Book Name:Wo Hum Main Say Nahi

        حضرت سیّدتنا اُمِّ دَرداء رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ا فرماتی ہیں کہ حضرت سیّدنا ابودرداء رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ جب بھی بات کرتے تو مسکراتے ۔ میں نے سیّدنا ابو درداء رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے عرض کی :  آپ اس عادت کو ترک فرما دیجئے ورنہ لوگ آپ کو احمق سمجھنے لگیں گے۔ حضرت سیّدنا ابودرداء  رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا :  میں نے جب بھی رسول ُاللّٰہصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بات کرتے دیکھا یا سنا آپ صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مسکراتے تھے۔                 (مسند احمد، مسند الانصار، باقی حدیث ابی الدرداء ، ۸/ ۱۷۱، حدیث :  ۲۱۷۹۱)

جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں

                    اُس تبسُّم کی عادت پہ لاکھوں سلام     (حدائقِ بخشش شریف)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

مسلمان بھائی کے لئے مسکرانا صدقہ ہے

        سَرْ وَرِ کائنا ت، شاہِ موجوداتصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ رَحمت نشان ہے :  اپنے بھائی سے مُسکرا کر مِلنا تمہارے لیے صَدَقہ ہے اور نیکی کی دعوت دینا اور بُرائی سے مَنع کرنا صَدَقہ ہے۔(ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی صنائع المعروف، ۳/ ۳۸۴، حدیث : ۱۹۶۳)

       شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اس روایت کو نَقْل کرنے کے بعد ’’نیکی کی دعوت‘‘ صفحہ 245پر لکھتے ہیں :  بیان کردہ حدیثِ مبارَکہ میں مُسکرا کر ملنے، نیکی کی دعوت دینے اور بُرائی سے مَنْع کرنے کو صَدَقہ کہا گیا ۔سُبْحٰن اللّٰہمُسکرا کر ملنے کی تو کیا بات ہے! مسکر اکرملنا، مسکرا کر کسی کو سمجھانا عُمُوماً نیکی کی دعوت کے مَدَنی کام کو نہایت سَہل و آسان بنا دیتا اور حیرت انگیز نتائج کا سبب بنتا ہے۔ جی ہاں !آپ کی معمولی سی مُسکراہٹ کسی کا دل جیت کر اُس کی گناہوں بھری زندَگی میں مَدَنی انقِلاب برپا کر سکتی ہے اورملتے وَقت بے رُخی اور لاپرواہی سے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے ہاتھ ملانا کسی کا دل توڑ کر اُس کومَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  گمراہی کے گہرے گڑھے میں گر اسکتا ہے، لہٰذا جب بھی کسی سے ملیں ، گفتگو کریں اُس وَقت حتَّی الامکان  مُسکراتے رہئے۔ اگر خُشک مزاجی یا بے توجُّہی سے ملنے کی خصلت ہے تو مِلنساری اورمُسکرا کر ملنے کی عادت بنانے کیلئے خوب کوشِش کیجئے، بلکہ مُسکرانے کی عادت پکّی کرنے کیلئے ضَرورتاً کسی کی ذِمّے داری بھی لگایئے کہ وہ دوسروں سے

 بات کرتے ہوئے آپ کا منہ پھولا ہوا یا سَپاٹ مَحسوس کرے تو گاہے بہ گا ہے یاد دِہانی کروا تے ہوئے کہتا رہے یا آپ کو اِس طرح کی تحریر دکھا دیاکرے : ’’ بات کرتے ہوئے مُسکرانا سنَّت ہے۔‘‘(ماخوذ از’’ نیکی کی دعوت‘‘ ص۲۴۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

سرکار کی پسند اپنی پسند(حکایت )

        حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی ہے کہ ایک درزی نے رسول اللّٰہ صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دعوت کی ، (حضرت سیّدنا اَنَس رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : )آپ صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ میں بھی دعوت میں شریک ہو گیا، درزی نے آپ عَلَیْہ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَامکے سامنے روٹی ، کدّو (لوکی شریف) اور گوشت کا سالن رکھا ۔میں نے دیکھا نبیٔ کریم صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ برتن سے کدّو شریف تلاش کر کے تناوُل فرمارہے ہیں (اس کے بعدآپ رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اپنا عمل بتاتے ہوئے فرماتے ہیں ) فَلَمْ اَ زَلْ اُحِبُّ الدُّبَّاءَمِنْ یَوْمِئِذٍ یعنی اس دن کے بعد میں کدّو شریف کو پسند کرتا ہوں ۔ (بخاری، کتاب البیوع ، باب ذکر الخیاط، ۲/ ۱۷، حدیث :  ۲۰۹۲)

سنت پر عمل کا جذبہ (حکایت )

        حضرتِ سیِّدُنا عبدا لوہّاب شَعرانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی نَقْل کرتے ہیں :  ایک بار حضرت ِسیِّدنا ابو بکر شبلی بغدادی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادی کو وُضو کے وَقت مِسواک کی ضَرورت ہوئی، تلاش کی مگر نہ ملی، لہٰذا ایک دِینار (یعنی ایک سونے کی اشرفی) میں مِسواک خرید کر استعمال فرمائی۔ بعض لوگوں نے  کہا :  یہ تو آپ نے بَہُت زیادہ خرچ کر ڈالا! کہیں اتنی مہنگی بھی مِسواک لی جاتی ہے؟ فرمایا : بیشک یہ دنیا اور اس کی تمام چیزیں  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   کے نزدیک مچھّر کے پرکے برابر بھی حیثیَّت نہیں رکھتیں ، اگر بروزِ قِیامت  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   نے مجھ سے یہ پوچھ لیا کہ تو نے میرے پیارے حبیب کی سنّت (مِسواک) کیوں تَرْک کی؟ جو مال و دولت میں نے تجھے دیاتھااُس کی حقیقت تو(میرے نزدیک)  مچھر کے پَر کے برابر بھی نہیں تھی ، تو آخر ایسی حقیر دولت اِس عظیم سنّت ( مِسواک) کو حاصل کرنے پر کیوں خرچ نہیں کی؟تو میں کیا جواب دوں گا !  (مُلَخَّص ازلواقح الانوارالقدسیۃ، ص۸۳)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ ہمارے اَسلاف سُنتوں سے کِس قَدر پیار کرتے تھے! حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر شبلی رَحْمَۃُ  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک دِینار (یعنی سونے کی اشرفی) پیارے آقا صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سُنت مِسواک پر قُربان کردیا اورایک ہم ہیں کہ عشقِ رسول کا دعویٰ توکرتے ہیں مگر سنّتوں پر عمل کا کوئی جذبہ نہیں ہوتا ۔ہمارے اَسلاف رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلام تو پیارے آقا، مدینے والے مصطفی صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنّتوں کے ایسے پابند تھے کہ ان کے نزدیک کسی سنّت کا انجانے میں رہ جانا بھی قابلِ کَفَّارہ تھا چنانچہ

سنّت کے قدردان(حکایت )

        شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال  محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز تالیف فیضانِ سُنّت جلد اوّل میں فرماتے ہیں :  ’’کیمیائے سعادت‘‘ میں ہے، ایک بزرگ نے ایک بار سنّت کے مطابق سیدھی جوتی سے پہننے کا آغاز کرنے کے بجائے بے خیالی میں الٹی جوتی پہلے پہن لی اس سنت کے رہ جانے پر انہیں سخت صدمہ ہوا اور اس کے عوض انہوں نے گیہوں کی دو بوریاں خیرات کیں ۔

 



Total Pages: 26

Go To