Book Name:Bargah e Risalat Main Sahabiyat Kay Nazranay

فَلَبِسْنَا ثَـوْبَ یَـمَنٍ                                                 بَـعْـدَ تَـلْـفِـیْقِ الرِّقَاعٖ

فَـعَـلَـیْـكَ اللهُ صَلّٰی                                               مَـا سَـعٰی لِلّٰهِ سَـاعٖ

ہم لوگوں نے یمنی کپڑے پہنے حالانکہ اس سے پہلے پیوند جوڑ جوڑ کر کپڑے پہنا کرتے تھے تو آپ پر اللہ تَعالٰی اس وَقْت تک رحمتیں نازِل  فرمائے  جب تکاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے کوشِش کرنے والے کوشِش کرتے رہیں ۔ [1]

آمدِ سرکار پر اظہارِ مسرت

پیاری پیاری اسلامی بہنو! مَحْبُوبِ ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آمَد پر اَنصار کی بچیوں نے جس وَالِہَانہ انداز میں اِظْہَارِ مَسَرَّت  کیا وہ یقیناً اپنی مِثال آپ ہے اور ان بچیوں کے وہ پُر مَسَرَّت اَشعار آج بھی ہمارے لیے تسکینِ جاں کا باعِث ہیں ۔  آمَدِ سرکار پر خوشیوں کے صِرف یہی ترانے اَنصاری بچیوں کے وِرْدِ زبان نہیں تھے بلکہ مدینۂ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کو بُقْعٔ نُور بنانے پر مَرْحَبا کہتے ہوئے بَنی نَجّار کی لڑکیاں گلی کوچوں میں یوں اِظہارِ مَسَرَّت کر رہی تھیں:

نَحْنُ جَوَارٍ مِّنْ بَنِی النَّجَّارِ

یَا حَبَّذَا مُـحَمَّدٌ مِّنْ جَارِ[2]

یعنی ہم قبیلہ بَنی نَجّار کی بچیاں ہیں حضرت سَیِّدُنا محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیسے اَچھّے پڑوسی ہیں ۔

شانِ نبوی کے کیا کہنے !

پیاری پیاری اِسلامی بہنو! اس دُنیائے فانی میں مخلوق کو خالِق سے مِلانے کے لیے بَہُت سے اَنبیائے کِرام  و رُسُل عُظَّام  عَلَیْہِمُ السَّلَام تشریف لائے ۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان میں سے ہر نبی و رسول کو مُـخْتَلِف کمالات و معجزات سے نوازا ۔  مثلاً کسی نبی کو حُسْن و جَمال میں کمال عَطا فرمایا تو کسی کو جاہ و جَلال(شان وشوکت) میں ۔ کسی کو سَلْطَنَت و مال سے نوازا تو کسی کو رِفْعَت و عَظَمَت کی دولتِ لازوال سے ، مگر رَبِّ لَمْ یَزَل عَزَّ  وَجَلَّنے جب اپنے محبوبِ بے مِثال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس خاک دانِ عالَمِ زَوال(یعنی خَتْم ہونے والی خاکی زمین) میں مَبْعُوث فرمایا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نہ صِرف  حُسْن و جَمال سے نوازا بلکہ جاہ و جَلال (شان وشوکت) اور جُود و نَوَال (عَطا و بَـخْشِشْ)کی دولت سے بھی خوب مالا مال فرمایا ۔  جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا  جامی قُدِّسَ  سِرُّہُ السّامی نے کیا خوب کہا ہے :

حُسنِ یُوسُف دَمِ عیسیٰ یَدِ بَیضَا داری

آنچہ خُوباں ہَمہ دَارَنْد تُو تنہا داری[3]

یعنی سرورِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سَیِّدُنا  یُوسُف عَلَیْہِ السَّلَام کا حُسْن، حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی پھونک اور روشن ہاتھ رکھتے ہیں، (یہی نہیں بلکہ)جو کمالات وہ سارے نبی و رسول رکھتے ہیں آپ اکیلے رکھتے ہیں ۔

خدا نے ایک محمد میں دے دیا سب کچھ

کریم کا کَرَم بے حِساب کیا کہنا

پیاری پیاری اسلامی بہنو!جب ایسی شانوں والے نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اَنصار کے ہاں قَدَم رَنْجَہ فرمایا تو ان کے ہاں خوشیوں کا سَماں کیوں نہ ہوتا اور ان کی بچیاں شوق و وَجْد میں کیوں نہ مَحبَّت و عِشْق سے بھرپور ترانے گاتیں؟کیونکہ وہ نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تو ایسے تھے جن کے بارے میں کسی نے کیا خوب کہا ہے :

خلیل اللہ نے جس کے لیے حَق سے دُعائیں کیں

ذَبِیحُ اللہ نے وَقْتِ ذَبْح جس کی اِلتجائیں کیں

جو بَن کر روشنی پھر دِیدۂ یعقوب میں آیا

جسے یُوسُف نے اپنے حُسْن کے نَیرنگ میں پایا

وہ جس کے نام سے داود نے نغمہ سَرائی کی

وہ جس کی یاد میں شاہ سلیمان نے گدائی کی

 



[1]    سیرت مصطفیٰ، ص۱۷۶

[2]     ابن ماجة، کتاب النکاح، باب الغناء والدف، ص۳۰۴، حدیث:۱۸۹۹

[3]     فتاویٰ رضویہ، ۳۰/۱۸۵



Total Pages: 15

Go To