Book Name:Wo Hum Main Say Nahi

        مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان ایک اور مقام پر فرماتے ہیں : جس کپڑے کا تانا(سوت کے تاگے جو کپڑا بننے میں لمبائی کی طرف ہو ں )، بانا(سوت کے تاگے جو کپڑا بننے میں چوڑائی کی طرف ہوں ، ) یا صرف بانا ریشم کا ہو وہ مرد کو پہننا حرام ہے عورت کو حلال اور جس کا تانا ریشم کا ہو بانا سوت کا یا اون کا اس کا پہننا مردکو بھی حلال ہے۔ریشم سے مراد کیڑے کا ریشم ہے، دریائی ریشم یا سن کا ریشم سب کو حلال ہے کہ وہ حریرودیباج نہیں ۔(مراۃ المناجیح ، ۶/ ۷۴)

تمہارے لئے آخرت میں ہیں

        رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّمصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان عالیشان ہے : حریر اور دیباج نہ پہنو اور نہ سونے اور چاندی کے برتن میں پانی پیو اور نہ ان کے برتنوں میں کھانا کھاؤ کہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور تمہارے لئے آخرت میں ہیں ۔(بخاری، کتاب الاطعمہ، باب الاکل فی اناء مفضّض، ۳/ ۵۳۵، حدیث : ۵۴۲۶)

چاندی کا برتن پھینک دیا!

         حضرت ِسیِّدُنا حذیفہرَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو چاندی کے برتن میں پانی پیش کیا گیا، انہوں نے اس کو اٹھا کر پھینک دیا اور فرمایا : رَّسُول اللہ صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ریشم، دیباج ، سونے اور چاندی کے برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ (ابوداود، کتاب الاشربۃ، باب فی الشرب فی آنیۃ الذھب والفضۃ ، ۳/ ۴۷۳، حدیث : ۳۷۲۳)   

  ’’غوث ‘‘کے تین حروف کی نسبت سے سونے اورچاندی کے برتنوں کے تین اہم مسائل

 (۱)سونے چاندی کے برتن میں کھانا پینا اور ان کی پیالیوں سے تیل لگانا یا ان کے عطر دان سے عطر لگانا یا ان کی انگیٹھی سے بخور کرنا (یعنی دھونی لینا)منع ہے اور یہ ممانعت مرد و عورت دونوں کے لیے ہے۔ عورتوں کو ان کے زیور پہننے کی اجازت ہے۔ زیور کے سوا دوسری طرح سونے چاندی کا استعمال مرد و عورت دونوں کے لیے ناجائز ہے۔  

 (۲)سونے چاندی کے چمچے سے کھانا، ان کی سلائی یا سرمہ دانی سے سرمہ لگانا، ان کے آئینہ میں منہ دیکھنا، ان کی قلم دوات سے لکھنا، ان کے لوٹے یا طشت سے وضو کرنا یا ان کی کرسی پر بیٹھنا، مرد عورت دونوں کے لیے ممنوع ہے۔

 (۳)سونے چاندی کی آرسی(ایک زیور جو عورتیں ہاتھ کے انگوٹھے میں پہنتی ہیں ، اس میں شیشہ جڑا ہوتا ہے)پہننا عورت کے لیے جائز ہے، مگر اُس آرسی میں منہ دیکھنا عورت کے لئے بھی ناجائز ہے۔

(بہار شریعت، ۳/ ۳۹۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(26) جو مسلمان کاحق نہ جانے وہ ہم سے نہیں

        رسولِ اکرم ، نُورِمُجَسَّمصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان ہے :  لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَیُوَقِّرْ کَبِیْرَنَا وَیَعْرِفْ لَنَا حَقَّنَا یعنی جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے ، ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے اور مسلمان کاحق نہ جانے وہ ہم سے نہیں ۔(المعجم الکبیر، ۱۱/  ۳۵۵، حدیث : ۱۲۲۷۶)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقینا مسلمان کے حقوق نہایت اہم ہیں ، مسلمانوں سے ہمارے کئی طرح کے تعلقات ہوتے ہیں مثلاًباپ، بیٹا، بھائی، ماموں ، چچا ، پڑوسی ، ملازم وغیرہا۔ہر ایک کے اعتبار سے ہمیں ان کے حقوق کو ادا کرناہے، جہاں شریعتِ مُطَہَّرہ نے مسلمانوں کی عزت و عظمت اورمقام و مرتبہ بیان کیا ہے وہیں ان کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیااور کچھ حقوق گنوائے ہیں ۔چنانچہ

 مسلمانوں کے چھ حقوق

        خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمینصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں (۱)جب وہ بیمار ہو تو عیادت کرے (۲)جب وہ مرجائے تواس کے جنازہ پرحاضر ہو (۳)جب دعوت کرے تواس کی دعوت قبول کرے (۴)جب وہ ملاقات کرے تو اس کو سلام کرے (۵)جب وہ چھینکے تو جواب دے۔  [1]؎  (۶)اس کی غیر حاضری اور موجودگی دونوں صورتوں میں اس کی خیر خواہی کرے۔(ترمذی، کتاب الأدب، باب ما جاء فی تشمیت العاطس، ۴/ ۳۳۸، حدیث :  ۲۷۴۶)     

(27)  میں دنیا سے اور دنیا مجھ سے نہیں

        رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیر، محبوبِ ربِّ قدیرصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : لَسْتُ مِنَ الدُّنْیَا وَلَیْسَتْ مِنِّییعنی میں دنیا سے اور دنیا مجھ سے نہیں ۔ (فردوس الاخبار، ۲/ ۲۱۴، حدیث : ۵۳۲۲)

دنیا لعنتی چیز ہے

        سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمارصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ عالیشان ہے : ہوشیار رہو دنیا لعنتی چیز ہے اور جو دنیا میں ہے وہ لعنتی ہے سوائے اللّٰہ تَعَالٰی کے ذکر کے اور اس کے جو رب کے قریب کردے اور عالم کے اور طالب علم کے۔ (ترمذی، کتاب الزھد، باب ما جاء فی ھوان الدینا علی اللہ، ۴/ ۱۴۴، حدیث :  ۲۳۲۹)

دنیا کیا ہے ؟

       مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّانحدیث پاک کے اس حصے ’’جو دنیا میں ہے وہ لعنتی ہے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : جو چیز اللّٰہورسول سے غافل کردے وہ دنیا ہے یا جواللّٰہو رسول کی ناراضی کا سبب ہو وہ دنیا ہے، بال بچوں کی پرورش، غذا لباس، گھر وغیرہ حاصل کرنا سنتِ انبیاء کرام ہے یہ دنیا نہیں ۔اس معنی (یعنی جو اللّٰہورسول سے غافل کردے)سے واقعی دنیا اور دنیا والی چیزیں لعنتی ہیں ۔(حدیث پاک کے اس حصے’’سوائے اللّٰہ  تَعَالٰی کے ذکر کے ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : ) یہ چیزیں دنیا نہیں ہیں ۔اللّٰہ کے ذکر سے مراد ساری عبادات ہیں ۔   

 



 1     چھینک کا جواب جب دیا جائے جب کہ وہ چھینکنے والا ’’ اَلْحَمْدُ ﷲِ‘‘ کہے ، تو سننے والا کہے : ’’یَرْحَمُکَ اللّٰہُ ‘‘، پھر چھینکنے والا کہے: ’’یَھْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ‘‘۔  (مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۳۱۵)                                                                                                                                                                                                                                               



Total Pages: 26

Go To