Book Name:Bargah e Risalat Main Sahabiyat Kay Nazranay

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

بارگاہِ رسالت میں صحابیات کے نذرانے

دُرُودِ پاک کی فضیلت

دعوتِ اسلامی کے اِشَاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کے مَطْبُوعَہ  32 صَفحات پر مُشْتَمِل رِسالے ذِکْر والی نعت خوانیصَفْحَہ 1 پر شیخ طریقت، امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ دُرُودِ پاک کی فضیلت نَقْل فرماتے ہیں:حضرتِ اُبَیّ بِن کَعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رِسَالَت میں عَرْض کی:(فرائض وغیرہ کے عِلاوہ)میں اپنا سارا وَقْت دُرُود خوانی میں صَرف کروں گا تو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: یہ تمہاری فِکْروں کو دُور کرنے کے لیے کافی اور تمہارے گناہوں کے لیے کفّارہ ہو جائے گا ۔ [1]

تِری اِک اِک ادا پہ اے پیارے

سو دُرُودیں فِدا ہزار سلام

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

آمدِ سرکار پر خوشیوں کے ترانے

دعوتِ اسلامی کے اِشَاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مَطْبُوعَہ 107صَفحات پر مُشْتَمِل کتاب آئینۂ قِیامَت صَفْحَہ 27پر ہے :حُضُور سرور ِعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کافِروں کی اِیذا دَہی اور تکلیف رَسانی کی وجہ سے مکّہ مُعَظَّمہ سے ہجرت فرمائی ۔  مدینہ والوں نے جب یہ خَبَر سنی، دِلوں میں مَسَرَّت  آمیز اُمنگوں نے جوش مارا اور آنکھوں میں شادیٔ عِید کا نقشہ کھنچ گیا، آمَد آمَد کا اِنتِظار لوگوں کو آبادی سے نِکال کر پہاڑوں پر لے جاتا، مُنْتَظِر آنکھیں مکہ کی راہ کو جَہاں تک ان کی نَظَر پہنچتی، ٹکٹکی باندھ کرتکتیں اور مُشْتَاق دِل ہر آنے والے کو دُور سے دیکھ کر چونک پڑتے ، جب آفتاب گرم ہو جاتا گھروں پر واپَس آتے ۔  اسی کَیْفِیَّت میں کئی دِن گزَر گئے ، ایک دن اَور روز کی طرح وَقْت بے وَقْت ہو گیا تھا اور اِنتِظار کرنے والے حسرتوں کو سمجھاتے ، تمنّاؤں کو تسکین دیتے پَلَٹ چکے تھے کہ ایک یہودی نے بُلَندی سے آواز دی:اے راہ دیکھنے والو!پلٹو!تمہارا مَقْصُود بَر آیا اور تمہارا مَطْلَب پورا ہوا ۔ اس صَدا کے سنتے ہی وہ آنکھیں جن پر ابھی حَسْرَت آمیز حیرت چھا گئی تھی اَشکِ شادی بَرْسَا چلیں، وہ دِل جو مَایُوسی سے مُرجھا گئے تھے تَازْگی کے ساتھ جوش مارنے لگے ، بے قَرارانہ پیشوائی کوبڑھے ، پروانہ وار قُربان ہوتے آبادی تک لائے ، اب کیا تھا خوشی کی گھڑی آئی ، منہ مانگی مُراد پائی، گھر گھر سے نغماتِ شادی کی آوازیں بُلَند ہوئیں، لڑکیاں دَف بجاتی، خوشی کے لَہْجُوں میں مُبارَک باد کے گیت گاتی نکل آئیں :

طَـلَـعَ الْـبـَدْرُ عَـلَـیْـنَـا                                      مِـنْ ثَـنِـیَّـاتِ الْـوَدَاعٖ

وَجَبَ الشُّکْرُ عَـلَـیْـنَا                                           مَـا دَعَـا لِلّٰهِ دَاعٖ[2]

یعنی وَدَاع ۲کے ٹیلوں سے ہم پر ایک چاند طُلُوع ہوا جب تک اللہ سے دُعا مانگنے  والے دُعا مانگتے رہیں گے ہم پر خُدا کا شُکْر واجِب ہے ۔

سیرتِ مصطفے ٰ میں اس کے عِلاوہ یہ اَشعار بھی دَرْج ہیں:

اَیُّـھَـا الْـمَـبْـعُـوْثُ فِـیْـنَا                                 جِئْتَ بِالْاَمْرِ الْـمُطَاعٖ          

اَنْتَ شَـرَّفْتَ الْـمَدِیْـنَةَ                                      مَـرْحَـبًا یَا خَیْرَ دَاعٖ

یعنی اے وہ ذاتِ گرامی جو ہمارے اندر مَبْعُوث کئے گئے ! آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہ دین لائے ہیں جو اِطَاعَت کے قابِل ہے ، آپ نے مدینہ کو مُشَرَّف فرما دیا ، آپ کے لیے خوش آمدیدہے اے بہترین دعوت دینے والے !

 



[1]   ترمذی،ابواب صفة القيامة والرقائق والورع،۲۱- باب، ص۵۸۳،حدیث:۲۴۵۷

[2]    آئینۂ قیامت، ص ۲۷ تا  ۲۸

2    ثَنِيَّةُ الْوَدَاع:مدینہ شریف کے جنوب میں ایک گھاٹی کا نام ہے، جہاں تک اہلِ مدینہ اپنے مُعَزَّز مہمانوں کو رُخْصَت کرنے جایا کرتے تھے۔(معجم البلدان ، ص ۹۱)

 



Total Pages: 15

Go To