Book Name:Bargah e Risalat Main Sahabiyat Kay Nazranay

دلِ یحییٰ میں اَرمان رہ گئے جس کی زِیَارَت کے

لبِ عیسیٰ پہ آئے وَعْظ جس کی شانِ رَحْمَت کے [1]

اَشعار کا حکم

پیاری  پیاری اِسْلَامی بہنو!دیکھا آپ نے ! سرورِ کائنات، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شان میں اہلِ مدینہ کی بچیوں نے اپنے جذبات کا اِظْہَار اَشعار میں کیسے کیا؟یاد رکھئے ! دِلی جذبات کی عکّاسی کرنے والا کلام دو۲ طرح کا ہوتاہے ۔  ایک کو نَثْر کہتے ہیں جبکہ دُوسْرا اَشعار کی شَکْل میں ہوتا ہے اور اسے نَظْم کہتے ہیں ۔  اَشعار اَچھّے بھی ہوتے ہیں اور بُرے بھی، مگر یاد رکھئے ! کوئی شے بسا اوقات اپنی ذات کی وجہ سے اَچھّی یا بُری نہیں ہوتی بلکہ ثَواب و عِتاب کا  حکْم اس چیز پر مَوقُوف ہوتا ہے جو اس سے اَدا کی جائے ۔ مثلاً حُروفِ تہجی کو دیکھ لیں کہ انہیں کسی خاص معنیٰ کے لیے وَضْع نہیں کیا گیا بلکہ یہ تو مُـخْتَلِف مَعانی کو اَدا کرنے کا آلہ ہیں، جیسے معنیٰ چاہیں ان سے اَدا کر سکتے ہیں خواہ اَچھّے ہوں یا بُرے یہاں تک کہ اِیمان سے کُفْر تک کا معنیٰ بھی اِنہی حُروف سے اَدا ہوتا ہے ، لہٰذا مطلقاً حُروف کو حَسَن یا قبیح (اَچّھے یا بُرے ) ہونے کے ساتھ مَوصُوف نہیں کر سکتے بلکہ یہ مَدح وذَم (تعریف و مَذمَّت)اورثواب و عِقاب میں اس چیز کے تابع ہوتے ہیں جو ان سے اَدا کی جائے ، جیسے تلوار بَہُت اَچھّی ہے اگر ا س سے حِمایَتِ اِسلام کی جائے اور سَخْت بُری ہے اگر خونِ ناحَق میں بَرتی جائے ۔ جیسا کہ حدیثِ پاک  میں ہے :اَلشِّعْرُ بِـمَنْزِلَةِ الْـکَلَامِ، حَسَنُهُ کَحَسَنِ الکَلَامِ وَقَبِیْحُهُ کَقَبِیْحِ الکَلَامِ ۔ [2] یعنی شِعْر بَمَنْزِلَۂ کلام کے ہے تو اس کا اَچھّا مِثل اَچھّے کلام کے اور اس کا بُرا مِثل بُرے کلام  کے ۔  لہٰذا اَشعار پر فِی  نَـفْسِھَا اَچھّے یا بُرے ہونے کا کوئی حکْم نہیں ہو سکتا بلکہ یہ اَدا کیے گئے مَفہوم کے تابع ہوں گے ۔ کیونکہ بعض شِعْر حِکْمَت بھرے بھی ہوتے ہیں جیسا کہ حدیث صحیح میں اِرشَاد ہوتا ہے :اِنَّ مِنَ الشِّعرِ حِکْمةً ۔ [3] بعض اَشعار حِکْمَت والے ہوتے ہیں، اور دُوسْری طرف اگر بیہودہ باتوں اور لَغْوِیات پر مُشْتَمِل شاعِری کی جائے تو وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ(۲۲۴)(پ ۱۹، الشعرآء:۲۲۴)[4] فرمایا گیا ۔  وہاں}اِنَّ اﷲ یُؤَیِّدُ حَسَّانَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ{[5] (یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ حضرت سَیِّدُنا جبریل کے ذریعے حضرت سَیِّدُنا حسّان بن ثابِت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تائید کرتاہے ۔ ) کی بَشَارَتِ جَانْفِزا ہے اور دُوسْری طرف}اِمْرَؤُ الْقَیْسِ صَاحِبُ لِوَاءِ الشُّعَرَآءِ  اِلَی النَّارِ{[6](یعنی اِمْرَؤُ القیس شاعِروں کا علمبردار آتَشِ دَوزخ میں ہے ۔ کی وَعِیدِ جَانگُزا(جان کو تکلیف دینے والی دھمکی) ۔ [7]

کیسے اَشعار درست ہیں؟

پیاری پیاری اسلامی بہنو! معلوم ہوااگر اَشعار میں اللہ و رسول (عَزَّ  وَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کی تعریف ہو یا ان میں حِکْمَت  کی باتیں ہوں یا اَچھّے اَخلاق کی تعلیم ہو تو اَچھّے ہیں اور اگر لَغْو و باطِل پر مُشْتَمِل ہوں تو بُرے ہیں ۔ اَکثر شُعَرا چونکہ ایسے ہی بے تکی ہانکتے ہیں اس وجہ سے ان کی مَذمَّت کی جاتی ہے ۔ [8]  جو اَشعار مُباح ہوں ان کے پڑھنے میں حَرَج نہیں ۔ اَشعار کے پڑھنے سے اگر یہ مَقْصُود ہو کہ ان کے ذریعہ سے تفسیر و حدیث میں مَدَد ملے یعنی عَرَب کے مُحاوَرات اور اُسْلُوبِ کلام سے آگاہ ہو، جیسا کہ شُعَرَائے جَاھِلِیَّت کے کلام سے اِسْتِدَْلل کیا جاتا ہے ، اس میں بھی کوئی حَرَج نہیں ۔ [9]

اَلْغَرَضْ اَشعار پر مُشْتَمِل کلام تین۳ طرح کا ہوتا ہے :

مُسْتَحَب کلام:اس سے مُراد وہ کلام ہے جو دنیا سے بچائے اور آخِرَت کی رَغْبَت دِلائے یا اَچھّے اَخلاق پر اُبھارے ، وہ مُسْتَحَب ہوتا ہے ۔  

مُباح کلام :اس سے مُراد وہ کلام ہے جس میں فُحْش اور جھوٹ نہ ہو ۔

مَمْنُوع کلام: اس کی دو۲ اَقسام ہیں: جھوٹ اور فُحْش اور ان دونوں کے کہنے والوں کو عیب لگایا جائے گا اور اگر کوئی حَالَتِ اِضْطِرَار میں پڑھ



[1]     شاہنامہ اسلام مکمل، ص ۸۸

[2]     ادب المفرد، باب الشعر حسن کحسن الکلام ومنه قبیح، ص۲۵۶، حدیث:۸۶۵

[3]     بخاری،کتاب الادب، باب ما یجوز من الشعر   الخ، ص۱۵۲۵، حديث:۶۱۴۵

[4]     ترجمۂ کنز الایمان:اور شاعروں کی پیرو ی گمراہ کرتے ہیں۔

[5]     مستدرك ،کتاب معرفةالصحابة، ذکر مناقب  حسان،۴/۶۱۶، حديث:۶۱۱۲

[6]     کنزالعمال،کتاب الفضائل،الباب السادس، امرؤالقیس ،المجلد السادس، ۱۲/۷۰، حدیث:۳۴۴۴۰

[7]     فتاویٰ رضویہ، ۲۳/۴۵۸-۴۵۹ملخصاً

[8]     بہار شریعت، ۳/۵۱۴

[9]     فتاوی ھندیه ، کتاب الکراھیة، الباب السابع عشر فی الغناء،۵/ ۴۳۱



Total Pages: 15

Go To