Book Name:Wo Hum Main Say Nahi

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ انہیں حضرات کا حصہ تھا۔ کاش! ہمیں بھی اپنے بزرگوں کے طریقوں پر چلنا نصیب ہوجائے۔ (فیضانِ سنّت ، ص ۴۶۲)

 سنت کی محبت(حکایت )

        حافظِ ملّت حضرت علامہ مولاناعبدالعزیزمبارک پوری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللہ القَوِی اپنے ہر عمل میں سنّت کابَہُت زیادہ خیال رکھتے تھے۔ایک بار حضرت رَحْمَۃُ  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے دائیں پاؤں میں زَخم ہوگیا، ایک صاحِب دوا لے کر پہنچے اورکہا : حضرت !دوا حاضِر ہے۔جاڑے(یعنی سردیوں )کا زمانہ تھا حضرت رَحْمَۃُ  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ مَوزہ پہنے ہوئے تھے، آپ رَحْمَۃُ  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے پہلے بائیں (یعنی اُلٹے)پاؤں کا مَوزہ اُتارا، وہ صاحِب بول پڑے : حضرت!زَخم تو داہنے(یعنی سیدھے)پاؤں میں ہے!آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا : بائیں (یعنی اُلٹے)پاؤں کاپہلے اُتارنا سنّت ہے۔

(نیکی کی دعوت، ص ۲۱۳)  

آلہ ِادائے سنت سے محبت اور تعظیم

        شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا دِل اتباع سنّت کے جذبہ سے معمور و سرشار ہے۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نہ صرف خود سنّتوں پر عمل کرتے ہیں بلکہ دیگر مسلمانوں کو بھی زیور سنّت سے آراستہ کرنے میں ہمہ تن مصروف عمل ہیں ۔ امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے کُرتے میں سینے کی طرف دو جیبیں ہوتی ہیں ۔ مسواک شریف رکھنے کیلئے آپ سینے کی بائیں جانب والی جیب کے برابر ایک چھوٹی سی جیب بنواتے ہیں ۔اس کی وجہ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے یہ ارشاد فرمائی :  میں چاہتا ہوں کہ یہ آلۂ ادائے سنّت میرے دل سے قریب رہے۔

عطارؔسے محبوب کی سنت کی لے خدمت

ڈنکا یہ تیرے دین کا دنیا میں بجا دے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(3) عورت کو اس کے خاوند کے خلاف ابھارنے والا ہم سے نہیں

        سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  لَیْسَ مِنَّا مَنْ خَبَّبَ اِمْرَأۃً عَلی زَوْجِہَا اَوْعَبْدًا عَلٰی سَیِّدِہٖیعنی جو عورت کو اس کے خاوند یاکسی غلام کو اس کے آقا کے خلاف اُبھارے وہ ہم سے نہیں ۔(ابوداؤد، کتاب الطلاق، باب فیمن خبب امر أۃعلی زوجہا، ۲/ ۳۶۹، حدیث : ۲۱۷۵)   

دو دلوں کو جوڑنے کی کوشش کرو

            مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : خاوند بیوی میں فساد ڈالنے کی بہت صورتیں ہیں :  عورت سے خاوند کی برائیاں بیان کرے دوسرے مردوں کی خوبیاں ظاہر کرے کیونکہ عورت کا دل کچی شیشی کی طرح کمزور ہوتا ہے یا ان میں اختلاف ڈالنے کے لیے جادو تعویذ گنڈے کرنے سب حرام ہے، اور غلام یا لونڈی کو بگاڑنے کے معنی یہ ہیں کہ اسے بھاگ جانے پر آمادہ کرے ، اگر وہ خود بھاگنا چاہیں تو ان کی اِمداد کرے ، بہرحال دو دلوں کو جوڑنے کی کوشش کرو توڑ و نہ۔( مراٰ ۃ المناجیح ، ۵/ ۱۰۱)

 بادشاہ اورلالچی عورت(حکایت )

         بنی اسرائیل میں ایک بہت عبادت گزار لکڑ ہارا (لکڑیاں بیچنے والا)تھا ، اس کی بیوی بنی اسرائیل کی حسین وجمیل عورتوں میں سے تھی، جب اس ملک کے بادشاہ کو لکڑ ہارے کی بیوی کے حسن وجمال کی خبر ملی تو اس کے دل میں شیطانی خیال آیا ، چنانچہ اس نے ایک بڑھیا کو اس لکڑہارے کی بیوی کے پاس بھیجا تاکہ وہ اسے ورغلائے اور لالچ دے کر اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ لکڑہارے کو چھوڑ کر شاہی محل میں اس کی ملکہ بن کر زندگی گزارے ۔ وہ مکار بڑھیا لکڑہارے کی بیوی کے پاس گئی اور اس سے کہا : تُو کتنی عجیب عورت ہے کہ ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے جو نہایت ہی مفلس اور غریب ہے جو تجھے آسائش و آرام فراہم نہیں کرسکتا، اگر تُو چاہے تو بادشاہ کی ملکہ بن سکتی ہے۔ بادشاہ نے پیغام بھیجا ہے کہ اگر تُو لکڑہارے کو چھوڑ دے گی تو مَیں تجھے اس جھونپڑی سے نکال کر اپنے محل کی زینت بناؤں گا، تجھے ہیرے جو اہرات سے آراستہ وپیراستہ کرو ں گا ، تیرے لئے ریشم اورعمدہ کپڑوں کا لباس ہوگا ۔ جب اس عورت نے یہ باتیں سنیں تولالچ میں آگئی اور اس کی نظروں میں بلند و بالا محلات اور اس کی آسائشیں گھومنے لگیں ۔چنانچہ اس نے لکڑہارے سے بے رُخی اِختیار کرلی اور ہر وقت اس سے ناراض رہنے لگی، بالآخر لکڑہارے نے مجبوراً اس بے وفالالچی عورت کو طلاق دے دی ۔وہ خوشی خوشی بادشاہ کے پاس پہنچی اوراس سے شادی کر لی ۔ جب بادشاہ اپنی نئی دلہن کے پاس حجلہ عروسی میں پہنچا ِتواس کی بینائی جاتی رہی ، ہاتھ خشک(یعنی بے کار) ، زبان گونگی اور کان بہرے ہوگئے ، عورت کا بھی یہی حال ہوا ۔ جب یہ خبر اس دور کے نبی عَلَیْہِ السَّلام کو پہنچی اور انہوں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   کی بارگاہ میں ان دونوں کے بارے میں عرض کی تو ارشاد ہوا : میں ہر گز ان دونوں کو معاف نہیں کرو ں گا، کیا انہوں نے یہ گمان کرلیا کہ جو حرکت انہوں نے لکڑہارے کے ساتھ کی میں اس سے بے خبر ہوں ؟(عیو ن الحکایات، ص۱۲۲)

تُوکتنا اچھا ہے!(حکایت )

         حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرورِ عالم صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : شیطان پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے ، پھر اپنے لشکر بھیجتا ہے ۔  ان لشکروں میں ابلیس کے زیادہ قریب اس کا درجہ ہوتا ہے جو سب سے زیادہ فتنہ باز ہوتاہے ۔ ایک لشکر واپس آکر بتاتا ہے کہ میں نے فلاں فتنہ برپا کیا تو شیطان کہتا ہے :  تونے کچھ بھی نہیں کیا۔پھر ایک اور لشکر آتا ہے اور کہتا ہے : میں نے ایک آدمی کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہیں ڈال دی ۔یہ سن کر ابلیس اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے : تُوکتنا اچھا ہے !اور اپنے ساتھ چمٹا لیتا ہے ۔(مسلم، کتاب صفۃ القیامۃ۔۔۔الخ، باب تحریش الشیطان۔۔الخ، ص۱۵۱۱، حدیث : ۲۸۱۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(4) ناحق قبضہ جمانے والا ہم سے نہیں

 



Total Pages: 26

Go To