Book Name:Wo Hum Main Say Nahi

        حضرت سیِّدُناجنادہ بن ابو امیۃرَحْمَۃُ  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : حسد وہ پہلا گناہ ہے جس کے ذریعے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   کی نافرمانی کی گئی، ا بلیس ملعون نے حضرت سیِّدُنا آدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو سجدہ کرنے کے معاملے میں اُن سے حسد کیا، پس اسی حسد نے ابلیس کو نافرمانی پراُبھارا۔(درمنثور، پ۱، البقرۃ، تحت الآیۃ : ۳۴، ۱/ ۱۲۵)

سایہ عرش میں کس کودیکھا؟

        حضرت سیِّدُناعمرو بن میمون رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ جب حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ  علی نبیناوعلیہ الصلوۃ والسلام نے ایک شخص کو عرش کے سائے میں دیکھاتواس کے مقام ومرتبہ پرانہیں بہت رشک آیا اور فرمانے لگے یقینایہ شخص  اللّٰہعَزَّوَجَلَکے ہاں بزرگی والاہے۔پس آپ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلامنے اللّٰہعَزَّوَجَل کی بارگاہ میں اس کانام جاننے کے لئے عرض کی تواللّٰہعَزَّوَجَلنے ارشاد فرمایا : بلکہ میں تمہیں اس کا عمل بتاتا ہوں (جس کے سبب اسے یہ مقام ملا)میں نے اپنے بندوں کو اپنے فضل سے جونعمتیں عطافرمائی ہیں یہ شخص ان پر حسد نہیں کرتا تھا ، چغلی نہیں کھاتا تھااور اپنے والدین کی نافرمانی نہیں کرتا تھا۔(حلیۃ الاولیاء، عمرو بن میمون، ۴/ ۱۶۳، حدیث : ۵۱۲۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

چغلی کیا ہے؟

        حضرتِ علامہ بدرالدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللہ القَوِی نے’’بخاری شریف‘‘کی شرح میں نقل فرمایا کہ’’ کسی کی بات کودوسرے آدمی تک پہنچانے اور فساد پھیلانے کیلئے بیان کرنا چغلی ہے۔‘‘(عمدۃ القاری، کتاب الوضو  ء، باب من الکبائر ۔۔۔الخ، ۲/ ۵۹۴، تحت الحدیث : ۲۱۶)

چغلی کا عذاب

        خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمینصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جھوٹ سے منہ کالا ہوتااور چغلی سے قبر کا عذاب ہوتا ہے۔(شعب الایمان، باب فی حفظ اللسان، ۴/ ۲۰۸، حدیث : ۴۸۱۳)

چغل خوری کا وبال

        حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیماللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے میں سخت قحط پڑگیا۔ آپ عَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بنی اسرائیل کی ہمراہی میں بارش کے لئے دعا مانگنے چلے لیکن بارش نہ ہوئی آپ عَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے تین دن تک یہی معمول رکھا لیکن بارش پھر بھی نہ ہوئی۔ پھر اللّٰہتبارک و تَعَالٰی کی طرف سے وحی نازل ہوئی کہ اے موسیٰ! میں تمہاری اور تمہارے ساتھ والوں کی دعا قبول نہیں کروں گا کیونکہ ان میں ایک چغل خور ہے۔ حضرت سیِّدُنا موسیٰ   کلیماللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عرض کی :  ’’اے پروردگار عَزَّوَجَلَّ  ! وہ کون ہے تا کہ ہم اسے یہاں سے نکال دیں ۔‘‘ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی طرف سے جواب ملا :  ’’اے موسیٰ! میں تو بندوں کو اس سے روکتا ہوں ۔‘‘ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیماللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بنی اسرائیل کو حکم فرمایا کہ تم سب بارگاہِ رب العزت میں چغلی سے توبہ کرو۔ جب سب نے توبہ کی تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  نے انہیں بارش عطا فرمادی۔  

       (احیاء علوم الدین، کتاب الاذکار والدعوات، الباب الثانی، ۱/ ۴۰۷)

محبت کے چور سے بچئے!

        کسی دانا کا قول ہے : چغل خوری دلوں میں دشمنی پیدا کرتی ہے اور جس نے تمہاری چغلی کی بے شک اس نے تمہیں گالی دی اور جو تمہارے سامنے کسی کی چغلی کرتاہے وہ تمہاری بھی چغلی کر تا ہوگا چغل خورجس کے سامنے چغلی کر تا ہے اس کے لئے جھوٹ بولتاہے اور جس کی چغلی کرتاہے اس سے بد دیا نتی کرتا ہے ۔شعر

اِحْفَظْ لِسَانَکَ لَاتُؤْذِیْ بِہِ اَحَدً ا        مَنْ قَالَ فِی النَّاسِ عَیْبًا قِیْلَ فِیْہِ بِمِثلِہِ

ترجمہ : اپنی زبان کی حفاظت کر، اس کے ذریعے کسی کوبھی تکلیف نہ دے ، کہ جوشخص لوگوں پرعیب لگاتاہے ، اس پربھی عیب لگائے جاتے ہیں ۔(بحر الدموع، تحریم الغیبۃوالنمیمۃ، ص۱۸۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(25) ریشم کے لباس اور چاندی کے برتنوں کا استعمال

   سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان ہے :  مَنْ لَبِسَ الْحَرِیْرَ وَشَرِبَ فِی الْفِضَّۃِ فَلَیْسَ مِنَّایعنی جو ریشم پہنے اور چاندی کے برتنوں میں پئے وہ ہم سے نہیں ۔

(المعجم الاوسط، ۳/ ۳۵۷، حدیث : ۴۸۳۷)

دنیا میں ریشم پہننے والا آخرت میں محروم رہے گا

       حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جو دنیا میں ریشم پہنے گا، وہ آخرت میں نہیں پہنے گا۔

(بخاری، کتاب اللباس، باب لبس الحریر...إلخ، ۴/ ۵۹، حدیث : ۵۸۳۴)

جنتیوں کا لباس

مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یعنی جو مسلمان ناجائز ریشم پہنے وہ اولًا ہی جنت میں نہ جاسکے گا کیونکہ ریشم کا لباس ہر جنتی کو ملے گا وہاں پہنچ کر، رب  تَعَالٰی فرماتا ہے :

  وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ(۲۳)

( ترجمہ کنز الایمان : اور وہاں ان کی پوشاک ریشم ہے ۔ (پ۱۷، الحج : ۲۳)

 بعض صورتوں میں اور بعض ریشم مرد کو حلال ہیں ان کے پہننے پر سزا نہیں ۔ خیال رہے کہ کیڑے کا ریشم مرد کو حرام ہے، دریائی ریشم یا سن سے بنا ہوا نقلی ریشم حلال ہے کہ وہ ریشم نہیں ۔

(مراۃ المناجیح

Total Pages: 26

Go To