          حضرتِ سیدناجابر رضی اللّٰہ تعالٰی  عنہ فرماتے  ہیں : میں نے  نبی کریمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمکو فرماتے  سنا کہ رات میں ایک گھڑی ہے  اگر کوئی مسلمان اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے  اس گھڑی میں دنیا و آخرت کی بھلائی مانگے  رب تعالیٰ اسے  دیتا ہے  اور یہ گھڑی ہر رات میں ہے ۔(مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا، باب فی اللیل ساعۃ، ص۳۸۰، حدیث : ۷۵۷)

 اگرقبولیت دعاچاہتے ہو توایمان کامل کرو

          مُفَسِّرِشَہِیر، حکیمُ الْاُمَّت،  حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے  تحت فرماتے  ہیں :  بعض علماء نے  فرمایا کہ روزانہ شب کی یہ ساعتِ قبولیت پوشید ہ ہے  جیسے  جمعہ کی ساعت مگر حق یہ ہے  کہ پوشیدہ نہیں گزشتہ حدیثوں میں بتادی گئی ہے  یعنی رات کا آخری تہائی خصوصًا اس تہائی کا آخری حصہ جو ساری رات کا آخری چھٹا حصہ ہے  جو صبحِ صادق سے  مُتَّصِل ہے ۔اس حدیث سے  معلوم ہوا کہ اس وقت مومن کی دعا قبول ہوتی ہے  نہ کہ کافر کی، اگر قبولیت چاہتے  ہو تو ایمان کامل کرو۔(مراٰۃ المناجیح ، ۲/ ۲۵۶)

 



Total Pages: 56

Go To