Book Name:Wo Hum Main Say Nahi

استعمال ہوتی۔ یہ خبر گَوَیے کو پہنچی اس نے سچی توبہ کی اور حضرت سیِّدُناابن مسعود (رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ )کے ساتھ رہنے لگا حتّٰی کہ قراٰن کریم کا عالِم و قاری ہوگیا۔(مرقات)(مراۃ المناجیح ، ۳/  ۲۷۰)

یہی ہے آرزو تعلیمِ قرآن عام ہوجائے

تلاوت کرنا میرا کام صبح وشام ہوجائے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(2)جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی وہ ہم سے نہیں

        رسولِ اکرم ، نُورِمُجَسَّمصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْیعنی جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں ۔

 (بخاری، کتاب النکاح، باب الترغیب فی النکاح، ۳/ ۴۲۱، حدیث : ۵۰۶۳)  

مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : جو کسی سنت کو بُرا جانے وہ اسلام سے خارِج ہے یا جو بلا عُذْر ترک ِسنت کا عادی ہوجائے وہ میرے پرہیزگاروں کی جماعت سے خارِج ہے۔ (مراۃ المناجیح، ۱/ ۱۵۱)

حدیث میں ’’ سنت‘‘ سے کیا مراد ہے ؟

        حضرتِ علامہ بدرُ الدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللہ القَوِی  اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں :  اس حدیث میں سنت سے مراد طریقہ ہے اور طریقہ فرض ، نفل ، اعمال اور عقائد سب کو شامل ہے ۔ (عمدۃ القاری، کتاب النکاح، باب الترغیب فی النکاح، ۱۴/ ۵، تحت الحدیث : ۵۰۶۳)

سنت کسے کہتے ہیں ؟

        سنت کا لُغوی معنی طریقہ و راستہ ہے، حضرت علامہ سیّد شریف جُرجانی حنفی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللہ القَوِی فرماتے ہیں :  شرعی طور پر سنّت اس دینی طریقے کو کہتے ہیں کہ جو فرض اور واجب نہ ہو اور نبی صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس پر مَوَاظَبَت (ہمیشگی) فرمائی ہو لیکن کبھی کبھار ترک بھی فرمادیا ہو۔ اگر وہ مَوَاظَبَت (ہمیشگی) عبادت کی غرض سے ہو تو اسے سننِ ہُدیٰ (یعنی سنّتِ مؤکدہ )کہتے ہیں اور اگر مَوَاظَبَت (ہمیشگی) عادت کے طور پر ہو تو اسے سننِ زوائد کہتے ہیں ۔ پس سنّت ِہُدیٰ (یعنی سنّتِ مؤکدہ ) وہ ہے کہ جس پر تکمیلِ دین کے لئے عمل کیا جاتا ہو اس کا ترک مکروہ یا اِسَاء َت (یعنی بُرا) ہوتا ہے۔ جبکہ سُننِ زَوَائِد (یعنی سنّتِ غیر مؤکدہ ) وہ ہیں کہ جن پر عمل کرنا محمود اور اچھا ہوتا ہے ان کے ترک میں کراہت اور اِسَاء َت (یعنی برائی) نہیں ہوتی جیسا کہ  اٹھنے بیٹھنے ، کھانے پینے اور لباس میں نبیٔ اکرم صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے طریقے کو اپنانا۔ (التعریفات، ص ۸۸) 

سنت کی اقسام

         میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سنت کی قسمیں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :  سنت ہدٰی(یعنی سنت مؤکدہ )اس کے ترک سے اساء ت وکراہت لازم آتی ہے مثلاً جماعت ، اذان اور تکبیر وغیرہ، سنتِ زوائد( یعنی سنت غیرمؤکدہ ) اس کے ترک سے اساء ت وکراہت لازم نہیں آتی مثلاً آپ صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کالباس پہننا، نَفْل ومَندوب کامعاملہ بھی یہی ہے اس کے کرنے والے کوثواب ہوگا مگر تارک گنہگار نہیں ، فقہا نے بعض اوقات سنتِ زوائد کی مثال نماز میں آپصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاقرأت، رکوع اور سجودکولمباکرنا بھی دی ہے جب وہ ( یعنی سنت)دین اور شعائردین کاحصہ نہیں توانہیں سنت ِزوائدکہاجاتاہے بخلاف سنت ہدٰی کے، وہ سنن مؤکدہ ہوتی ہیں جو واجب کے قریب ہیں ان کا تارِک گمراہ ہے  واﷲتعالٰی اعلم۔ (فتاوی رضویہ مخرجہ، ۷/  ۳۹۴ملخصاً)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

سنّت پر عمل کی برکت سے مغفرت ہوگئی(حکایت )

        حضرت سیِّدُنا امام ابوعبداللّٰہ شمس الدین محمدبن احمد ذَہبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللہ القَوِی نقل فرماتے ہیں :  حضرت سیِّدُنا علی بن حسین بن جَدَّاء عُکْبَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللہ القَوِی  نے حضرت سیِّدُنا ہِبَۃُ اللّٰہ طَبَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللہ القَوِی  کو خو اب میں دیکھ کر پوچھا :  مَا فَعَلَ اللّٰہُ بِکَیعنی اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   نے آپ کے ساتھ کیامعاملہ فرمایا؟جواب دیا : اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   نے میری مغفرت فرمادی ۔عرض کی : کس سبب سے؟ تو انھوں نے راز دارانہ انداز میں کہا : سنّت کی وجہ سے۔(سیراعلام النبلاء، اللالکائی(ہبۃ اﷲ بن الحسن) ، ۱۳/ ۲۶۹، رقم : ۳۷۸۸)   

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے سنّت پر عمل کرنا مغفرت کا ذریعہ بن گیا۔ یقیناً کامیاب و کامران ہے وہ جوفرائض وواجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ نبیٔ کریم صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنّتوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے۔

ثواب کے حق دار بنئے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے معمولات میں سے کئی کام ایسے ہیں جنہیں اگر سنّت کے مطابق کیا جائے تو ہم ثواب کے حقدار بن سکتے ہیں مثلاً سنت کے مطابق کھانا پینا ، چلنا پھرنا ، سونا جاگنا، مسواک کرنا، لباس پہننا، جوتے پہننااور اُتارنا، تیل لگانا، ناخن کاٹنا، گفتگو کرنا وغیرہ ، اللّٰہ تعالٰی ہم سب کو سنت سے محبت عطا فرمائے۔ سنت سے محبت کے کیاکہنے! چنانچہ

جنت میں آقا  صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا پڑوس 

        رسولِ بے مثال ، صاحبِ جُودو نَوالصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان جنت نشان ہے : جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔(مشکاۃ المصابیح ، کتاب الایمان، ۱/ ۵۵، حدیث : ۱۷۵)

بات کرتے وقت مسکرایا کرتے (حکایت )

 



Total Pages: 26

Go To