Book Name:Wo Hum Main Say Nahi

اِرشادفرمایا : ان کی باتوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔لوگوں نے عرض کی :  یارسولَ اللّٰہ صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !جو خبر وہ دیتے ہیں بعض اوقات وہ سچ نکلتی ہیں ۔اِرشاد فرمایا : وہ کلمہ جن سے سنا ہوا ہوتا ہے جسے جِنی اُچک لیتی ہے اور اپنے دوست( کاہن) کے کان میں اس طرح ڈال دیتی ہے جس طرح ایک مرغی دوسری مرغیوں کے کان میں آواز پہنچاتی ہے، پھر کاہِن اس کلمہ میں سو سے زیادہ جھوٹی باتیں مِلا دیتے ہیں ۔ (مسلم، کتاب السلام، باب تحریم الکھانۃ و اتیان الکھان، ص۱۲۲۴، حدیث : ۲۲۲۸)

سفید گدھا اس سے زیادہ نجوم جانتا ہے(حکایت )

         نصیر الدین طوسی جو کہ علمِ ریاضی کا بڑا ماہر گزرا ہے ایک ولی کی ملاقات کرنے گیا۔ کسی نے ان بزرگ سے عرض کی :  یہ دنیا کا اس وقت بہت بڑا عالم ہے انہوں نے پوچھا کہ اس میں کیا کمال ہے ؟کہا کہ علمِ نجوم میں کامل ماہر ہے۔ فرمایا : سفید گدھا اس سے زیادہ نجوم جانتا ہے۔ طوسی کو بہت ناگوار گزرا اور وہاں سے اٹھ گیا ، کمالِ اتفاق سے رات کو ایک چکی والے کے گھر پہنچا جس کے یہاں بہت سے گدھے پلے ہوئے تھے۔ گدھے والا بولا : آج سخت بارش ہوگی ، اندر آرام کرو ، طوسی نے پوچھا :  تجھے کیا خبر؟ اس نے کہا کہ جب میرا گدھا اپنی دم تین بار ہلاتا ہے تو سخت بارش ہوتی ہے ، آج اس نے دم ہلائی ہے۔ چنانچہ کچھ دیر بعد تیز بارش آگئی ۔ تب یہ نادم ہوا کہ واقعی گدھے بھی علم نجوم والے سے زیادہ واقفیت رکھتے ہیں ۔ ہوا میں اڑنا ، دریا پر چلنا ، بڑاعالم ہو جانا کوئی کمال نہیں ۔ مکھی بھی اڑتی ہے ، مچھلی بھی تیرتی ہے ، چیل آندھی کو اور مینڈک بارش کو پہلے سے ہی معلوم کر لیتے ہیں یہ اوصاف جانوروں میں بھی ہیں بڑا علم شیطان کو بھی تھا ۔ تصوُّف اور فقیری اطاعتِ مصطفی علیہ السلام سے حاصل ہوتی ہے ۔

ریاضت نام ہے تیری گلی میں آنے جانے کا      تصور میں ترے رہنا عبادت اس کو کہتے ہیں

تجھی کو دیکھنا تیری ہی سننا تجھ میں گم ہونا        حقیقت معرفت اہلِ طریقت اس کو کہتے ہیں

 (تفسیر نعیمی ، ۱/ ۵۱۵)

 نُجومی کو ہاتھ دکھانا

        بہت سے لوگ کاہنوں ، نُجومیوں ، پروفیسروں اور رَمل و جَف َر کے جھوٹے دعویداروں کے ہاں جا کر قسمت کاحال معلوم کرتے ہیں ، اپنا ہاتھ دکھاتے ہیں ، فالنامے نکلواتے ہیں ، پھر اس کے مطابق آئندہ زندگی کا لائحہ عمل بناتے ہیں ۔اس طرزِ عمل میں نقصان ہی نقصان ہے چنانچہ امامِ اہلسنّت مولانا احمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں : کاہِنوں اور جَوتِشیوں سے ہاتھ دکھا کر تقدیر کا بھلا بُرا دریافت کرنا اگر بطورِ اِعتقاد ہو یعنی جو یہ بتائیں حق ہے تو کفرِخالص ہے ، اسی کو حدیث میں فرمایا :   

  فَقَدْ کَفَرَ  بِمَا اُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ یعنی اس نے محمدصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نازل ہونے والی شے کا انکار کیا۔(ترمذی ، کتاب الطہارۃ، باب ماجاء فی کراہیۃاتیان الحائض، ۱/ ۱۸۵، حدیث : ۱۳۵)

اور اگر بطورِ  اِعتِقاد وتَیَقُّن (یعنی یقین رکھنے کے طور پر) نہ ہو مگر مَیل ورَغبت کے ساتھ ہو تو گناہِ کبیرہ ہے ، اسی کو حدیث میں فرمایا :  لَمْ یَقْبَلِ اللّٰہُ لَہُ صَلٰوۃَ اَرْبَعِیْنَ صَبَاحًا اللّٰہ  تَعَالٰی چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہ فرمائیگا، اور اگر ہَزْل واِستہزاء (یعنی ہنسی مذاق کے طور پر)ہو توعَبَث(یعنی بے کار) ومکروہ وحماقت ہے ، ہاں ! اگر بقصدِتَعْجِیْز (یعنی اسے عاجز کرنے کے لئے )ہو تو حَرَج نہیں ۔

                                                                                                (فتاویٰ رضویہ ، ۲۱/۱۵۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(7) جادو کرنے کروانے والا ہم سے نہیں

        رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیر، محبوبِ ربِّ قدیرصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان ہے :  لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَطَیَّرَاَوْ تُطُیِّرَلَہ اَوْ مَنْ تَکَہَّنَ اَوْ تُکُہِّنَ لَہ اَوْ مَنْ سَحَرَ اَوْسُحِرَ لَہُ یعنی جس نے بد شگونی لی یا جس کے لئے بد شگونی لی گئی ، یا جس نے کہانت  کی یا جس کے لئے کی گئی ، یا جادو کرنے اور کروانے والا ہم سے نہیں ۔ (مسند بزار، اول حدیث عمران بن حصین، ۹/ ۵۲، حدیث : ۳۵۷۸)

جادو کیا ہے ؟

        شریعت میں سحر (جادو)کے معنی ہیں خفیہ طور پر کسی چیز کو خلافِ اصل ظاہر کرنا۔ (تفسیر نعیمی، ۱/  ۵۷۱)جادو کی ایک تعریف یہ بھی ہے کہ کسی شریر اور بدکار شخص کا مخصوص عمل کے ذریعے عام عادت کے خلاف کوئی کا م کرناجادو کہلاتا ہے۔ (شرح المقاصد، المقصد السادس، الفصل الاول فی النبوۃ، ۵/۷۹)

بنی اسرائیل کو جادو سیکھنے سے روکا (حکایت )

        حضرتِ سیِّدُنا سلیمانعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل جادو سیکھنے میں مشغول ہوئے تو آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے ان کو اس سے روکا اور ان کی کتابیں لے کر اپنی کرسی کے نیچے دفن کردیں ۔حضرتِ سیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی وفات کے بعد شیاطین نے وہ کتابیں نکال کر لوگوں سے کہا کہ حضرتِ سیِّدُنا سلیمانعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اسی کے زور سے سلطنت کرتے تھے۔ بنی اسرائیل کے نیک لوگوں اور علما نے تو اس کا انکار کیا لیکن ان کے جاہل لوگ جادو کو حضرتِ سیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا علم مان کر اس کے سیکھنے پر ٹوٹ پڑے، انبیاء کرامعَلَیْہِم الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی کتابیں چھوڑ دیں اور حضرتِ سیِّدُنا سلیمانعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پر ملامت شروع کی۔ہمارے آقا محمد مصطفیصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زمانے تک یہی حال رہا اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   نے حضور اقدسصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ذریعے حضرتِ سیِّدُنا سلیمانعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی جادو سے بَرَائَ ت کا اِظہار فرمایا۔  (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ :  ۱۰۲، ۱ ؍۷۳)

        تفسیر صراط الجنان میں ہے : جادو فرمانبردار اور نافرمان لوگوں کے درمیان امتیاز کرنے اور لوگوں کی آزمائش کے لیے نازل ہوا ہے، جو اس کو سیکھ کر اس پر عمل کرے کافر ہوجائے گابشرطیکہ اُس جادو میں ایمان کے خلاف کلمات اور افعال ہوں اوراگر کفریہ کلمات و افعال نہ ہوں تو کفر کا حکم نہیں ہے۔(صراط الجنان، ۱/۱۷۹)

کسی نے جادو کروا دیا ہے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!گھر میں بیماری ، پریشانی یا بے رُوزگاری ہو تو آج کل اکثر وَسوسہ آتا ہے کہ شاید کسی نے جادو کر وادیا ہے، لہٰذابابا جی(تعویذ دھاگہ دینے والے)سے رابِطہ کیا جاتاہے ، بِالفرض باباجی بتادیں کہ تمہارے قریبی رشتے دار نے جادو کروایا ہے توعُمُوماًبہو یابھابھی کی شامت آجاتی ہے ۔ بعض اوقات بابا جی جادو کرنے والے یا والی کے نام کا پہلاحَرْف بلکہ نام ہی بتادیتے ہیں



Total Pages: 26

Go To