Book Name:Bargah e Risalat Main Sahabiyat Kay Nazranay

رہا ہو تو مَعْیُوب (عیب دار)نہیں لیکن اِخْتِیار سے پڑھنے والا مَعْیُوب (بُرا، باعِثِ نَدامَت)ہے ۔

البتّہ!جو کلام اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اِطَاعَت، سنّت کی پَیروی، بِدْعَت سے اِجْتِنَاب اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی نافرمانی سے بچنے پر اُبھارے ، وہ عِبَادَت ہے اور اسی طرح جو کلام سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعریف پر مُشْتَمِل ہو وہ بھی عِبَادَت  ہے ۔ [1]

تعریفِ خدا و رسول پر مشتمل اشعار کو کیا کہتے ہیں؟

کلام (نَثْر یا نَظْم) کا وہ حِصّہ یا جُزْو جس میں خُدا کی تعریف و سِپاس (شکر گزاری) ہو، جس کلام  میں خُدا وند  تعالیٰ کی بڑائی اور قُدْرَت اور خدائی اور اسکے کمال و جَلال کا بیان ہو  اس کو حَمد و ثَنا کہتے ہیں ۔ [2]جبکہ وہ مَوزوں کلام جس میں  سَرورِ دو۲ جہاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی مَدْح و تعریف کی گئی ہو یا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے اَوصاف و شَمائِل کا بیان ہو، نیز آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ذات یا آپ سے مَنْسُوب کسی چیز سے مَحبَّت و عقیدت کا اِظْہَار ہو تو اسے نَعْت کہتے ہیں ۔ [3]

مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: اللہ تعالٰی کی تعریف کو حَمد کہتے ہیں، حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعریف کو نعت کہتے ہیں، بُزرگانِ دین کی تعریف کو مَنْقَبَت کہا جاتا ہے خواہ نَثْر میں ہو یا نَظْم میں ۔  [4]

سرکار کی شان بزبانِ قرآن

پیاری پیاری اسلامی بہنو! قرآنِ کریم میں جابجا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عَظَمَت و شان کی مِثالیں مذکور ہیں ۔ جیسا کہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں:

اے رَضا خود صَاحِبِ قرآں ہے مَدَّاحِ حُضُور

تجھ سے کب مُمکِن ہے پھر مِدْحَت رَسولُ اللہکی[5]

یہاں ذیل میں چند آیاتِ مُبارَکہ پیشِ خِدْمَت ہیں:

پہلی آیتِ مُبارَکہ

دو۲ جَہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آمَد سے قَبْل ہی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے تمام نبیوں اور رَسولوں سے یہ عَہْد و پیمان لے لیا کہ تم سب دنیا میں میرے مَحْبُوب کی تشریف آوری کا چَرْچَا کرتے رہنا، ان کی نُصْرَت و رَفَاقَت کے لیے ہر دَم کَمَر بستہ رہنا اور ان پر اِیمان لاکر اپنے سینوں میں ان کی مَحبَّت کو آباد رکھنا ۔  جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :  

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗؕ   (پ۳، آل عمران: ۸۱)

ترجمۂ کنز الایمان:اور یاد کروجب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عَہْد لیا جو میں تم کو کِتاب اور حِکْمَت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کِتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضَرور ضَرور اس پر اِیمان لانا اور ضَرور ضَرور اس کی مَدَد کرنا  ۔  

اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنّت، مُجَدّدِ دِىن و ملّت، پَروانۂ شَمْعِ رِسالَت مولانا شاہ اِمام احمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن  کیا خوب اِرشَاد فرماتے ہیں:

سب سے اَولیٰ و اَعلیٰ ہمارا نبی              سب سے بالا و والا ہمارا نبی

خَلْق سے اَولِیا، اَولِیا سے رُسُل          اور رَسولوں سے اعلیٰ ہمارا نبی

مُلْکِ کونَین میں اَنبیا تاج دار              تاج داروں کا آقا ہمارا نبی[6]

 



[1]     الزواجر، الکبیرة الستون والحادية والستون بعد الاربعمائة،۲/۴۰۳

[2]     اردو  لغت،۸/۲۷۲

[3]     اردو لغت ، ۲۰/۱۵۳

4     مراۃ المناجیح، ازواج پاک کے فضائل، پہلی فصل، ۸/۴۹۴

[4]     حدائق بخشش، ص۱۵۳

[5]     حدائق بخشش، ص۱۳۸-۱۳۹

[6]     حدائق بخشش، ص۱۳۸-۱۳۹



Total Pages: 15

Go To