Book Name:Behtar Kon?

تھی نادم وپریشان ہو کر فورا چھوڑدے  اور آئندہ کبھی اس گناہ کے  پاس نہ جانے  کا سچے  دل سے  پورا عزم (ارادہ)کرے  جو چارہ کار اس کی تلافی کا اپنے  ہاتھ میں ہو بجالائے  مثلاً نماز روزے  کے  ترک یا غَصَب، سَرِقَہ، رشوت، رِبا (سُود)سے  توبہ کی توصرف آئندہ کے  لئے  ان جرائم کا چھوڑدینا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے  ساتھ یہ بھی ضروری ہے  کہ جو نماز روزے  ناغہ کئے  ان کی قضا کرے  جو مال جس جس سے  چھینا ، چرایا، رشوت، سود میں لیا انھیں اور وہ نہ رہے  ہوں تو ان کے  وارثوں کوواپس کردے  یا معاف کرائے ، پتا نہ چلے  توا تنا مال تصدُّق کردے  اور دل میں نیت رکھے  کہ وہ لوگ جب ملے  اگرتصدُّق پرراضی نہ ہوئے  اپنے  پاس سے  انھیں پھیردوں گا ۔(فتاوی رضویہ، ۲۱/ ۱۲۱)

(حکایت :  11)

تیری توبہ قبول کرلیں گے

بنی اسرائیل میں ایک جوان تھا جس نے  بیس سال تک  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کی ، پھر بیس سال تک نافرمانی کی ۔پھر آئینہ دیکھاتو داڑھی میں بال سفید تھے  ۔وہ غم زدہ ہوگیا اورکہنے  لگا : ’’اے  میرے  خدا!میں نے  بیس سال تک تیری عبادت کی اور بیس سال تک تیری نافرمانی کی اگر میں تیری طرف آؤں تو کیا میری توبہ قبول ہو گی ؟‘‘ اس نے  کسی کہنے  والے  کی آواز سنی : تم نے  ہم سے  محبت کی ہم نے  تم سے  محبت کی ، پھر تو نے  ہمیں چھوڑ دیا اور ہم نے  بھی تجھے  چھوڑ دیا تو نے  ہماری نافرمانی کی اور ہم نے  تجھے  مہلت دی اور اگر تُو توبہ کر کے  ہماری طرف آئے  گا تو ہم تیری توبہ قبول کریں گے ۔(مکاشفۃ القلوب ،  الباب السابع عشر فی بیان الامانۃ والتو بۃ ،  ص ۶۲)   

(7) بہترین شخص وہ ہے جوقرآن سیکھے اوردوسروں کوسکھائے

          سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ ، قرارِ قلب وسینہ ، فیض گنجینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادِ رحمت نشان ہے : خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ وَعَلَّمَہٗ یعنی تم میں سے  بہترین شخص وہ ہے  جو خود قرآن سیکھے  اور دوسروں کو سکھائے  ۔(بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ، ۳/ ۴۱۰حدیث : ۵۰۲۷)    مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے  تحت فرماتے  ہیں : قرآن سیکھنے  سکھانے  میں بہت وسعت ہے  بچوں کو قرآن کے  ہجے  روزانہ سکھانا، قاریوں کا تجوید سیکھنا سکھانا، علماء کا قرآنی احکام بذریعہ حدیث وفقہ سکھانا ، صوفیائے  کرام کا اَسرار و رُموز قرآن بسلسلہ طریقت سیکھنا سکھانا، سب قرآن ہی کی تعلیم ہے  صرف الفاظِ قرآن کی تعلیم مراد نہیں ، لہٰذا یہ حدیث فقہاء کے  اس فرمان کے  خلاف نہیں کہ فقہ سیکھنا تلاوتِ قرآن سے  افضل ہے  کیونکہ فقہ احکامِ قرآن ہے  اور تلاوت میں الفاظ ِقرآن چونکہ کلامُ اﷲ تمام کلاموں سے  افضل ہے  لہٰذا اس کی تعلیم تمام کاموں سے  بہتر اور اَسرارِ قرآن الفاظِ قرآن سے  افضل ہیں کہ الفاظِ قرآن کا نزول حضور انور صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم کے  کان مبارک پر ہوا اور اَسرار و اَحکام کا نزول حضور انورصلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم کے  دل پرہوا، تلاوت سے  علم فقہ افضل،

     رب تعالیٰ فرماتاہے :  نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ [1]؎  عمل بالقرآن علمِ قرآن کے  بعد ہے  لہٰذا عالم عامِل سے  افضل ہے  (حضرت)آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام عالم تھے  فرشتے  عامل مگر حضرتِ آدم علیہ الصلوۃ والسلام افضل (و) مسجود رہے ۔(مراٰۃ المناجیح ، ۳/ ۲۱۷)

(حکایت :  12)

 



[1]    مکمل آیت یہ ہے :  قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۹۷)

ترجمہ کنزالایمان : تم فرمادو جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو اس نے  تو تمہارے  دل پر اللّٰہ کے  حکم سے  یہ قرآن اتارا اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتا اور ہدایت اور بشارت مسلمانوں کو ۔(پ۱، البقرۃ : ۹۷)



Total Pages: 56

Go To