Book Name:Behtar Kon?

تلاوت سن کر فضول باتوں کے دلدادہ اٹھ گئے

          حضرت ِسیِّدُناعبید بن ابوجَعْدرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ ایک اَشْجَعی شخص سے  روایت کرتے  ہیں کہ لوگوں کو پتا چلا کہ حضرت ِسیِّدُناسلمان فارسی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہمدائن کی ایک مسجد میں ہیں تو وہ ان کے  پاس جمع ہونے  لگے  ، یہاں تک کہ ہزار کے  لگ بھگ افراد وہاں جمع ہوگئے   ۔آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے  کھڑے  ہو کر فرمایا :  بیٹھو ! بیٹھو ! جب سب لوگ بیٹھ گئے  تو آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے  سورۂ یوسف کی تلاوت شروع کر دی ، آہستہ آہستہ لوگ وہاں سے  نکلنے  لگے  ، یہاں تک کہ 100کے  قریب افراد باقی رہ گئے  ، آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے  جلال میں آکرفرمایا :  تم نے  من گھڑت باتیں سننا چاہیں ، لیکن میں نے  تمہیں  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا کلام سنایا توتم اُٹھ کرچل دئیے   ۔ (حلیۃ الاولیاء ،  ۱/  ۲۶۱ ،  رقم : ۶۴۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

آئیے!رب تعالیٰ کا پیارا کلام(قراٰنِ کریم)سیکھیں اورسِکھائیں

        میٹھے  میٹھے  اسلامی بھائیو!اَ لْحَمْدُللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے  تحت قراٰنِ پاک کی تعلیمات کو عام کرنے  کے  لئے  مختلف مساجد میں عُمُوماََبعد نمازِ عشاء ہزارہا مدارس المدینہ بالغان کی ترکیب ہوتی ہے  ۔جن میں بڑی عمر کے  اسلامی بھائی صحیح مخارِج سے  حروف کی دُرُست ادائیگی کے  ساتھ قراٰن کریم سیکھتے  اور دعائیں یاد کرتے  ، نمازیں وغیرہ درست کرتے  اورسُنّتوں کی تعلیم مُفْت حاصل کرتے  ہیں ۔آپ بھی ان مدارِس المدینہ (بالغان)میں پڑھنے  یا پڑھانے  کی نیت کر کے  دنیا وآخرت کی ڈھیروں بھلائیاں حاصل کیجئے ۔

(حکایت :  13)

قرآن سیکھنے کا شوق رکھنے والے کو نگران بنادیا

 قبیلۂ ثقیف کے  ایک وفد نے  بارگاہ رسالت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کیا تو نبی کریمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے  حضرتِ سیِّدُناعثمان بن ابو العاص رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکو ان پر امیر مقرر فرمادیا حالانکہ آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہان میں سب سے  چھوٹے  تھے  ، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ اسلام کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے  اور قراٰن سیکھنے  کی بہت زیادہ حرص رکھتے  تھے ۔(السیرۃ النبویۃلابن ہشام، ص۵۲۵)(اسد الغابۃ، ۳/ ۶۰۰)

جوسیکھ سکتا ہو وہ ضرورسیکھے

          حضرتِ سیِّدُناعبد اللّٰہبن مسعودرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے  ہیں : بلا شبہ یہ قراٰن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے  ضِیافت ہے  لہٰذاجواس سے  کچھ سیکھنے  کی طاقت رکھتا ہے  اسے  چاہئے  کہ اسے  سیکھے  کیونکہ خیر سے  سب سے  زیادہ خالی وہ گھر ہے  جس میں کتابُ اللّٰہ سے  کچھ نہ ہواورجس گھر میں کتابُ اللّٰہ سے  کچھ نہ ہو وہ اُس ویران گھر کی طرح ہے  جسے  کوئی آباد کرنے  والا نہ ہو ، بے  شک شیطان اُس گھر سے  بھاگ جاتا ہے  جس میں سورۂ بقرہ کی تلاوت سنتا ہے ۔(مصنف عبد الرزاق ، باب تعلیم القران وفضلہ، ۳/ ۲۲۵،  حدیث : ۶۰۱۸)

فرشتے اِستغفار کرتے ہیں

          تابعی بزرگ حضرتِ سیِّدُناخالد بن معدانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے  ہیں :  قراٰن کے  پڑھنے  اور اس کے  سیکھنے  والے  کے  لئے  سورت ختم ہونے  تک فرشتے  استغفار کرتے  رہتے  ہیں اس لئے  جب تم میں سے  کوئی سورت پڑھے  تواس کی دو آیتیں چھوڑدے  اور دن کے  آخری حصہ میں اسے  ختم کرے  تاکہ دن کے  شروع سے  آخر تک پڑھنے  پڑھانے  والے  کے  لئے  فرشتے  اِستغفار کرتے  رہیں ۔(سنن دارمی، ۲/ ۵۲۴حدیث  : ۳۳۱۸)

 



Total Pages: 56

Go To